گلزار امام شنبے کی گرفتاری،اینٹلی جنس اداروں کی بڑی کامیابی ہے

اسلام آباد:کسی بھی علاقے میں عسکریت پسندی کو ختم کرنے میں کچھ وقت لگتا ہے۔ لیکن اس میں کامیابی تب ہی ممکن ہوتی ہے جب پوری قوم عسکریت پسندی ختم کرنے کا ارادہ کرے۔ریاست اپنی طاقت اور مضبوط اعادے کے ذریعے قانون شکنوں کے خلاف کروائی کرنے کی مکمل قابلیت رکھتی ہے۔ہمارے اختلافات کو بطور ایندھن استعمال کرتی ہوئی دشمن کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے کردار کو سامنے رکھتے ہوئے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں مشغول کرنا ہوگا۔ اس کیلئے گمراہ افراد کو زمینی حقائق سے دوبارہ ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔بلوچستان کے لوگ محب وطن اور بلوچستان کے حقیقی مالک ہیں۔ وہ عسکریت پسندوں کو پرامن اور خوشحال بلوچستان کے ویژن کو ہائی جیک نہیں کرنے دیں گے۔بلوچستان میں امن ہی اصل گیم چینجر ہے۔ انضمام اور مفاہمت کا حتمی مقصد ایک بہتر اور خوشحال بلوچستان ہے۔*گلزار امام شنبے کی گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو حالات کا تدارک ہے اور صورت حال مکمل طور پر ان کنٹرول میں ہے۔

حال ہی میں بارڈر پر لگائی گئی باڑ کی وجہ سے امن و امان کی صورتحال میں واضح بہتری آئی ہے۔عسکریت پسند گروپوں (خصوصا بی ایل اے، مجید بریگیڈ اور بی ایل ایف) کے باہمی اور اندرونی اختلافات نے ان کی قابلیت کو کافی حد تک متاثر کیا ہے۔ ملک سے باہر رہنے والے بلوچ ذیلی قوم پرست تو پرتعیش زندگی گزار رہے ہیں لیکن پاکستان میں ان کی ایما پر لڑنے والے انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ماں کی حیثیت رکھنے والی ریاست اختلاف رائے رکھنے والوں کی دشمن نہیں۔ریاست کواپنی ماضی کی غلطیوں کااحساس ہے اور ان کا ازالہ کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔ اس ضمن میں غلط فہمیوں کو دور کرنے اور عوام میں اعتماد کی فضا پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نوجوان بیرونی طاقتوں کے نرغے میں جانے کی بجائیبلوچستان میں امن و امان کے قیام اور ترقی کیلئے مل کر کام کریں۔حکومت تمام شراکت داروں کو قانون کی پاسداری اور عدالتی نظام کو فعال رکھتے ہوئیپاکستان کی ترقی کے راستے پر ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے، جہاں ہر کسی کے عزت و وقار کا احترام کیا جائے اور مسنگ پرسنز اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں جیسے مسائل دوبارہ سر نہ اٹھائیں۔ریاست ہمیشہ بڑے دل کا مظاہرہ کرتی ہے۔ گلزار امام شنبے کی طرح عسکریت پسندوں کو جب احساس ہو جائے کہ ان کی حرکات بے سود ہیں تو ان کے مسائل کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے انہیں خوش آمدید کہنا چاہیے۔ ان کے ہتھیار ڈالنے اور قومی دھارے میں شامل ہونے سے نہ صرف صوبے اور ملک میں ترقی کی راہ ہموار ہوگی بلکہ فوج بھی اپنی حالت امن کے مقامات پر واپس جا سکتے گی۔

فوج کی حالتِ امن کے مقامات پر واپسی کے بعد محبِ وطن اور غیور بلوچ عوام نے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر شرپسندوں کو صوبے میں عدم استحکام کی صورتحال پیدا کرنے سے روکنا ہے۔یہ نہ صرف بلوچستان کے تدریسی حلقوں، نوجوانوں، سیاستدانوں، تاجروں اور عوام کیلئے بلکہ عسکریت پسندوں کے لئے بھی ایک نادر موقع ہے کہ ریاست کی جانب سے حالیہ پیش رفت کے ذریعیمہیا کیے گئے مفاہمتی ماحول سے اتفاق و اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔بلوچستان کے مسائل کا حل مزاکرات کی میز پر ہی ممکن ہیاور بلوچستان کی عوام کے حقوق پرامن طریقے سے ہی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔عسکریت پسندی کسی صورت صوبے میں استحکام نہیں لا سکتی۔بلوچستان کا مستقبل پاکستان کے مستقبل سے پیوستہ ہیکیونکہ صوبے میں خوشحالی سے ہی ملکی ترقی میں پیشرفت ہوگی۔بلوچستان میں معدنی وسائل اور سی پیک ،گوادر اور سیاحتی اور کاروباری مواقع پاکستان کی ترقی کا محور ہیں جن کی تکمیل سے بلوچستان سمیت پورا پاکستان ترقی کرے گا۔گلزار امام شنبے کون ہے؟ گلزار امام شنبے ضلع پنجگور کے گاں پروم میں 1978 میں پیدا ہوا۔ شنبے نے 2009 میں دہشت گرد گروپ میں شامل ہونے سے پہلے ایک ٹھیکیدار اور مقامی اخبار کے نامہ نگار کے طور پر کام کیا۔ ۔ 2018 تک بی آر اے میں براہمداغ بگٹی کا نائب رہا۔ بلوچ راج آجوئی سانگر (BRAS) نے بلوچ نیشنل آرمی (BNA) کے نام سے ایک نئی عسکری تنظیم تشکیل دی۔ گلزار امام شنبے ایک شدت پسند تھا جو بلوچستان اور خاص طور پر جنوبی بلوچستان میں عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں کو چلانے میں ایک اہم کردار رہا۔

گلزار امام شنبے نام نہاد آزاد بلوچستان کا قائل تھا اور دشمن انٹیلی جنس ایجنسیز سے رابطے میں تھا۔ شنبے نے دسمبر 2017 میں جعلی دستاویزات پر ہندوستان کا دورہ بھی کیا جو اس کے دشمن ممالک سے تعلقات کا ثبوت ہے۔ گرفتاری سے قبل شنبے شدت پسند گروپ بلوچ راج آجوئی سانگر کا آپریشنل سربراہ بھی رہا۔گلزار امام شنبے کو کیسے گرفتار کیا گیا گلزار امام شمبے کی گرفتاری پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کے کلاسیکل انٹیلی جنس آپریشن کا نتیجہ ہے۔ عسکریت پسند گروپوں کے تنظیمی ڈھانچوں اور قیادت کی معلومات کو تحقیقات اور ان تنظیموں کے اندر موجود جاسوسوں کے ذریعے نکالا گیا۔ جدید ترین ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور سافٹ ویئر کے استعمال کے ذریعے ان معلومات کی تصدیق کی گئی اور ان کی جانچ پڑتال کی گئی۔ اس طرح دشمن کے ہاتھوں استعمال ہونے والے دہشت گرد نیٹ ورکس تک رسائی حاصل ہوئی۔گلزار امام شنبے کی شناخت وسیع پیمانے پر کی گئی کوششوں کے بعد ہوئی جس میں انتہائی خفیہ ڈیجیٹل اسپیس کے تحت مختلف دہشت گرد نیٹ ورکس کی نشاندہی کی گئی۔ ڈیجیٹل معلومات کی تصدیق کے لیے اعلی تربیت یافتہ انٹیلی جنس آپریٹرز کو مختلف مقامات پر تعینات کیا گیا تھا۔ گلزار امام شمبے کی موجودگی کی تصدیق پر ایجنٹوں نے خفیہ لبادہ اوڑھ کر اس سے رابطہ کیا۔ تعلقات بنانے کے بعد اسے آہستہ آہستہ مالی اور تکنیکی مدد کی پیشکش کے ذریعے لالچ دیا گیا۔ اس انٹیلی جنس آپریشن کو فرضی کرداروں، دستاویزات کی تیاری اور ناقابل شناخت ذرائع سے وسائل کی ترسیل کے ذریعے انجام دیا گیا۔ اس طرح بالآخر گلزار امام شنبے کے ساتھ رابطے کو بڑھایا گیا اور بعد ازاں اسے گرفتار کیا گیا۔ یہ آپریشن مہینوں پر محیط تھا۔ تاہم، اس کا کلائمیکس پیشہ ورانہ انداز میں 12 گھنٹے سے کم وقت میں سرانجام دیا گیا۔

Comments are closed.