مجھے پاکستان کے روشن اور مستحکم مستقبل پر کامل یقین ہے، آرمی چیف

ایک سال پہلے چھائے ہوئے مایوسی کے بادل آج چھٹ چکے ہیں، یاد رکھیں! پاکستان کے علاوہ ہماری کوئی شناخت نہیں ہے، جنرل سید عاصم منیر

جتنی بھی مشکلات ہوں ملکر کھڑے ہو جائیں تو کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا
کراچی میں سرمایہ کاری کی جائے،اب نئے منصوبوں میں کوئی کرپشن نہیں ہونے دی جائے گی،بزنس کمیونٹی سے خطاب
کراچی (آن لائن)آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ مجھے پاکستان کے روشن اور مستحکم مستقبل پر کامل یقین ہے،ایک سال پہلے چھائے ہوئے مایوسی کے بادل آج چھٹ چکے ہیں، یاد رکھیں! پاکستان کے علاوہ ہماری کوئی شناخت نہیں ہے،جتنی بھی مشکلات ہوں ملکر کھڑے ہو جائیں تو کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہارانہوں نے گزشتہ روز بزنس کمیونٹی کے وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو میں کہی۔اس ملاقات میں وزیر خزانہ محمداورنگزیب، معروف سرمایہ کارعارف حبیب،عقیل کریم ڈھیڈھی،خالدتواب، زبیرموتی والا،حنیف گوہر،فیصل معیز خان،فضل کریم دادا بھائی،فرخ انصاری، صدر میزان بینک عرفان صدیقی، ناصر حیات مگوں،ہارون فاروقی،عمران اللہ والا،جاوید بلوانی،جنید نقی،جاوید جیلانی،سلمان طفیل،ندیم ریاض،آئی ٹی ماہرین سمیت دیگر ممتاز صنعتکاربھی موجود تھے۔بزنس کمیونٹی سے موصولہ اطلاعات کے مطابق آرمی چیف نے کہا کہ کراچی میں سرمایہ کاری کی جائے،اب نئے منصوبوں میں کوئی کرپشن نہیں ہونے دی جائے گی۔آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ پی آئی اے کو مقامی سرمایہ کار ہی خریدیں کیونکہ یہ ملک کی شناخت ہے، صرف پاکستانی ہی پاکستان کو بیل آوٴٹ کے ذریعے معاشی استحکام لا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے گزشتہ نشست میں بھی کہا تھا کہ مایوسی مسلمان کیلئے حرام ہے،آج معیشت کے تمام اشاریے مثبت ہیں، اگلے برس تک مزید بہتر ہوں گے،مایوسی پھیلانے اور ڈیفالٹ کی باتیں کرنے والے لوگ آج کدھر ہیں؟کیاان کو جواب دہ نہیں ٹھہرانا چاہیے؟انہوں نے مزید کہا کہ بشمول سیاست کوئی چیز ملک سے مقدم نہیں،ہم سب کو ذاتی مفاد پر پاکستان کو ترجیح دینی چاہیے،ریاست ماں کی طرح ہے،ریاست کی قدر لیبیا، عراق اور فلسطین کے عوام سے پوچھنی چاہیے۔

انہوں نے بزنس کمیوں ٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنا پیسہ لے کر پاکستان آئیں، عوام بھی کمائے اور ملک بھی ترقی کرے،دہشت گردی کی پشت پناہی غیر قانونی کاروبار والے کرتے ہیں۔آرمی چیف کا مزید کہنا تھا کہ جن پاکستانیوں کے پیسے باہر ہیں وہ واپس آنے چاہئیں جس پر بزنس کمیونٹی نے کہا کہ اس کیلئے ایمنسٹی اسکیم لائی جائے تاہم اس موقع پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پریشر کی وجہ سے کوئی ایمنسٹی پالیسی نہیں آسکتی جبکہ پہلے بھی ہمیں ا ایمنسٹی اسکیم کے کوئی نتائج نہ مل سکے۔

Comments are closed.