ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی سیاست اسٹیبلشمنٹ کے سہارے پر کھڑی ہے ان کی اپنی کوئی کارکردگی نہیں‘حافظ نعیم الرحمٰن
اسلام آباد(آن لائن) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہاہے کہ حکومت بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے اورامن و امان کی بحالی کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کرے‘مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی سیاست اسٹیبلشمنٹ کے سہارے پر کھڑی ہے ان کی اپنی کوئی کارکردگی نہیں‘پی ٹی آئی سمیت ہر سیاسی جماعت کو پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے ۔اتوار کو اسلام آباد میں دیگر راہنماوں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت نے حافظ نعیم نے کہاکہ ملک میں امن وامان کی صورتحال بہت خراب ہے‘ہم بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔
دہشت گرد حملوں میں ہمارے فوجی جوان اور سویلین شہید ہوئے اس مسئلے پر مل بیٹھ کر بڑے ڈائیلاگ کی ضرورت ہے انہوں نے کہاکہ حکومت کو یک رخی پالیسی کے بجائے مسئلے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے بات اور کام کرنا چاہیے انہوں نے کہاکہ ملک میں امن وامان کی ذمہ داری حکومت کی ہے اس سلسلے میں حکومت کو اپنی پالیسیاں دوبارہ دیکھنی ہونگی۔انہوں نے کہاکہ افغانستان اور پاکستان دونوں ممالک کو موجودہ صورتحال میں سوچنا ہو گاپاکستان اور افغانستان دیرینہ پڑوسی ممالک اور پرانے تعلقات کے حامل اسلامی ممالک ہیں دونوں ممالک کو ایک دوسرے کا احترام اور خودمختاری کو تسلیم کرنا چاہیے اور مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھنا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ دہشتگردی کے معاملے اور پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کے لئے حکومت تمام جماعتوں کو اعتماد میں لے ‘ معیشت پر ایک بیانیہ حکومت کا ہے کہ مہنگائی کم ہو رہی ہے اگر مہنگائی کم ہورہی ہے توسوال یہ ہے کہ کیا عوام کو کسی چیز میں ریلیف مل رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں صحت اور تعلیم کا شعبہ دیکھ لیں ان شعبون میں بہتری کیلئے پیسہ نہیں لگا یا جارہا ہے‘ آئی پی پیز کے ساتھ حکومت نے بات کی کچھ کو بند کیا اچھا ہے لیکن اسکا اثر نظر آنا چاہیے‘بجلی کی قیمتوں میں کمی ہونی چاہیے حکومت جھوٹ کا سہارا نہ لے عوام کو ریلیف ملتا نظر آنا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ عوام پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے۔ حکومت ایک طرف منی بجٹ نہ لانے کا کہتی ہے اور دوسری طرف لانے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ویسے تو شہریوں کے لیے روزانہ منی بجٹ ہوتا ہے۔حکومت اپنے اخراجات کم کرے اور عوام پر بوجھ نہ ڈالیں‘ سندھ میں چند یوسیز پر بلدیاتی انتخابات ہوئے وہاں پر بھی دھاندلی کی گئی۔
انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی خود کو جمہوری جماعت کہتی ہے میں پیپلزپارٹی قیادت سے کہتا ہوں اس صورتحال پر سوچیں آپ کیا کر رہے ہیں کہ یونین کونسل کی سطح پر عوام کا مینڈیٹ چوری کر رہے ہیں‘ پیپلزپارٹی اور ن لیگ اسٹیبلشمنٹ کے سہارے پر کھڑی ہیں عوام کا جمہوریت پر اعتماد اٹھ رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کارکردگی دکھائے گی تو فیک نیوز خود بخود دب جائیں گی‘ انٹرنیٹ بند کر نا کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہاکہ اگر کوئی سیاسی جماعت اپنے لیڈر کو چھڑوانے کے لئے پر امن احتجاج کرے یا مہنگائی کے خلاف احتجاج کرے تو وہ ان کا حق ہے۔ انہوں نے کہاکہ پر امن احتجاج ہر سیاسی جماعت کا حق ہے پی ٹی آئی کا بھی احتجاج حق ہے ہاں یہ پی ٹی آئی قیادت کو یہ انشور کرنا چاہیے کہ احتجاج پر امن ہو گا‘احتجاج کے موقع پر راستوں کی بندش نہیں ہونی چاہیے اس سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے انہوں نے کہاکہ جو دہشتگردی کرے اور قتل عام کرے وہ دہشتگرد ہے۔ ۔ ۔
Comments are closed.