اسلام آباد(آن لائن)حکومت نے تحریک انصاف کو ایف نائن پارک اور شکرپڑیاں کے مقام یا سنگجانی اور ترنول میں ایک دن کے احتجاج اور دھرنے کی پیشکش کی ہے تاہم تحریک انصاف کی قیادت نے حکومتی آفرز کو مسترد کر دیااورمذاکرات کرنے والوں نے بھی ہاتھ کھڑے کر دیئے جس کے بعد پی ٹی آئی کے احتجاج سے سختی نمٹنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے ۔ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے 24 نومبر کو احتجاج کے سلسلے میں حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈ لاک برقرارہے،تحریک انصاف ڈی چوک میں احتجاج اور دھرنے پر بضدہے جبکہ حکومت نے تحریک انصاف کو احتجاج مختصر کرنے اور متبادل تجاویز بھی پیش کی ہیں مگر پی ٹی آئی نے حکومتی تجاویز کو یکسر مسترد کر دیا۔ ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کو ایف نائن پارک اور شکرپڑیاں کے مقام پر دھرنے کی جگہ کی پیشکش کی گئی، وزیر داخلہ نے تحریک انصاف کو سنگجانی اور ترنول میں ایک دن کے احتجاج اور دھرنے کی پیشکش بھی کی،تحریک انصاف کی قیادت نے حکومتی آفرز کو مسترد کر دیا۔ ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کی مذاکرات کرنے والی قیادت نے ہاتھ کھڑے کر دیے ہیں اور کہا ہے کہ کہ ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں، تمام فیصلے بشری بی بی اور بانی تحریک انصاف کے ہاتھ میں ہیں۔ ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے پاس محفوظ راستہ بھی نہیں۔ذرائع کے مطابق حکومت کی طرف سے تجویز دی گئی ہے کرم ایجنسی واقعے کے سوگ میں احتجاج کو مختصر کرنے کا آپشن موجود ہے۔بانی تحریک انصاف کو مذاکرات سے آگاہ کیا لیکن پیشکش مسترد کر دی گئی ہیں۔ذرائع کے مطابق ہمیں ہدایات ہیں کہ ہر حال میں ڈی چوک کے مقام پر دھرنا دینا ہے۔پارٹی قیادت نے بانی تحریک انصاف سے ملاقات میں آپشن پیش کیے، بانی تحریک انصاف نے تمام آپشن کو فوری مسترد کر دیا۔ ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت کو کے پی میں احتجاج اور دھرنا دینے کی تجویز بھی دی گئی مگرتمام آفرز مسترد ہونے کے بعد حکومت نے تحریک انصاف کے احتجاج سے سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔#/s#
Comments are closed.