پی ٹی آئی سے کسی لیول پر کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، عطاللہ تارڑ

اسلام آباد (آن لائن) وزیر اطلاعات و نشریات عطاللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی سے کسی لیول پر کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے ۔ اسلام آباد ہا ئیکورٹ کے حکم کے پس منظر میں صرف ایک بار وزیر داخلہ نے بیرسٹر گوہر سے را بطہ کیا ، احتجاج کے لئے آنے والوں کو گرفتار کیا جائے گا ۔ یہ منصوبہ بندی کے تحت لاشیں گرانا چاہتے ہیں ۔ حتجاج کرنا ہے تو کے پی کے میں جا کر کریں ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے انہوں نے کہا پاکستان میں مختلف ممالک سے سرمایہ کاری آرہی ہے ، سٹاک مارکیٹ دوسرے نمبر پر ہے ، سٹاک مارکیٹ میں تیزی معاشی اشاریوں میں بہتری کی نشاندہی ہے ۔ ریکار ڈ زر مبادلہ کے ذخائر پاکستان میں آ رہے ہیں ۔ شرح سود میں کمی سے معاشی بہتری آ رہی ہے۔ کیا وجہ ہے ترقی ہوتے ہی احتجاج شروع ہو جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا پاکستان کے دشمنوں اور پی ٹی آئی کی سوچ ایک جیسی ہے ۔ ایس سی او کانفرنس ، چین کے صدر کے دورے کے موقع پر بھی انہوں نیا حتجاج کی کال دے دی ۔ اب جب بیلا روس کے صدر اور وفد پاکستان آرہے ہیں ، بیلاروس پاکستان کا بہترین دوست ہے ۔ بیلاروس اور پاکستان مل کر پاکستان میں ٹریکٹر مینوفیکچر کرنا چاہ رہے ہیں، انہوں نے ایک بار پھر احتجاج کی کال دیدی ۔ ایک طرف انتظامیہ بیلاروس کے مہمانوں کے استقبال کی تیاریاں کر رہی ہے اور دوسری طرف شہریوں کی سیکورٹی کیلئے انتظامات کئے جا رہے ہیں، کیا نظام اکٹھا چل سکتا ہے۔ انہوں نے مذاکرات کی تردید کرتے ہوے کہا تحریک انصاف سے کسی سطح پر کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔ بیرسٹر گوہر سے بات چیت کر کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات سے آگاہ کیا گیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر بیرسٹر گوہر سے یہ رابطہ وزیر داخلہ نے کیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اب کسی نے احتجاج کیا تو گرفتاریاں بھی ہوں گی۔ شہریوں کے جان و مال کو نقصان پہنچانے کی ہر گز اجازت نہیں دی جائے گی۔ املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے انتباہ کرتے ہوے کہا کہ جن سرکاری افسران نے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیا ان سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ انکا احتجاج غیر قانونی ہے، جو بھی آئے گا سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔ انہوں نے کہا بیلاروس کے صدر کے استقبال کے لئے تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ جلد اس بارے میں بریفنگ بھی دی جائے گی ۔ وزیر اعلی کے پی کے کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوے انہوں نے کہا کرم ایجنسی میں 37 لاشیں اٹھائی گئیں، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے زحمت تک نہیں کی کہ وہاں جا کر لوگوں کی داد رسی کرتے۔ یہ ہر دوسرے دن اڈیالہ جیل پہنچے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ پارہ چنار کا درد کیسے بھول گئے۔ عوام کی حفاطت کرتے ہوئے پاک فوج کے جوان قربانیاں دے رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا پولیس کی دہشت گردی کے خلاف بہتر تربیت کی جاتی۔ کیا نوجوان اس لیے قربانی دے رہے کہ آپ روز چڑھائی کریں ۔ آپ اسی ادارے کو تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں۔ آپ خیبرپختونخوا پولیس کی دہشت گردوں کے خلاف صلاحتیں بڑھاتے ہیں ۔ فوج دہشت گردی کے خلاف لڑ رہی ہے اور پولیس آپ کے ساتھ آرہی ہے ۔ انہوں نے کہا بشری بی بی پڑھی لکھی نہیں ہے لیکن سمجھ ہے کہ کونسی بات نہیں کرنیاس خاتون کو انٹرنیشنل ریلیشنز کے ہجے نہیں آتے ۔ انہوں نے کہا سوشل میڈیا پہ جو کرنا ہے کریں لیکن باہر آنے والوں کو گرفتار کیا جائے گا ۔ مذکرات کیلئے بھی الگ الگ گروپ ہیں ۔ علی امین گنڈاپور ملاقاتیں کرچکے ہیں مزید کتنی ملاقاتیں کرنی ہیں ۔ انہوں نے کہا مسجد نبوی کے اندر نعرے لگانے والے شریعت کی بات کرتے ہیں ۔

کیسے بدبخت لوگ ہیں اس وقت شریعت یاد نہیں آئی۔ انہوں نے کہا پی ٹی آئی والوں کو جب کچھ نظر نہیں آیا تو انہوں نے اسلام آباد کے درختوں کو نذر آتش کر دیا۔ ایپکس کمیٹی میں بھی انہیں کہا کہ ایسے معاملات نہیں چلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا غم و غصہ بڑھ رہا ہے، ایک دن آئے گا کہ عوام ان کے گریبان پکڑیں گے۔ عوام ان سے لاشیں گرنے پر جواب مانگیں گے۔ احتجاج کا شوق ہے تو خیبر پختونخوا میں کریں، وفاق پر حملے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

Comments are closed.