اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے ڈی چوک احتجاج کیس میں بانی پی ٹی آئی کی بہنوں علیمہ اور عظمیٰ خان کے جسمانی ریمانڈ اور ویڈیو چلانے کی استدعا مسترد کر دی اور درخواست ضمانت پر دلائل 19 اکتوبر کو طلب کر لیے ۔جج نے وکلاء صفائی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا عدالت ایک یو ایس بی کے ریکارڈ پر انحصار کر سکتی ہے؟ آپ نے یو ایس بی پولیس یا تفتیشی افسر کو دی؟ میں جسمانی ریمانڈ میں توسیع کر دیتا ہوں، پولیس یو ایس بی کو چیک کر لیتی ہے۔وکیل عثمان گِل نے یو ایس بی میں موجود ویڈیو عدالت میں چلانے کی استدعا کی۔جج طاہر عباس سِپرا نے یو ایس بی میں موجود فوٹیجز کمرہ عدالت میں چلانے کی استدعا مسترد کر دی۔وکیل عثمان گِل نے کہا کہ میرے دلائل اس یو ایس بی میں موجود فوٹیجز پر منحصر ہیں۔
جج طاہر عباس سپرا نے پراسیکیوٹر راجا نوید سے استفسار کیا کہ آپ کو ریمانڈ کیوں چاہیے؟ آپ نے علیمہ خان اور عظمیٰ خان سے 8 روز میں کیا برآمدگی کی؟پراسیکیوٹر نے کہا کہ جو اداروں کے خلاف سازش کی گئی اس تک پہنچنے کے لیے مزید جسمانی ریمانڈ چاہیے، عظمیٰ خان اور علیمہ خان سے بارود اور دھماکا خیز مواد برآمد کرنا ہے۔جج طاہر عباس سِپرا نے علیمہ خان کو بولنے سے روکتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو بولنے کا وقت دوں گا، جج طاہر عباس سِپرا نے پراسیکیوٹر سے کہا کہ جتنا جسمانی ریمانڈ لیں گے اتنا ریکارڈ لکھنا ہو گا۔جج طاہر عباس سپرا نے علیمہ خان سے کہا کہ علیمہ بی بی آپ کیا کہنا چاہتی ہیں؟ علیمہ خان نے کہا کہ جج صاحب ہمیں صرف انصاف چاہیے۔جج طاہر عباس سِپرا نے علیمہ خان اور عظمیٰ خان کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی۔عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی بہنوں علیمہ خان اور عظمیٰ خان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔دوسری جانب ڈی چوک احتجاج کیس میں علیمہ خان اور عظمیٰ خان نے اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں درخواست ضمانت دائر کر دی۔
عظمیٰ خان اور علیمہ خان کو 2 روزہ ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا گیا‘ڈیوٹی جج طاہر عباس سِپرا نے 19 اکتوبر کو پراسیکیوشن سے ریکارڈ طلب کر لیا۔ عدالت نے علیمہ خان اور عظمیٰ خان کی درخواست ضمانت پر دلائل 19 اکتوبر کو طلب کر لیے گئے۔پولیس نے علیمہ خان اور عظمیٰ خان کو کمرہ عدالت سے باہر لے جانے کی کوشش تو پی ٹی آئی وکلاء اور پولیس اہلکاروں کے درمیان تلخ کلامی اور شور ہوا۔جج نے علیمہ خان اور عظمیٰ خان کو کمرہ عدالت میں اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت دے دی۔
Comments are closed.