پوری قوم ملک کے دفاع کیلئے پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے‘ طاہراشرفی

اسلام آباد(آن لائن) پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین مولانا طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ پوری قوم ملک کے دفاع کیلئے پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے‘ ملک میں جہاں بھی امن و امان کو خراب کیا جائے تو ایسے عناصر کے خلاف آپریشن ہونا چاہیے۔سوموار کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ طاہر اشرفی نے کہاکہ مدارس رجسٹریشن کا مسئلہ بخوبی حل ہوگیا ہے انہوں نے کہاکہ جو مدارس وزارت تعلیم سے الحاق چاہتے تھے ان کا بھی مطالبہ پورا ہوگیا اور جن کا مطالبہ وزارت صنعت سے الحاق کا تھا ان کا مطالبہ بھی پورا ہوگیا انہوں نے کہاکہ علما کرام نے سنجیدگی کا مظاہرہ کرکے اس مسئلے کو حل کیا ہے انہوں نے کہاکہ ضلع کرم میں زمین کا جھگڑا ہے یا فرقہ وارانہ کشیدگی ہے اس مسئلے کو مستقل حل ہونا چاہئے اور تمام اکابرین تلخی کی بجائے مثبت رویے اپنائیں انہوں نے کہاکہ پاکستان علما کونسل اپنی پگڑیاں دونوں فریقوں کے قدموں پر رکھنے کو تیار ہیں اور کراچی سمیت جہاں جہاں راستے بند ہیں وہ کھولے جائیں اور لوگوں کی مشکلات کا ادراک کیا جائے انہوں نے کہاکہ سب ملکر بیٹھیں اور مسئلے کو بگاڑنے کی بجائے سدھاریں انہوں نے کہاکہ اسرائیلی وزیر مسلسل مسجد الاقصی کو گرانے کی دھمکیاں دے رہا ہے ہماری حکومت نے اسرائیلی وزیر کے بیان پر ردعمل دیا ہے مگر اس سے بھی زیادہ ردعمل دینے کی ضرورت ہے اور فلسطینیوں کے لئے پاکستان زیادہ سے زیادہ خیمے فراہم کرے علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ پاکستان ہماری سرزمین اور افغانستان ہمارا بھائی ہے ہمیں افغانستان دھمکیاں نہ دیں ہمارا سوال یہ ہے کہ ہمارے مساجد و امام بارگاہوں کو خون میں نہلانے والے آپ کی پناہ میں کیوں ہیں انہوں نے کہاکہ ہم نے افغانوں کو پورا موقع اپنے معاشرے میں دیا ہمیں خوشی تھی کہ بھارت نواز حکومت چلی گئی اور پاکستان نواز حکومت آئی ہے انہوں نے کہاکہ ہم کمزور نہیں ایٹمی قوت ہیں اور ملکی سلامتی کے لئے کل بھی فرنٹ لائن پر کھڑے تھے اور آج بھی کھڑے ہیں انہوں نے کہاکہ ہمارے دل دکھی ہیں ہمارے جوانوں کی لاشیں روز آتی ہیں انہوں نے کہاکہ اگر نوے ہزار شہادتوں سے ہم کمزور نہیں ہوئے تو اب بھی نہیں ہوں گے ہمارے سپہ سالار آج آواز دیں تو ہم ان کا بھرپور ساتھ دیں گے کرم کیا پورے ملک میں اسلحہ نہیں ہونا چاہئے انہوں نے کہاکہ امن و امان کی خرابی کا باعث کوئی بھی ہو اس کے خلاف آپریشن ہونا چاہیے۔۔۔۔

Comments are closed.