اسلام آباد(آن لائن )سینئر قانون دان حامد خان اور سیکرٹری سپریم کورٹ بار سلمان منصور نے مشترکہ پریس کانفرنس کی ہے اور جس میں سینئرقانون دان حامدخان نے کہاہے کہ صدر سپریم کورٹ بار نے تمام دفاتر کا اختیار اپنے تک محدود کر لیا ہے ،سپریم کورٹ بار کے رولز کے مطابق تمام انتظامی دفاتر سیکرٹری کے پاس ہوتے ہیں،اس معاملے پر جلد ایک وائٹ پیپر جاری کریں گے،موجودہ آئینی بنچ فل کورٹ نہیں ہے فل کورٹ میں تما م ججزموجودہوتے ہیں۔انھوں نے مزیدکہاکہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے الیکشن کے حوالے سے چند باتیں کرنا ضروری تھی، ہم نے انتخابات میں اپنا موقف واضح رکھا تھاکہ 26 ویں ترمیم غیر آئینی طریقے سے آئی ہے،صدر سپریم کورٹ بار نے اس ترمیم کے حق میں ایک پریس ریلیز جاری کی، سلمان منصور اس ترمیم پر وکلا کا موقف سامنے رکھا،صدر سپریم کورٹ بار نے تمام دفاتر کا اختیار اپنے تک محدود کر لیا ہے ،سپریم کورٹ بار کے رولز کے مطابق تمام انتظامی دفاتر سیکرٹری کے پاس ہوتے ہیں،اس معاملے پر جلد ایک وائٹ پیپر جاری کریں گے،پچھلے سال بھی کئی ووٹ آگے پیچھے کیے گئے لیکن اس دفعہ حد درجہ کی۔سپریم کورٹ بار میں کبھی ایسی مداخلت نہیں دیکھی گئی تھی،محمد حبیب قریشی الیکشن جیت چکے تھے
،سندھ سے ملک خوشحال اعوان نے 1430 ووٹ لئے ،ندیم قریشی 1422 ووٹ لے کرہارے تھے،اس کے بعد یکطرفہ بیٹھ کر ندیم قریشی کو کامیاب قرار دے دیا ،فارم 47 کی سیاست بار الیکشنز میں لائی گئی ،ملک خوشحال کے علاوہ کسی اور کو نائب صدر سندھ نہیں مانیں گے ،سیکریٹری سپریم کورٹ بار کو کوئی کام کرنے سے نہیں روک سکتا،ائیندہ انتخابات میں بائیو میٹرک نظام لانے کا مطالبہ ہے ،کچھ سیاسی جماعتوں اور بارز نے 26 ویں ترمیم کو چیلنج کیا ہے،ہمارا مطالبہ ہے کہ ان درخواستوں کو فل کورٹ سنے،توقع کرتے ہیں کہ موجودہ چیف فل کورٹ بنائیں گے ،آئینی بینچ اس فیصلہ سے پہلے بننا ہی نہیں چاہیے تھا،ایک طرف آئینی بینچ کہلانے والے کام کر رہے ہیں ،کیا باقی ساری سپریم کورٹ غیر آئینی ہوگئی ہے۔آئینی بنچ چھبیسویں ترمیم کیخلاف مقدمہ سن ہی نہیں سکتا ،ججز کی جانب سے کہنا کہ فل کورٹ اب آئینی بنچ ہے غیرآئینی ہے،آئینی بنچ سپریم کورٹ کا ہی ایک بنچ ہے فل کورٹ نہیں ،فل کورٹ کا مطلب ہے کہ تمام ججز بیٹھ کر مقدمہ سنیں
،سپریم کورٹ کے تمام بنچز آئین کے مطابق ہی سماعت کرتے ہیں ،ایسا بھی امکان ہے چیف جسٹس کی تعیناتی بھی غیرآئینی قرار دی جائے ، چیف جسٹس کی تقرری بھی چھبیسویں ترمیم کے نتیجہ میں ہی ہوئی ہے ،سینئر ترین جج کا چیف جسٹس بننا وکلاء ی جدوجہد کا ہی نتیجہ تھا ،ماضی میں ایک چیف جسٹس کو ساڑھے تین سال کام کرنے کے بعد غیرآئینی قرار دیا گیا تھا ،پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کا اختیار ہے لیکن بنیادی ڈھانچے کیخلاف ترمیم نہیں ہوسکتی۔
Comments are closed.