اسلام آباد(آن لائن) ایوان بالا میں اپوزیشن لیڈر سینیٹر شبلی فراز نے اپنے ہی سینیٹر پر آئینی ترمیم کے حوالے سے بھاری معاوضے کی پیش کش کا الزام عائد کردیا کہتے ہیں کہ ہمارے ایک سینیٹر نے پارٹی کے اقلیتی سینیٹر کو رشوت کی پیش کی تھی انہوں نے کہاکہ ایوان کا ماحول بہتر بنانے کیلئے اقدامات اٹھانے چاہیے۔منگل کو ایوان بالا میں نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ خیبر پختونخوا میں سینیٹرز کا انتخاب نہ ہونا افسوسناک ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں سے پی ٹی آئی کے سینیٹرز آرہے ہیں انہوں نے کہاکہ قومی اسمبلی بھی نامکمل ہے مخصوص نشستوں کا مسئلہ ہے اور سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں کا فیصلہ نہیں کر رہا ہے انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر جانبدار رہے مگر ان کا ٹریک ریکارڈ دیکھ لیں کہ انہوں نے کس طرح کا الیکشن کریا اور پی ٹی آئی کو انتخابی نشان سے محروم کیا گیا مگر عوام نے پھر بھی بانی پی ٹی آئی کو ووٹ دیا انہوں نے کہاکہ عوام کی رائے کو بڑی ڈھٹائی اور بے شرمی سے تبدیل کیا گیا اور اسی وجہ سے ہم سمجھتے ہیں کہ آج کی حکومت درست نہیں ہے انہوں نے کہاکہ پوری دنیا کہتی ہے کہ پاکستان کے انتخابات درست نہیں تھے اور اسی وجہ سے یہ اسمبلی ایسی ترامیم نہیں کرسکتی ہے کہ آئین پاکستان میں تبدیلی کی جائے انہوں نے کہاکہ میری درخواست ہے کہ اس حوالے سے ایک قرارداد منظور کی جائے تاکہ یہ ایوان مکمل ہوسکے اگر یہ مکمل نہیں ہوگا تو اس ایوان کے فیصلوں پر ہمیشہ سوالیہ نشان ہوگا
انہوں نے کہاکہ انتخابات کے بعد اب پی ٹی آئی کے اراکین کو تسلیم نہیں کیا جارہا ہے اس ملک میں سپریم کورٹ کے احکامات کو نہیں مانا جارہا ہے انہوں نے کہاکہ آج جو بھی کچھ کہتا ہے کہ وہ بانی پی ٹی آئی پر شروع ہوجاتا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے علاوہ اس ملک میں کوئی سیاسی سرگرمی نہیں ہے انہوں نے کہاکہ ترامیم کرنا کوئی بری بات نہیں ہے تاہم یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ ترامیم کس طرح لائی جارہی ہیں جس طریقے سے یہ ترامیم ہوئی ہیں اس سے لگتا ہے کہ آئین کو ٹیمپر کیا گیا ہے انہوں نے کہاکہ تمام آئینی ترامیم پر پہلے کمیٹیوں میں بحث ہونی چاہیے انہوں نے کہاکہ اگر دھونس اور جبر یا لالچ سے کسی کی وفاداری کو خریدتے ہیں تو یہ اچھا نہیں ہے انہوں نے کہاکہ ہمارے ہی ایک کولیگ نے ہمارے اقلیتی ممبر کو فون کیا کہ اتنے پیسے مل رہے ہیں آ پ لے لو جس پر اقلیتی ممبر نے یہ جواب دے دیا کہ ہمارا مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا ہے انہوں نے کہاکہ اس ملک میں مختلف وزرائے اعظم کو نکالا گیا جس میں آپ بھی شامل تھے لیکن اس کی وجوہات کیا تھی انہوں نے کہاکہ ہمیں اپنی مرضی کے جج لانے کی روایت کو ختم کرنا ہوگا اور عدلیہ کو ایک آزاد ادارہ بنانا ہے انہوں نے کہاکہ 26ویں آئینی ترمیم جس طریقے سے لائی گئی اس سے عالمی سطح پر ہماری بدنامی ہورہی ہے اور اگر اس طرح کی صورتحال ہو تو اس ملک میں کون سرمایہ کاری کرے گا انہوں نے کہاکہ ملک میں آمن و آمان کی صورتحال مخدوش ہے اور عوام کو انصاف نہیں مل رہا ہے انہوں نے کہاکہ اس ایوان کے تقدس کو بحال کرنے کی ضرورت ہے اگر ہم نے کچھ غلط کیا ہے تو وہ بھی غلط ہے ہمیں کئی بار اپنے خیالات کے اظہار کا موقع نہیں ملتا ہے انہوں نے کہاکہ اگر اے این پی آج زوال کا شکار ہے تو اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں ہے اگر 2013میں ہمیں مینڈیٹ کسی کے کہنے پر دیا گیا تھا اور 2018میں دیا گیا تو 2024میں ہمیں کیسے مینڈیٹ ملا ہے ہم سیاسی جماعت ہیں اور سیاسی میدان میں مقابلہ کرتے ہیں
اگر خیبر پختونخوا کے عوام نے تیسری بار میننڈیٹ دیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ صوبے کے عوام ہم سے خوش ہیں اور یہ پہلی بار ہورہا ہے انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا کے صورتحال پر ہم صوبے کے عوام کے سامنے جواب دہ ہیں اور یہ جواب ہم انتخابات میں دیں گے انہوں نے کہاکہ جب سیاسی طاقتوں کو دبایا جاتا ہے تو دوسری طاقتیں نکل آتی ہیں انہوں نے کہاکہ یہ جو بھی ماحول ہے اس کو بہتر بنانا ہوگا ابھی 26ویں ترمیم ہضم نہیں ہوئی ہے 27ویں ترمیم کی باتیں شروع ہوگئی ہیں انہوں نے کہاکہ آج حکومت جو کر رہی ہے وہ اس کے گلے میں پڑے گا سوچ سمجھ کر قانون کریں انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی اور بانی پی ٹی آئی لازم و ملزوم ہیں ہم ان کی قانونی جنگ لڑ رہے ہیں ہم بانی کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں ہمارے سامنے مشکلات ہیں بانی پی ٹی آئی بڑی اسانی سے جیل سے باہر آسکتے ہیں جس طرح میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری باہر گئے تھے مگر وہ ایک محب وطن لیڈر اور پاکستانی ہے ہم سیاسی اور قانونی جنگ لڑتے رہیں گے انہوں نے کہاکہ پاکستانی کی بہتری کی کنجی آڈیالہ جیل میں قید ی کے پاس ہے ہم کوئی این آر آو نہیں مانگ رہے ہیں۔۔۔۔اعجاز خان
Comments are closed.