نئی دہلی (آن لائن)بھارتی بحریہ میں غفلت، نا اہلی اور نکمے پن کے باعث حادثات کوئی نئی بات نہیں، گذشتہ روز انڈین نیوی کی جدید ترین آبدوز کی ماہی گیر کشتی سے ٹکر نے بحر ہند میں بھارت کی جانب سے چودھراہٹ کے دعوے کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔مبصرین اس حادثے سے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ جو بھارتی بحریہ جو اپنے اثاثوں کی حفاظت نہیں کر سکتی وہ خطے میں سکیورٹی کی ضامن کیسے ہو سکتی ہے؟گوا کے قریب بھارتی آبدوز اور ماہی گیری جہاز ٹکرا گئے،21 نومبر کی رات بھارتی بحریہ کی آبدوز سطح آب پر ابھرتے ہوئے گوا کے ساحل سے 70 ناٹیکل میل کے فاصلے پر فشنگ ویسل مارتھوما سے ٹکرا گئی۔حادثے کے وقت فشنگ ویسل پر 13 افرادسوار تھے۔ بھارتی بحریہ کی جانب سے تلاش اور بچاؤ کی کوششیں جاری ہیں کیونکہ2 ماہی گیر ابھی تک لاپتہ ہیں۔
یہ حادثہ ویجل کوسٹل سیکیورٹی اینڈ ڈیفنس ایکسرسائز کے دوران پیش آیا۔جدید ٹیکنالوجی سے لیس بھارتی آبدوز کا ماہی گیری جہاز سے ٹکرا جانا بھارتی بحریہ کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔حادثہ ظاہر کرتا ہے کہ بھارتی بحریہ میں پیشہ ورانہ مہارت کا فقدان ہے۔یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ بھارتی بحریہ کی نااہلی کے باعث ایسا حادثہ پیش آیا، انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق 1990 سے 2024ء کے دوران ہر پانچ سال میں بھارتی بحریہ کا ایک جہاز حادثے کا شکار ہوا۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حادثے کے بعدبحر ہند میں سیکیورٹی فراہم کرنے والی ہندوستانی بحریہ کے افسانے کا پردہ فاش ہوگیا۔ اپنے جہازوں اور ملاحوں کی حفاظت کرنے میں نااہلی خطے کی حفاظت کرنے کی بھارتی بحریہ کی صلاحیت پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔
Comments are closed.