اسلام آباد(آن لائن)بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف )نے کہا ہے کہ پاکستان کو موجودہ قرض پروگرام کے اہداف پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت ہے، موجودہ قرض پروگرام کے اہداف پر سختی سے عمل درآمد عوام کا معیار زندگی بہتر کر سکتا ہے۔پاکستان نے جنوری 2025ء سے زرعی ٹیکس نافذ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔آئی ایم مشن کے پانچ روزہ دورہ پاکستان کا اعلامیہ جاری کردیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ ،آئی ایم ایف کے مطابق نجی شعبے کا حصہ بڑھا کر حکومتِ پاکستان کا حصہ محدود کرنے کی ضرورت ہے۔آئی ایم ایف مشن نیتھن پورٹر کا 11 سے 15 نومبر دورہ پاکستان مکمل کیا گیا،عالمی مالیاتی فنڈکے باضابطہ اعلامیہ کے مطابق مذاکرات میں وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومتوں سے بھی بات چیت ہوئی۔
آئی ایم ایف کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو موجودہ قرض پروگرام کے اہداف پر سختی سے عمل درامد کی ضرورت ہے، موجودہ قرض پروگرام کے اہداف پر سختی سے عمل درا?مد عوام کا معیار زندگی بہتر کر سکتا ہے،،جبکہ نجی شعبے کا حصہ بڑھا کر حکومتِ پاکستان کا حصہ محدود کرنے کی ضرورت ہے۔آئی ایم ایف اعلامیہ کے مطابق مذاکرات میں نجی شعبے کے نمائندوں سے بھی تبادلہ خیال ہوا، معاشی امور پر پاکستانی حکام کے ساتھ بات چیت مثبت رہی،،پاکستان ایسے شعبے سے ٹیکس آمدن بڑھانے کے لیے پْرعزم ہے جو ٹیکس نہیں دے رہا، سماجی تحفظ اور ترقی میں صوبوں کے کردار کو بڑھانے پر بھی بات چیت ہوئی۔آئی ایم ایف مشن کے سربراہ نیتھن پورٹر کے مطابق پاکستان میں توانائی کی اصلاحات اور توانائی کے چیلنجز پر خصوصی بات چیت کی گئی
، کئی شعبوں میں نجی شعبے کا حصہ بڑھا کر حکومتِ پاکستان کا حصہ محدود کرنے کی ضرورت ہیجبکہ مذاکرات کے لیے پاکستانی حکام کا رویہ بڑا حوصلہ افزا اور معاون تھا، پاکستان حکام سے مذاکرات پر آئی ایم ایف ایگزیکٹیو بورڈ کو آگاہ کیا جائے گا۔نیتھن پورٹر کے مطابق آئی ایم ایف کا وفد اب آئندہ سال 2025ء کی پہلی سہ ماہی میں پھر پاکستان آئے گا،،،دورسی جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معاشی ٹیم نے آئی ایم ایف مشن کو دی گئی بریفنگ میں یقین دہانی کرائی ہے کہ جنوری 2025ء سے ملک میں زرعی ٹیکس کا نفاذ کر دیا جائے گا دوران مذاکرات آئی ایم ایف نے صوبوں کے زرعی ٹیکس پر اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔
Comments are closed.