بچوں کے تحفظ اور سیکھنے کے محفوظ ماحول کو یقینی بنانے کی طرف قدم

اسلام آباد (آن لائن) وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت، وزارت قانون و انصاف، پارلیمانی کاکس برائے بچوں کے حقوق، اور اقوام متحد و ادارہ اطفال (یونیسیف) پاکستان نے ایک تاریخی تعاون میں اکٹھے ہو کر ” اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری پر مبیشن آف کار پورل پنٹمنٹ رولز ، 2022۔ "کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اہم تقریب اسلام آباد ماڈل کالج برائے گرلز (F-10/2 (IMCG میں منعقد ہوئی۔اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری پر میسیشن آف کار پورل پنشمنٹ رولز ، 2022” کا اجرائ دارالحکومت کے علاقے میں بچوں کو جسمانی سزا کی لعنت سے بچانے کی انتھک کوشش میں ایک تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ جامع قواعد جو آج سے لاگو ہیں، "جسمانی سزا کی روک تھام کے ایکٹ، 2021” کے تحت ہیں جو جسمانی سزا کو ختم کرنے اور بچوں کے لئے ایک محفوظ ماحول پیدا کرنے کی خاطر حکومت اور دیگر شراکت کاروں کے عزم کو تقویت دیتے ہیں۔حاضرین کا خیر مقدم کرتے ہوئے، اسلام آباد ماڈل کالج فار گرلز F-10/2 کی پرنسپل مہناز اکبر عزیز نے وفاقی تعلیم اور قانون کی وزارتکی مشتر کہ انتھک کوششوں کو سراہا اور جسمانی سزا کے خلاف ان کے عزم کی تکمیل پر ان کا شکر یہ ادا کیا۔وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف، اعظم نذیر تارڑ نے جسمانی سزا کے قوانین کو نافذ کرنے پر شراکت کاروں کو مبارکباد دی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اخلاقیات اور اقدار کو زبردستی یا سزا کے ذریعے لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک دیر سے اٹھایا گیا لیکن درست سمت میں ایک قدم ہے۔

” آج سے ان اصولوں کا نفاذ پاکستان کا حتمی مستقبل کے حصول میں ایک بنیادی رکاوٹ کو ختم کرتے ہوئے بچوں کی فلاح و بہبود کے لئے ہمارے وسیع تر وڑن کے حصول میں مدد دے گا۔ ” انہوں نے مستقبل میں بھی بچوں کے حقوق اور اس سے متعلقہ قانون سازی کے مقصد کی مکمل حمایت کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت رانا تنویر حسین نے بھی بچوں کے حقوق کو برقرار رکھنے اور عدم تشدد کے کلچر کو فروغ دینے میں ان قواعد کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ ” آئے ان قوانین کو مو¿ثر طریقے سے نافذ کرنے کے لئے مل کر کام کریں اور ایک ایسا ماحول تشکیل دیں جہاں ہر بچہ محفوظ ماحول میں پرورش کر سکے۔ ” انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ قواعد اسکولوں میں تشدد کو کم کرنے کے آغاز کے طور پر کام کریں گے اور وہ اس کی پیروی کرنے کے لئے تمام صوبائی وزارات تعلیم کو خط لکھنے کا عزم رکھتے ہیں۔بل کی تحریک پیش کرنے والی اور پارلیمانی کاکس برائے بچوں کے حقوق کی کنویز اور پارلیمانی سیکر ٹری قانون و انصاف مہناز اکبر عزیز نے اپنے خطاب میں قوانین کی اہمیت اور بچوں کی زندگیوں پر ان کے تبدیلی کے اثرات کا خاکہ پیش کیا۔ ” آج کا دن ہمارے بچوں کی حفاظت اور ان کی نشو و نما اور نشوو نما کے لئے محفوظ جگہیں پیدا کرنے کی جانب ایک یاد گار قدم ہے۔ جسمانی سزا کے قوانین کا اجرائ بچوں کی فلاح و بہبود اور ان کے حقوق کو بر قرار رکھنے کے لئے ہمارے عزم کا واضح ثبوت ہے۔ یہ قواعد پورے اسلام آباد میں تعلیمی اداروں اور بچوں کے دیگر متعلقہ اداروں سے جسمانی سزا کے خاتمے کے لئے واضح رہنما اصول اور ان کے نفاذ کے لئے سخت اقدامات فراہم کریں گے۔ مجھے امید ہے اس اقدام سے وقت اسکول سے باہر 2.4 ملین بچوں کو اسکول جانے کی ترغیب بھی ملے گی۔”انہوں نے انکشاف کیا کہ انہوں نے اس انتہائی ضروری قانون سازی کی حمایت میں وزیر اعظم میاں شہباز شریف، وفاقی وزیر تعلیم، وفاقی وزیر قانون اور پھر اس وقت کے اسپیکر قومی اسمبلی کی حمایت حاصل کی۔

انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ قانون سازی کے دائرہ کار میں سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے، یتیم خانے ، بچوں کے ساتھ انصاف کا نظام، رسمی اور غیر رسمی تعلیمی ادارے شامل ہیں جب کہ اس پر عمل درآمد کی نگرانی وزارت تعلیم کرے گی۔پاکستان میں یونیسیف کے نمائندے، جناب عبد اللہ اسے فاضل نے اپنے خطاب میں کہا کہ "جسمانی سزا فوری طور پر درد اور تکلیف کا باعث بن سکتی ہے، اور افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ ناقابل تلافی نقصان اور زندگی بھر کے روگ میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔ بچوں سے متعلق تمام اداروں، خاص طور پر اسکولوں میں، جسمانی سزا کی روک تھام ایک اہم قدم ہے۔ ہمیں فوری طور پر عملی اقداما کرنے اور اپنا سارا وزن اس ایکٹ کے پیچھے ڈالنے کی ضرورت ہے، تا کہ پاکستان میں تمام بچے ایک محفوظ ماحول میں سیکھنے اور نشود نما حاصل کرنے کے قابل ہو سکیں اور ایک ایسے معاشرے میں محفوظ زندگی گزاریں جو ان کے حقوق اور وقار کا احترام کرتا ہو اور اسے بر قرار رکھتا ہو۔زندگی ٹرسٹ کے سربراہ شہزاد رائے نے اس معاملے پر آگہی کے لئے ملک بھر میں مہم چلانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور والدین اور اساتذہ کی ذہنیت کو تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔رسمی خطابات کے بعد حلف برداری کی تقریب منعقد کی گئی جس میں مختلف تعلیمی شعبوں، سرکاری اور نجی اسکولوں ، مدارس، یتیم خانوں اور SOS ولیج کے سربراہان نے اپنے اسکولوں اور اداروں میں ان اصولوں کو عملی جامہ پہنانے کا عہد کیا۔ تقریب رونمائی کا اختتام بچوں کی جانب سے پیش کئے گئے ایک پر جوش خاکے پر ہوا، جس میں جسمانی سزا کے خاتمے اور نوجوان نسل کے لئے پرورش کا بہتر ماحول پیدا کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا۔قواعد کی رونمائی کی اس تقریب میں اہم اسٹیک ہولڈرز کی فعال شرکت کا مشاہدہ کیا گیا۔ جن اعلیٰ شخصیات نے اس تقریب میں شرکت کی ان میں محترمہ عائشہ رضا فاروق، چیئر پرسن قومی کمیشن برائے بچوں کے حقوق؛ جناب زمرد خان، سربراہ سویٹ ہومز، وفاقی وزارت برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت، وزارت قانون و انصاف کے نمائندے شامل تھے۔ تقریب میں سول سوسائٹی کے اراکین، میڈیا، معززین، شراکت داروں اور اسکول کے بچوں نے بھی شرکت کی۔

Comments are closed.