اسلام آباد(آن لائن )سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے قاضی فائز عیسی کوبڑاریلف دیتے ہوئے ان کی بطور چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ تعیناتی کیخلاف نظرثانی درخواست خارج کردی۔بنچ نے درخواست گزارکامعاملہ پاکستان بار کونسل کوبھجوانے کاعندیہ دے دیا۔ جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے ہیں مقدمات میں ذاتیات پر نہیں آتے، قاضی فائز عیسی کی جان اب چھوڑ دیں، یہ مقدمہ قانونی کم اور سیاسی زیادہ لگ رہا ہے، پیٹھ پیچھے کسی کی برائی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، یہ فورم سیاسی تقاریر اور نہ بیک بائٹنگ کا ہے، قانون سے نہیں ہٹ سکتے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہاہے کہ نظرثانی میں دوبارہ اصل کیس نہیں کھول سکتے، عدالتی فیصلوں کیخلاف یہ کوئی اپیلیٹ بنچ نہیں ہے، غیر سنجیدہ درخواست پر کیوں نہ آپ کا کیس کارروائی کیلئے بار کونسل کو بھیجیں، یہ نظرثانی درخواست ہے، کیس کو دوبارہ نہیں کھول سکتے، انھوں نے یہ ریمارکس جمعرات کے روزدیے ہیں۔جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 6 رکنی آئینی بینچ نے آئینی کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزارریاض حنیف راہی نے دلائل میں موقف اختیار کیاکہ کوئی بھی شخص براہ راست چیف جسٹس تعینات نہیں ہوسکتا،پہلے بطور جج تعیناتی ہوتی ہے پھر چیف جسٹس بنایا جاتا ہے، وزیراعلی بلوچستان نے قاضی فائز عیسی کی تعیناتی کی سمری بھی نہیں بھیجی تھی، سپریم کورٹ نے بھٹوکیس بھی چالیس سال بعد سنا، اس پر جسٹس محمدعلی مظہر نے کہاکہ آپ غصے میں کیوں آرہے ؟ عدالت کی بات سنیں، جسٹسامین الدین خان نے کہاکہ عدالت آپ سے سوالات پوچھ رہی لیکن آپ جواب کیوں نہیں دیرہے؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ آپ کیس دوبارہ کھولنا چاہتے ہیں؟درخواست گزارنے کہاکہ میں عدالت کو حقائق بیان کررہاہوں، میرے پاس ریکارڈ نہیں لیکن بلوچستان سے ریکارڈ منگوایا جاسکتا ہے۔
جسٹس امین نے کہاکہ قانون بتائیں کہ وزیراعلی کے ساتھ مشاورت کیسے ضروری ہے؟ جسٹس مسرت ہلالی نے کہاکہ کیسز میں پرسنل نہ ہوا کریں، چھوڑ دیں قاضی صاحب کی جان، جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ ایسی درخواست پر بینچ کے سربراہ سے درخواست کروں گا کہ معاملہ پاکستان بار کونسل کو بھیجیں، آئینی بینچ نے درخواستگزار وکیل ریاض حنیف کی نظرثانی درخواست خارج کردی۔
Comments are closed.