بی جے پی کی انتہاپسندانہ پالیسیاں اپنے ہی لوگوں کو نگلنے لگیں‘ منی پور جیسے علاقے ہاتھ سے نکلنے لگے

منی پور (آن لائن)منی پور کے متعدد اضلاع میں معمولاتِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے‘ بی جے پی کی انتہاپسندانہ پالیسیاں اپنے ہی ملک کے لوگوں کو نگلنے لگی ہیں اور منی پور جیسے علاقے ہاتھ سے نکل رہے ہیں۔بھارت میں اقلیتیں اپنے بنیادی حقوق اور بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں ۔مودی سرکار کے تیسرے دورِ اقتدار میں بھارت کو شدید نسلی، لسانی اور مذہبی تعصبات کا سامنا ہے۔ بی جے پی کی انتہاپسندانہ پالیسیاں اپنے ہی ملک کے لوگوں کو نگلنے لگی ہیں اور منی پور جیسے علاقے ہاتھ سے نکل رہے ہیں۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ کئی روز سے امفال وادی میں دوبارہ کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور بھارتی افواج نے پورے علاقے کا محاصرہ کیا ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق منی پور میں طلبا اور بھارتی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد منی پور کے ککی کمیونٹی پر مشتمل دو بڑے اضلاع کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا اور کرفیومیں مزید سختی لائی جا رہی ہے، ککی ذو تنظیم نے بھی جمعے کے روز سے غیر معینہ مدت کے لئے حکومت اور بھارتی فورسز کے خلاف پوری ریاست میں احتجاج جاری رکھنے کا اعلامیہ جاری کر رکھا ہے، منی پور کے دو اضلاع میں تعلیمی اداروں کو بھی مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے، اس سے قبل بھارتی فورسز اور علیحدگی پسندوں کے درمیان شدید لڑائی چلتی رہی ہے جس میں علیحدگی پسندوں کی طرف سے راکٹوں اور ڈرون ٹیکنالوجی کے ساتھ وادی میں حملے کیے گئے تھے۔منی پور کا تنازع گزشتہ برس سے لیکر اب تک ہزاروں لوگوں کی جانیں لے چکا ہے اور لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں ۔ مودی سرکار اپنے مذموم سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے منی پور میں انتہاپسندی کو فروغ دے رہی ہے۔

Comments are closed.