جی ایچ کیو حملہ کیس‘سابق چیئرمین پی ٹی آئی کومقدمہ کے چالان کی اضافی نقول فراہم

راولپنڈی (آن لائن) انسداد دہشت گردی راولپنڈی کی خصوصی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے تحریک انصاف کے سابق چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ سمیت دیگر ملزمان کے خلاف جی ایچ کیو حملہ کیس میں سابق چیئرمین کو مقدمہ کے چالان کی اضافی نقول فراہم کردی ہیں اور ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کیلئے سماعت 25 نومبر تک ملتوی کردی ہے۔ گزشتہ روز سماعت کے موقع پر سابق چیئرمین کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس موقع پر عدالت نے سابق چیئرمین کو جی ایچ کیو حملہ کیس میں چالان کی اضافی نقول فراہم کردیں جس پر ملزمان کے وکلا نے چالان کی اضافی نقول پر اعتراضات اٹھا دئیے۔ ملزمان کے وکلا کا موقف تھا کہ چالان کی اضافی دستاویزات اصل چالان کا حصہ نہیں بلکہ ٹیمپرڈ ہیں جس پر سرکاری وکلا نے موقف اختیار کیا کہ جی ایچ کیو حملہ کیس میں نامزد 120 ملزمان کو چالان کی نقول پہلے ہی فراہم کردی گئی ہیں جبکہ جی ایچ کیو حملہ کیس میں عدالت شہباز گل، مراد سعید، ذوالفقار بخاری اور حماد اظہر سمیت 23 ملزمان کو نہ صرف پہلے ہی اشتہاری قرار دے چکی ہے بلکہ عدالت اشتہاری ملزمان کی جائیدادیں ضبط کرنے کا آرڈر پہلے ہی جاری کرچکی ہے جس کے لئے عدالت نے ڈی جی امیگریشن کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کی شک 28/A کے تحت نامزد ملزمان کو بیرون ممالک جانے پر پابندی کا حکم دیا ہے۔ یاد رہے کہ جی ایچ کیو حملہ کیس میں پراسیکویشن ٹیم نے اب تک 11 چالان پیش کئے ہیں تاہم مقدمہ کی مزید سماعت 25 نومبر کو ہوگی قبل ازیں مقدمہ کی سماعت اوپن عدالت میں ہوئی جہاں پر گزشتہ روز سماعت کے موقع پر عمر ایوب، شیریں مزاری، زرتاج گل، راجہ بشارت، صداقت عباسی، راجہ راشد حفیظ، واثق قیوم عباسی اور کرنل (ر) اجمل صابر سمیت وفاقی و صوبائی وزرا اراکین اسمبلی اور دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے جہاں پر عدالت نے ملزمان کی حاضری لگائی۔ یاد رہے کہ پولیس کی جانب سے عدالت میں پیش کئے گئے عبوری چالان میں حملے کا اصل محرک تحریک انصاف کے سابق چیئرمین کے علاوہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور، سابق وفاقی وزراء اور تحریک انصاف کی مرکزی، صوبائی اور مقامی قیادت کو قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آئی ٹی لیب سے سوشل میڈیا پر جاری آڈیو ویڈیو پیغامات، جی ایچ کیو کی جیک برانچ سے حاصل ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیجز اور ڈیوٹی پر تعینات فوجیوں کے بیانات کی روشنی میں ناقابل تردید شواہد کے ساتھ چالان مرتب کیا گیا ہے چالان کے مطابق تحریک انصاف کے سابق چیئرمین کے سوشل میڈیا پر بیانات نے تحریک انصاف کے کارکنوں کو فوج کے خلاف اشتعال دلایا کہ کارکنان ہر ممکن غیر قانونی اقدام اٹھائیں اور جتھوں کی صورت میں ایسی کاروائی کریں کہ اعلیٰ عسکری قیادت اور وفاقی و صوبائی حکومت استعفیٰ دینے پر مجبور ہوجائے اس طرح ملکی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ کسی سیاسی جماعت نے کالعدم تحریک طالبان اور اس جیسی دہشت گرد تنظیموں کی طرح ریاستی و عسکری اداروں پر مکمل کوآرڈی نیشن کے تحت ٹارگٹڈ حملے کئے جس کے ناقابل تردید شواہد پیمرا، ایف آئی اے اور دیگر ذرائع سے حاصل کئے گئے چالان میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے سابق چیئرمین کے سوشل میڈیا پر بیانات نے تحریک انصاف کے کارکنوں کو فوج کے خلاف اشتعال دلایا کہ کارکنان ہر ممکن غیر قانونی اقدام اٹھائیں اور جتھوں کی صورت میں ایسی کاروائی کریں کہ اعلیٰ عسکری قیادت اور وفاقی و صوبائی حکومت استعفیٰ دینے پر مجبور ہوجائے جس سے 9 مئی کا سانحہ رونما ہوا۔

Comments are closed.