ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ اور ایشیا ٹائیگر بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے ، بیرسٹر دانیا ل

انتشاری ٹولے سے ملکی ترقی ہضم نہیں ہو رہی ، مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ، پریس کانفرنس

اسلام آباد (آن لائنٌ ) وفاقی پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات بیرسٹر دانیا ل نے کہا ہے حکومت کے اقدامات کے باعث ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکا ، انتشاری ٹولے سے یہ بہتری ہضم نہیں ہو رہی ۔ مسلح افواج کے جوان ہمارے لئے آئے روز جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں ۔ ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ اور ایشیا ٹائیگر بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوے انہوں نے کہا ایسی کوئی جماعوت نہیں جس کو ملک بحرانوں میں ملا اور اس نے پھر بھی عوام کو ڈیلیور کیا ہو ۔ ہمیں ملک بحرانوں میں ملا لیکن اس کے باوجود ملک کو نہ صرف ڈیفالٹ ہونے سے بچایا بلکہ عو ام کو ڈیلیور بھی کیا ۔ انہوں نے کہا ہمیں کارکر دگی کی بنیاد پر ووٹ ملتے ہیں ۔ ایک صوبے میں امن و امان کی صورتحال سمیت عوام کو متعدد مسائل درپیش ہونے کے باوجود اس کا وزیر اعلی اپنی تمام تر توجہ انتشار پر مرکوز رکھے ہوے ہے ۔ ہم جب ملک کو بحران سے نکالنے کے لئے مصروف تھے یہ انتشار میں مگن تھے ۔

انکے تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود ہم نے ملک کو ترقی کے سفر پر گامزن کرنے کے لئے کام جاری رکھا ، غریب کو ریلیف دیا ۔ بجلی بلوں میں ریلیف دیا ، ہمارے آئی ٹی سیکٹر کی برآمدات میں اضافہ ہوا ، مہنگائی کم ہوئی، پالیسی ریٹ میں کمی آئی اور یہ تمام تر تر قی ان سے ہضم نہیں ہو رہی ۔ انہوں نے کہا ان کے پاس کارکردگی دکھانے کے لئے کچھ بھی نہیں ۔ ہم نے ہمیشہ ٹارگٹ حاصل کئے ۔ بد قسمتی سے انکے اھتجاج اور دھرنوں کی وجہ سے ملک کو بڑے پیمانے پر معاشی نقصان اٹھانا پڑتا ہے آئی ٹی کمپنیوں کا ملین ڈالر کا نقصان ہو تا ہے ۔ ہر آئے روز ان کے سڑ کوں پر آ نے کی وجہ ملک کی معاشی بہتری میں انکی سیاسی موت کا ہونا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں دہشتگردی کا نیا جن ان کی وجہ سے آیا ہوا ہے ۔ نان سٹیک عناصر پا کستان کی ترقی نہیں چاہتے ۔

ہمارے شہدا روز ملک کے لئے جانیں قربان کررہے ہیں ۔ یہ جوان تیس چالیس ہزار تنخواہ کے لئے نہیں ہمارے لئے جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں ۔ ہم افواج کے ساتھ کھڑے ہیں دہشتگرد وں کو پہلے بھی ہرایا آگے بھی شکست دیں گے ۔ دہشتگردی کا خاتمہ اور ملک کو ایشیا ٹائیگر بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بچوں کو ورثے میں کیا دیں گے یہ فیصلہ ہم نے خود کرنا ہے کیا ہم انھیں ملک توڑنے کی سوچ ، گالم گلوچ ، نفرت اور تقسیم کی سوچ دیں گے یا ایک محفوظ اور خوشحال ملک دیں گے ۔ یہ فیصلہ ہم نے مل کر کرنا ہے ۔

Comments are closed.