قومی اسمبلی میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر میں ترمیم اور ججز کی تعداد میں اضافے کے بل منظور

اسلام آباد(آن لائن) قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کے بھرپور احتجاج کے باوجود حکومت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل،آسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی تعداد بڑھانے کا بل،سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد بڑھانے کے بل،پاکستان آرمی ایکٹ میں ترمیم کا بل،پاکستان ایئر فورس ایکٹ میں ترمیم کا بل اور پاکستان نیوی ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کر لیئے گئے۔ قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں منعقد ہوا اجلاس میں اعظم نذیر تارڑ نے وقفہ سوالات معطل کرنے کے لئیتحریک پیش کی جسے منظور کر لیا گیا اجلاس میں اپوزیشن اراکین کا شدید احتجاج شور شرابہ ڈیسک پر کاپیاں بجاتے رہے اور سپیکر ڈائس کا گھیراؤ کر لیا گیا اجلاس میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل پیش کیا گیا آسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی تعداد بڑھانے کا بل پیش کیا گیا

سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد بڑھانے کے بل کی تحریک پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر اعظم نزیر تارڑ نے کہا کہ طویل عرصے سے کیسز کورٹس میں تاخیر کا شکار ہیں اس لیے ہم ججز کی تعداد بڑھا کر 34 کر رہے ہیں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بل پیش کیا سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد بڑھانے کے بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا اعظم نزیر تارڑ نے کہا کہ یہ نہ سننا چاہتے ہیں نا سنیں گے، بل پاس کرائیں اپوزیشن ارکان اسپیکر ڈائس کے سامنے آگئے،شدید احتجاج نعرے بازی کرتے رہے اوراپوزیشن ارکان نے بلوں کی کاپیاں پھاڑ کر پھینک دیں سپیکر قومی سردار ایاز صادق نے کہا کہ گوہر صاحب آپ کو فلور تب دوں گا جب ان کی بات سنیں گے،اجلاس میں سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد بڑھانے کا بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا

اجلاس میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان آمنے سامنے رہے ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے اجلاس میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیااجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی تعداد میں اضافے کا بل کثرت رائے سے منظور کر لیا پاکستان آرمی ایکٹ میں ترمیم کا بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا خواجہ آصف نے آرمی ایکٹ میں ترمیم کا بل پیش کیا پاکستان ایئر فورس ایکٹ میں ترمیم کا بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا پاکستان نیوی ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا قومی اسمبلی کا اجلاس آج پیر کو دن گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

Comments are closed.