حالیہ مہینوں میں دہشتگردی کی نئی لہر نے ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بجا دی،عبد القیوم

فیصل آباد(آن لائن) پاکستان سروس مین سوسائٹی کے صدر جنرل(ر)عبدالقیوم نے کہاہے کہ حالیہ مہینوں میں دہشتگردی کی نئی لہر نے ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بجا دی، دہشتگردی کے پیچھے کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کا بڑا ہاتھ ہے، دہشتگردی میں بھارتی خفیہ ایجنسی ”را” ملوث ہے، جو پاکستان میں امن و امان کو خراب کرنا چاہتی ہے۔ بلوچستان کے بارڈرز کو مضبوط کرنے اور دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو جڑ سے ختم کرنے کی اشد ضرورت ہے فوج کے خلاف سازشیں ملک کے مفاد کے خلاف ہیں اور ہمیں ان سے باز رہنا چاہیے، ہماری فوج دنیا کی آٹھویں بہترین فوج ہے، جو ہمیشہ ملک کے دفاع میں پیش پیش رہی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روزآن لائن سے خصوصی گفتگو کر تے ہوئے کیا انہوں نے دہشتگردی کو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ2012 اور 2013 میں دہشتگردی کے باعث ہزاروں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، لیکن میاں نواز شریف کے دور میں شروع کیے گئے آپریشنز کے باعث اموات کی شرح میں نمایاں کمی آئی۔ تاہم حالیہ مہینوں میں دہشتگردی کی لمحہ فکریہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے پیچھے کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کا بڑا ہاتھ ہے، جنہیں جدید اسلحہ میسر ہے جو افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد چھوڑا گیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے فوری اور مثر اقدامات کیے جائیں، کیونکہ دہشتگردی کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد ختم ہو جاتا ہے، جو معیشت کے لیے زہر قاتل ہے۔بلوچستان اور بلوچستان کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے موجودہ چیلنجز اورملک کی سلامتی اور ترقی کے لیے اہم تجاویز پیش کرتے ہوئے مزہد کہاکہ موجودہ صورتحال میں معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے اور مہنگائی کی شرح چھ فیصد سے بھی نیچے آ چکی ہے۔ تاہم، یہ وقت آرام کرنے کا نہیں بلکہ مزید محنت کا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کی تعمیر و ترقی میں ہر شہری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، کیونکہ ”اگر ملک نہیں ہوگا تو ہم بھی نہیں ہوں گے۔”جنرل(ر) عبدالقیوم نے نے پاک فوج کی بہادری اور خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہماری فوج دنیا کی آٹھویں بہترین فوج ہے،

جو ہمیشہ ملک کے دفاع میں پیش پیش رہی ہے۔ تاہم، یہ افسوسناک ہے کہ ہمارے اپنے لوگ فوج کے خلاف بیانیہ بنا رہے ہیں، جو دشمن ممالک کے نظریے کو تقویت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کے خلاف سازشیں ملک کے مفاد کے خلاف ہیں اور ہمیں ان سے باز رہنا چاہیے۔افغانستان کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے جنرل(ر)عبدالقیوم نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ دونوں ممالک کو مل جل کر مسائل کے حل کے لیے بات چیت کرنی چاہیے تاکہ خطے میں امن قائم ہو سکے۔ آخر میں انہوں نے دعا کی کہ پاکستان ترقی اور کامیابی کے سفر پر گامزن رہے اور ملک سے دہشتگردی، غربت، اور عدم استحکام کا خاتمہ ہو۔ ہمیں اپنی تمام تر توانائیاں ملک کی سلامتی، ترقی، اور خوشحالی کے لیے وقف کرنی ہوں گی۔جنرل (ر)عبدالقیوم نے معزز قائدین سے اپیل کی کہ وہ دہشتگردی کے خاتمے اور معیشت کی بحالی کے لیے بھرپور اقدامات کریں، تاکہ پاکستان ایک مضبوط اور مستحکم ملک بن سکے۔

Comments are closed.