راولپنڈی (آن لائن) تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری سلیمان اکرم راجہ اور سابق چیئرمین کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ 9 اکتوبر کو صوابی جلسہ میں ملک گیر تحریک کا اعلان ہو گا اب ساری قوم کو اٹھنا، آزادی اور سابق چیئرمین کی زندگی کے لئے باہر آنا ہوگا ڈیل نہ کرنے کی وجہ سے سابق چیئرمین کی زندگی خطرے میں ہے جس کے لئے انہوں نے واضح پیغام دیا ہے کہ انصاف کے لئے انقلاب لے کر آئیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز اڈیالہ جیل میں القادر ٹرسٹ ریفرنس کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کیا ۔سلیمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ وہ لمحہ ہے جب ہم واقعتا اپنی ازادی حاصل کر سکتے ہیں اگر ہم اٹھ کر کھڑے نہ ہوئے تو ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ سابق چیئرمین نے قوم سے التجا کی ہے کہ اب نہیں تو کب؟ انہوں نے کہا کہ 9 اکتوبر کو صوابی میں ملک گیر تحریک کا اعلان ہو گا ساری قوم کو اٹھنا، آزادی اور سابق چیئرمین کی زندگی کے لئے باہر آنا ہوگا 9 تاریخ کو ایک نئی ابتداء ہو گی ایک نئی تحریک چلائیں گے جو عمران خان اور ہماری ازادی پر ختم ہو گی جبکہ علیمہ خان نے کہا کہ ہمارے ڈاکٹر عاصم نے سابق چیئرمین کا معائنہ کیا ڈاکٹروں نے بتایا کہ وہ صحت مند ہیں لیکن ان کے جسم سے گوشت کم ہوا ہے انہوں نے کہا کہ سابق چیئرمین پر جسمانی تشدد تو نہیں کیا گیا لیکن انہیں ذہنی ٹارچر کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ انتظار پنجھوتہ کس حالت میں واپس آئے ہیں جو قانون سے اوپر جاچکے ہیں وہ سمجھتے ہیں جس مرضی پر تشدد کرو انتظار پنجوتھہ کا کیا قصور تھا، سب نے اس کی ویڈیو دیکھی سابق چیئرمین نے کہا کہ ظل شاہ کو قتل کرکے الزام میرے اوپر لگا دیا یہاں عدالتوں میں تفتیشی افسر کو کہا جاتا ہے کہ جھوٹ بولیں سزا نہیں ملے گی
اب ساری حکومت جھوٹ بول رہی ہے پولیس والا کوئی بھی الزام لگا دے سابق چیئرمین نے کہا کہ انصاف کے لئے انقلاب لے کر آئیں جو تماشا انتظار کے خلاف کیا گیا وہ کسی کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے جس نے لندن میں احتجاج کیا اس کی فیملی کو پاکستان میں اٹھالیا اب برطانیہ میں انصاف مانگا جائے گا سابق چیئرمین نے اس موومنٹ کو نیا نام دیا ہے انصاف کے لئے انقلاب انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ہمیں پھر جیل میں ڈال دیا جائے گا ہم پر ایک مقدمہ 5 تاریخ کا ہے لیکن ہمیں 4 کو اٹھا لیا تھا لوگوں کے بچوں کو خوفزدہ کررہے ہیں ہم نئے چیف جسٹس سے اپیل کرتے ہیں کہ لاقانونیت نہ روکی تو لوگ قانون ہاتھ میں لے لیں گے سابق چیئرمین کی زندگی خطرے میں ہے، وہ ڈیل نہیں کررہا انہوں نے تین چیزیں مانگی ہیں، جمہوریت، رول آف لا پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا سابق چیئرمین کو جیل سے نکالنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے لہٰذا ہمیں خود پرامن احتجاج کرنا ہوگا بھلے ہمیں جیلوں میں ڈالیں ہم آئینی حق ضرور استعمال کریں گے۔
Comments are closed.