18ویں آئینی ترمیم نے صوبوں کو صحت سے متعلق امور پر بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کیا‘یوسف رضا گیلانی
اسلام آباد(آن لائن)چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہاہے کہ 18ویں آئینی ترمیم نے صوبوں کو صحت سے متعلق امور پر بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ چیئرمین سینیٹ نے ان خیالات کا اظہار اتوار کو اسلام آباد میں صحت سے متعلق آگاہی سیمینار میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ اس کے تحت صوبے اپنی آبادی کی ضروریات کے مطابق مقامی حل نکالنے میں اقدامات اٹھا سکتے ہیں۔اختیارات کی منتقلی نے صحت سے متعلق ایک جامع، شراکتی فریم ورک بنانے میں مدد کی ہے۔ وقت آگیا ہے کہ پاکستان میں ہیلتھ کیئر کو بہتر بنانے کے لیے اجتماعی کوششیں کی جائیں۔عوام کو نہ صرف وہ دیکھ بھال ملے جس کے وہ مستحق ہیں بلکہ ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کی جائے جو صحت کو ترقی کی بنیاد کے طور پر اہمیت دے۔
وزیر اعظم کے طور پر اپنے دور میں ہیلتھ کیئر کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے۔بنیادی صحت کے شعبے کو بہتر بنانے اور شہری و دیہی علاقوں کے درمیان رسائی کے فرق کو ختم کرنے پر توجہ دی جائے۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ حکومت نے وسائل کو متحرک کرنے کے لیے ان کی قیادت میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو فروغ دیا۔ہنر مند ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کی کمی کو پورا کرنے کے لیے انسانی وسائل کی ترقی میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی۔سب سے زیادہ تبدیلی لانے والے سنگ میلوں میں سے ایک 18ویں آئینی ترمیم تھی۔ہیلتھ کیئر نظام تک رسائی نہ صرف بنیادی انسانی حق ہے بلکہ قومی ترقی کی بنیاد بھی ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے صحت کے اہم مسائل کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے اس اہم تقریب کے انعقاد پر تیانشی انٹرنیشنل پاکستان کی تعریف کی۔ انہوں نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ سینیٹ ہیلتھ کیئر کے نظام کو مضبوط بنانے اور معیاری دیکھ بھال تک رسائی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے موثر کردار کرتا رہے گا۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ آج کا سیمینار صحت کے بارے میں بیداری اور فلاح و بہبود کو فروغ دینے کے ہمارے اجتماعی عزم کا ثبوت ہے۔
Comments are closed.