راولپنڈی (آن لائن) انسداد دہشت گردی راولپنڈی کی خصوصی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے تحریک انصاف کے سابق چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ سمیت دیگر ملزمان کے خلاف جی ایچ کیو حملہ کیس کی نقول سابق چیئرمین کو فراہم کردی ہیں جبکہ شاہ محمود قریشی کے لاہور جیل میں ہونے کی وجہ سے انہیں نقول فراہم نہ کی جا سکیں اس طرح رہ جانے والے باقی ماندہ ملزمان میں یہ نقول عدالت میں تقسیم کی جائیں گی سابق چیئرمین کو مقدمہ کی نقول گزشتہ روز اڈیالہ جیل میں فراہم کی گئی جی ایچ کیو حملہ کیس میں عمر ایوب، زرتاج گل، راجہ بشارت، صداقت عباسی، راجہ راشد حفیظ، واثق قیوم عباسی، شیخ رشید اور کرنل (ر) اجمل صابر سمیت 102 ملزمان کو مقدمہ کی نقول فراہم کی جاچکی ہیں جبکہ 23 ملزمان میں نقول تقسیم ہونا باقی ہیں تمام ملزمان میں نقول تقسیم ہونے کے بعد ملزمان پر فرد جرم عائد کی جائے گی عدالت نے اس مقدمہ کی آئندہ تاریخ 8 نومبر مقرر کر رکھی ہے یاد رہے کہ پولیس کی جانب سے تھانہ آر اے بازار میں درج مقدمہ نمبر 708 میں عدالت میں پیش کئے گئے عبوری چالان میں حملے کا اصل محرک تحریک انصاف کے سابق چیئرمین کے علاوہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور، سابق وفاقی وزراء اور تحریک انصاف کی مرکزی، صوبائی اور مقامی قیادت کو قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آئی ٹی لیب سے سوشل میڈیا پر جاری آڈیو ویڈیو پیغامات، جی ایچ کیو کی جیک برانچ سے حاصل ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیجز اور ڈیوٹی پر تعینات فوجیوں کے بیانات کی روشنی میں ناقابل تردید شواہد کے ساتھ چالان مرتب کیا گیا ہے
چالان کے مطابق تحریک انصاف کے سابق چیئرمین کے سوشل میڈیا پر بیانات نے تحریک انصاف کے کارکنوں کو فوج کے خلاف اشتعال دلایا کہ کارکنان ہر ممکن غیر قانونی اقدام اٹھائیں اور جتھوں کی صورت میں ایسی کاروائی کریں کہ اعلیٰ عسکری قیادت اور وفاقی و صوبائی حکومت استعفیٰ دینے پر مجبور ہوجائے اس طرح ملکی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ کسی سیاسی جماعت نے کالعدم تحریک طالبان اور اس جیسی دہشت گرد تنظیموں کی طرح ریاستی و عسکری اداروں پر مکمل کوآرڈی نیشن کے تحت ٹارگٹڈ حملے کئے جس کے ناقابل تردید شواہد پیمرا، ایف آئی اے اور دیگر ذرائع سے حاصل کئے گئے چالان میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے سابق چیئرمین کے سوشل میڈیا پر بیانات نے تحریک انصاف کے کارکنوں کو فوج کے خلاف اشتعال دلایا کہ کارکنان ہر ممکن غیر قانونی اقدام اٹھائیں اور جتھوں کی صورت میں ایسی کاروائی کریں کہ اعلیٰ عسکری قیادت اور وفاقی و صوبائی حکومت استعفیٰ دینے پر مجبور ہوجائے جس سے 9 مئی کا سانحہ رونما ہوا۔
Comments are closed.