ریاض(آن لائن)نائب وزراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ اسرائیل مشرق وسطیٰ کے امن کوتباہ کررہا ہے۔ریاض میں جاری اسلامی تعاون تنظیم اور عرب لیگ کے مشترکہ اجلاس میں عرب لیگ، او آئی سی رکن ممالک کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی ہے، جبکہ پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کررہے ہیں۔اسحاق ڈار نے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کی مذمت کرتاہے، فلسطینی عوام کیخلاف مظالم کوفوری روکا جائے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ عالمی برادری غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کو رکوائے، عرب لیگ، اوآئی سی کا فلسطینی عوام سیاظہاریکجہتی غیر متزلزل ہے۔اسحاق ڈار مشرق وسطیٰ کے حالات ابتر ہوچکے ہیں، اسرائیلی فوج کے جنگی جرائم روزبروزبڑھتے جارہے ہیں، اسرائیل کوجنگی جرائم پرجوابدہ ٹھہرایاجائے
، پاکستان نے ہمیشہ فلسطین کاز کی حمایت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل ہزاروں بے گناہ فلسطینیوں کو شہید کر چکا ہے، قابض فوج فلسطینیوں پر ظلم ڈھا رہی ہے، پاکستان غزہ میں اسرائیلی بربریت کی مذمت کرتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حملوں میں ہزاروں فلسطینی شہید اور زخمی ہو چکے ہیں، اسرائیل نے غزہ میں اسکولوں، اسپتالوں اور پناہ گزینوں کو نشانہ بنایا، اسرائیل کو جنگی جرائم پر جواب دہ ٹھہرایا جائے، پوری امت او آئی سی کی طرف دیکھ رہی ہے کہ وہ کیا اقدامات کرتی ہے۔نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ قابض صیہونی فورسز کے جارحانہ اقدامات کا دائرہ لبنان، ایران اور شام تک پھیل چکا ہے، دوسری ریاستوں کی خودمختاری کو پامال کر کے نام نہاد گریٹر اسرائیل کا حصول خطے میں امن اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
اسحٰق ڈار نے کہا کہ پاکستان باضابطہ طور پر اسرائیل کی جانب سے برادرانہ ممالک کی خودمختاری کی کھلم کھلا ورزی کی مذمت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تنازعہ کے تسلسل نے مستقبل قریب میں سیاسی اور پائیدار حل کے امکانات کو مزید مشکل بنادیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی مظالم کی مذمت کرنا کافی نہیں، ہمیں فوری طور پر فلسطینیوں کے حقوق اور مطالبات کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے، پوری امت مسلمہ ہماری طرف دیکھ رہی ہے، ہمیں موجودہ صورتحال کے پیش نظر ان کی غیر متزلزل حمایت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ غزہ اور خطے میں فوری طور پر غیر مشروط جنگ بندی کرنے کے ساتھ فوری طور پر انسانی امداد فراہم کرنا ہوگی جبکہ اسرائیل کو جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے پر جوابدہ ٹہرانا ہوگا۔
Comments are closed.