فیصل آباد(آن لائن)پاک فوج کے ریٹائرڈ افسر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ علی قلی خا ن خٹک نے کہا ہے کہ سنیارٹی اور قا بلیت کی بنا پر فوج کی سر برا ہی میرا حق تھا، چو ہدری نثار اور ان کے بھا ئی جنرل افتخار رکاوٹ بنے، نواز شریف کو میرے خلاف چوہدری نثار اور جنرل افتخار نے بھڑ کایا تھا اور نواز شریف نے میری ترقی کی فا ئل روک لی، فوج کو سیاست میں مداخلت نہیں کر نی چا ہیے، بھٹو کو پھا نسی دے کر جنرل ضیا ء نے غلطی کی۔ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ جنرل وحید کا کڑ ایک مثا لی فو جی آفیسر تھے، میرٹ کی پا ما لی سے ادارے تبا ہ ہو جا تے ہیں،،مو جودہ کشمکش سے پوری قوم کا نقصا ن ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ میرے تایا اسلم خٹک صوبہ سرحد کے گورنر رہے، گو ہر ایو ب میرے بہنوئی تھے ان کیساتھ قرابت داری نے میرے پروفیشنل کیریئر کو فا ئدہ نہیں، نقصا ن پہنچا یا۔ انہو ں نے کہا کہ سنیارٹی اور قا بلیت کی بنا پر فوج کی سر برا ہی میرا حق تھا، چو ہدری نثار اور ان کے بھا ئی جنرل افتخار رکاوٹ بنے،
میں سمجھتا ہوں کہ ذوالفقا ر علی بھٹو کو پھا نسی دے کر جنرل ضیاء الحق نے بہت بڑی غلطی کی، 1998میں نئے آرمی چیف کی تقرر ی کاسوال اٹھا تو میں سنیارٹی لسٹ میں پہلے نمبر پر تھا، میرے بعد جنرل خا لد نواز،جنرل پرویز مشرف اور نسیم رانا کا نمبر تھا، فو ج میں میجر،کر نل،بریگیڈیر اور میجر جنرل کی ترقی ایک سلیکشن پراسس کے ذریعے ہو تی ہے، آرمی چیف جنرل جہا نگیر کرا مت نے چیف آف جنرل کرا مت نے چیف آف جنرل سٹا ف کی تقرری کر تے ہوئے مجھے منتخب کیا اور مجھے عہدہ دیا، انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو میرے خلاف چوہدری نثار اور جنرل افتخار نے بھڑ کایا تھا اور نواز شریف نے میری ترقی کی فا ئل روک لی، فوج کو سیاست میں مداخلت نہیں کر نی چا ہیے، جنرل وحید کا کڑ ایک مثا لی فو جی آفیسر تھے، میرٹ کی پا ما لی سے ادارے تبا ہ ہو جا تے ہیں، جنرل افتخار کی ریٹائرمنٹ پر انہیں سیکرٹری دفاع لگا دیا گیا، میرے والد جنرل حبیب اللہ کو جنرل ایوب نے فوج سے فارغ کرایا تھا، جنرل افتخار بطور چیف آف جنرل سٹاف توسیع لینا چاہتے تھے
،مگر جنرل جہا نگیر کرا مت نہ ما نے، میرے جو نیئر جنرل مشرف کو آرمی چیف لگا یا گیا،تو میں نے فو ج چھوڑ دی،سیکیورٹی کو نسل کی تجویز پر وزیراعظم نواز شریف نے جہا نگیر کرامت کو بلا کر خفگی کا اظہار کیا، جنرل جہا نگیر نے سٹینڈ لینے کی بجائے استعفیٰ دے دیا، عبدالوحید کا کڑ بہترین آرمی چیف تھے جہا نگیر کرامت کو استعفیٰ نہیں دیناچاہیے تھا، جنرل کا کڑ میرٹ پر یقین رکھتے تھے، تو سیع کی پیشکش پر انکار کر دیا، 1993میں سیا سی بحران کے حل میں کردار ادا کیا اور نئے الیکشن کروائے، جنرل مشرف کی بر طرفی کاوقت غلط تھا، حا لات جیسے بھی ہو ں فوج کو سیاست میں مدا خلت نہیں کرنی چا ہیے،مو جودہ کشمکش سے پوری قوم کا نقصا ن ہو رہا ہے۔
Comments are closed.