”امریکی مداخلت نامنظور” سے ”امریکی عدم مداخلت نا منظور” کا دلچسپ سفر!!

خط میں پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی باضابطہ درخواست کر کے تحریک انصاف نے اپنے ہی بیانیے کو زمین بوس کر دیا

اسلام آباد”امریکی مداخلت نامنظور” سے ”امریکی عدم مداخلت نا منظور” کا دلچسپ سفر!!تحریک انصاف کے امریکی حمایتیوں کا ایک اور یو ٹرن! ”امریکی مداخلت نامنظور” سے ”امریکی عدم مداخلت نا منظور” کا دلچسپ سفر!!تحریک انصاف کے چند حمایتیوں نے قومی مفاد میں کام کرنے کی بجائے سیاسی مفاد کو ایک مرتبہ پھر فوقیت دے دی ۔خط میں پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی باضابطہ درخواست کر کے تحریک انصاف نے اپنے ہی بیانیے کو زمین بوس کر دیا۔46 ممبران کانگریس نے صدر بائیڈن کو ایک اور خط لکھ دیا۔سوال یہ پیداہوتا ہے کہ خط پر خط جو لکھے جارہے ہیں تو کیا تحریک انصاف کے چند امریکی حمایتی اتنے با اَثر ہیں یا کہانی کچھ اور؟تحریک انصاف کے اصل حمایتی کون؟ خط در خط در خط نے سوالوں کے انبار لگا دیئے!

دلچسپ امر یہ ہے کہ خط میں نا کشمیر کا ذکر نا پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کا کیا جاتا ہے اور نہ ہی خط میں پاکستان کی معاشی مدد کی کوئی درخواست کی جاتی ہے ایسی صورت میں سوال ہے کہ اَثر رسوخ کا استعمال صرف تحریک انصاف کے حق میں کیوں؟ اگر بات انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی ہے تو ایسا کوئی خط کبھی کشمیریوں کے خلاف ہونے والے مظالم پر کیوں نا لکھوایا جا سکے؟خط میں پاکستان پر بے جا الزامات کا ذکر کرتے ہوئے الیکشن میں دھاندلی کی طوطا کہانی اور بنا ثبوت متفرق الزامات لگائے جاتے ہیں۔صدر بائیڈن کو لکھے گئے خط میں پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی باضابطہ درخواست کر کے تحریک انصاف نے اپنے ہی بیانیے کو زمین بوس کر دیا۔”غلامی نا منظور” کا علم بلند کرنے والوں نے ”آزادی نامنظور” کا نعرہ لگا دیا۔خط میں اسلام آباد میں موجود امریکی سفیر اور امریکی سفارت خانے پر بھی بے جا تنقید! امریکی سفارت خانہ کا رویہ بدلنے کی آرزو بھی خط میں موجود ہے۔ صدربائیڈن کو خط میں کہا گیا ہے کہ امریکی سفارت خانے کی کوئی بھی تگ و دو ہمارے علم میں نہیں۔ یاد رہے کہ تحریک انصاف اور عمران خان نے امریکی سفارت خانے کی سرگرمیوں کے خلاف انتہائی سخت بیانیہ بنایا تھا۔

Comments are closed.