اسلامی نظریاتی کونسل کا اجلاس ،اراکین نے متفقہ طور پر اعلامیہ جاری کر دیا

وی پی این کو غیر شرعی یا حرام نہیں کہا،چیئرمین نظریاتی کونسل

اسلام آباد(آن لائن) اسلامی نظریاتی کونسل کے چیرمین علامہ راغب نعیمی نے کہاہے کہ وی پی این کو غیر شرعی یا حرام نہیں کہا ہے ایک لفظ کی وجہ سے ابہام پیدا ہوا ہے،وہ ٹائپنگ کی غلطی تھی ، انہوں نے کہاکہ ملکی سلامتی ،استحکام اور ترقی کیلئے سوشل میڈیا کا استعمال جائز ہے حکومت آزادی اظہار رائے کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے۔ان خیالات کا اظہا ر انہوں نے بدھ کو کونسل کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا اس موقع پر کونسل کے اراکین علامہ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، ملک اللہ بخش کلیار ، جسٹس( رالطاف ابراہیم قریشی ، علامہ ڈاکٹر عبدالغفور راشد، محمد جلال الدین ایڈووکیٹ، علامہ ملک محمد یوسف اعوان، مفتی محمد زبیر، علامہ پیر شمس الرحمن مشہدی، علامہ سید افتخار حسین نقوی، پروفیسرڈاکٹر مفتی انتخاب احمد اور صاحبزادہ محمد حسان حسیب الرحمن بھی موجود تھے جبکہ ڈاکٹر عزیر محمود الازہری اور محترمہ فریدہ رحیم نے اجلاس میں آن لائن شرکت کی چیرمین کونسل ڈاکٹرراغب نعیمی نے کہاکہ اجلاس میں شریک کونسل کے تمام اراکین نے متفقہ طور پر اعلامیہ جاری کیا ہے

اعلامیہ کے مطابق سوشل میڈیا اپنے خیالات و آرا ے اظہار ا موثر ترین ذریعہ ہے اوراس کو بجا طورپر اچھے اور عمدہ مقاصد کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اور منفی اور غلط مقاصد ے لئے بھی اس کا استعمال ممکن ہے لہذا مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اس کا استعمال اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کرے اعلامئے کے مطابق سوشل میڈیا کو اسلامی تعلیمات کے فروغ،اخلاق و ردار ی تعمیر ،تعلیم وتربیت ترویج و ترقی، تجارتی مقصد، ملکی امن و سلامتی اور استحکام اور دیگر جائز مقاصد ے لئے استعمال کرے اعلامئے کے مطابق سوشل میڈیا و توہین کو گستاخی،جھوٹ،فریب،دھوہ دہی،غیر اخلاقی مقاصد ،بدامنی،فرقہ واریت ، انتہا پسندانہ اقدامات اور دیگر غیر قانونی و غیر شرعی مقاصدے فروغ ے لئے استعمال نہیں کرنا چاہیے انہوں نے کہاکہ عمومی مشاہدہ ہے کہ انٹرنیٹ کے استعمال کے دوران مختلف مقاص کے حصول کے لئے وی پی این ایپ استعمال ی جاتی ہے وئی وی پی این سافٹ وئیر ہے جو بذات خود ناجائز یا غیر شرعی نہیں ہوتا

بلکہ ان کے درست اور غلط استعمال پر شرعی احکام کا دارومدار ہوتا ہے۔ اگر توہین،گستاخی،بدامنی،انارکی اور ملکی سلامتی کے خلاف مواد کا حصول یا پھیلاو ہو تو بلا شبہ ایسا استعمال شرعی لحاظ سے ناجائز ٹھہرے گااور حکومت وقت کو اختیار حاصل ہو گا کہ ایسے ناجائز استعمال کے انسداد کے لئے اقدامات کرے اعلامیہ کے مطابق اگر وی پی این کے استعمال سے کوئی جائز مقصد حاصل کرنا پیش نظر ہو،جیساہ بات چیت کے لئے کسی ایپ کا استعمال یا تعلیمی و تجارتی مقاصد کے لیے استعمال درست اور جائز ہوگا اور اس حوالے سے حکومت کے قوانین پر عمل کرنا چاہیے جیسا کہ حکومت نے وی پی این کی رجسٹریشن شروع کر دی ہے لہذا رجسٹرڈ وی پی این کے استعمال و ترجیح دی جائے اورغیر رجسٹرڈ وی این استعمال کرنے سے حتی الامان اجتناب یا جائے اعلامئے کے مطابق اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے لئے درج بالا جائز مقاصد کے حصول کو آسان بنائے،اور ناجائز مقاصد ے لئے سوشل میڈیا کے استعمال کو روکنے کے لئے اقدامات کرے اعلامئے کے مطابق میڈیا و سوشل میڈیا سے متعلق تمام حکومتی ادارے اس حوالے سے فعال کردارادا کریں اور اس سلسلے میں استعمال ہونے والے تمام پلیٹ فارمز اور ایپس کی نگرانی کریں اعلامئے کے مطابق آئین کے آرٹیل کے مطابق اسلام کی عظمت، ملی سالمیت، امن عامہ، تہذیب اور مناسب قانونی پابندیوں کے تابع ہر شہری کو تقریر ،اظہار خیال، پریس کی آزادی اورمعلومات تک رسائی کا حق دیا گیا ہے اعلامئے کے مطابق سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کے دیگر جدید ذرائع کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں اور ان کا مثبت استعمال وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے لہذا ان جدید ذرائع کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے انتظامی تدابیر اختیار رنے کی ضرورت ہے کونسل سمجھتی ہے کہ جدید ذرائع پر محض پابندی عائد کرنا مسائل کا حل نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ان ذرائع کے مثبت استعمال کو ممکن بنانے یا ان کا مناسب متبادل پیش کرنے کے لئے بھی اقدامات کیے جائیں۔ اعلامئے کے مطابق کونسل نے ماہرین کے ساتھ مشاورت کے ذریعے اس موضوع پر شرعی حوالے سے مزید تحقیقی کام کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے چیئرمین نظریاتی کونسل نے کہاکہ کسی کو مدر پدر آزادی چاہیئے تو مشروط آزادی اظہار کو ختم کروا کر نئی ترمیم لے آئے

انہوں نے کہاکہ ہم نے وی پی این کو ناجائز یا غیر شرعی نہیں کہا اسکا استعمال درست ہونا چاہیئے آئین میں آزادی اظہار رائے بھی مشروط ہے اگر کسی کو مدر پدر آزادی چاہیئے تو وہ اس آرٹیکل میں ترمیم لے آئے انہوں نے کہاکہ حکومت کو امر باالمعروف و نہی عن المنکر کا کام کرنا چاہیے اس موقع پر کونسل کے رکن ڈاکٹر طاہر اشرفی نے کہاکہ وی این پی سمیت کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا درست یا غلط استعمال ہی اس کے شرعی یا غیر شرعی ہونے کے عمل کو طے کرتا ہے اسلامی نظریاتی کونسل کوئی وی پی این یا سوشل میڈیا ایپس بذات خود بطور مجموعی شرعی یا غیر شرعی نہیں چیرمین ڈاکٹر راغب نعیمی نے کہاکہ وی پی این کو حرام یا غیر شرعی نہیں کہا ایک لفظ کی غلطی سے ابہام پیدا ہوا ہے انہوں نے کہاکہ اس وقت سوشل میڈیا پر بات اس لئے کرنا پڑی کیونکہ توہین مذہب و فحش مواد کو روکنا مقصود تھا انہوں نے کہاکہ جو چارسو لوگ توہین رسالت کے مقدمات میں جیلوں میں پڑے ہیں اگر کونسل کی 2023 کی سفارش پر عمل ہوتا تو یہ واقعات نہ ہوتے انہوں نے کہاکہ حال ہی میں قائمہ کمیٹی میں پی ٹی اے نے کہا کہ دو کروڑ لوگ فحش مواد کی طرف بڑھے انہوں نے کہاکہ جو توہین مذہب کے مقدمات ہوئے ہیں انہیں سوشل میڈیا سے ہی ایسا کرنے کا مواد ملا سوشل میڈیا کے غلط مواد پر ہم پہلے سے یہ بات کررہے ہیں انہوں نے کہاکہ ہمیں کسی سوشل میڈیا کے استعمال کے لئے کسی وی پی این وغیرہ سے غرض نہیں ہمیں توہین رسالت اور فحش مواد روکنے سے غرض ہے اورہمارا مقصد کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے انہوں نے کہاکہ ایک بچے نے مجھے سوال کیا کہ اگر کسی نے موبائل پر فحاشی و عریانی دیکھی ہو تواسے معافی مل جائے گی جس سے میری آنکھوں میں آنسو آگئے انہوں نے کہاکہ اگر ملکی قانون وی پی این پر پابندی لگائے تو کیا اسے نہیں ماننا چاہیے چیرمین کونسل نے کہاکہ میں نے اپنے خلاف جاری سوشل میڈیا مہم پر ایف آئی اے میں درخواست جمع کرائی ہے مگر ابھی تک ابتدائی کام ہوا ہے مقدمہ درج تک نہیں ہوا ہے انہوں نے حکومت نے تیس نومبر تک وی پی این رجسٹر کرنے کا وقت دیا گیا ہے اس کے بعد سب کو رجسٹرڈ وی پی این استعمال کرنا چاہئے۔۔۔۔۔۔۔اعجاز خان

Comments are closed.