ملکی تاریخ میں پہلی بار حکومتیں اورادارے ملکی ترقی کیلئے ملکر کام کر رہے‘ آرمی چیف کا ملک کی بہتری کیلئے تعاون قابل ستائش ہے
مشکل حا لات میں ہم نے آئی ایم ایف پروگرام کیلئے کوششیں شروع کیں تو راہ میں روڑے اٹکانے کیلئے آئی ایم ایف کو خطوط لکھے گئے‘ اس سے بڑی زیادتی کیا ہو سکتی ہے‘اڑان پاکستا ن پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب
اسلام آباد (آن لائن) وز یر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت سنبھالی تو ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا ، آج معیشت مستحکم ہو چکی ، ترقی کے سفر کو جاری رکھنے کے لئے اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا ، ملکی تاریخ میں پہلی بار حکومتیں اورادارے ملک کی ترقی کے لئے مثا لی طرز پر مل کر کام کر رہے ہیں۔ آرمی چیف کا ملک کی بہتری کیلئے تعاون اور معاونت قابل ستائش ہے ۔ اڑان پاکستا ن پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا آج ایک عظیم دن ہے جس روز اڑان پاکستان پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے ۔ بے پناہ چیلنجز کے باوجود ہم نے میکرو اکنامک ا استحکام حاصل کر لیا ہے لیکن یہ صرف آغاز ہے ۔ اتحاد اور یکجہتی کے ذریعے آگے برھنا ہو گا اس سفر میں بے پناہ مشکل مرا حل آئے ، ہم نے اس معاشی کامیابی کے لئے خون پسینہ بہایا ، ہمارے لئے آخری نو ماہ کا سفر بے پناہ مشکل تھا ۔ انہوں نے کہا ہمارا یہ سفر مضبوط معیشت سے مستحکم معیشت تک کا ہے ۔ انہوں نے کہا ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا ۔ اتحادی حکومت نے فیصلہ کیا کہ ملک بچانے کے لئے سیاست کی قربانی دیں گے ۔ مشکل حا لات میں ہم نے آئی ایم ایف پروگرام کیلئے کوششیں شروع کیں تو راہ میں روڑے اٹکانے کیلئے آئی ایم ایف کو خطوط لکھے گئے‘ اس سے بڑی زیادتی کیا ہو سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا جون کے چوتھے ہفتے میں آئی ایم ایف پراوگرام کی منظوری دی گئی ۔ نو ماہ میں نہ یہ میرا نہ کسی اور کا کمال تھا بلکہ اللہ کا بے پایاں کرم تھا ۔ انہوں نے کہا کہ معاشی بہتری کے سفر میں عوام ک نے بھی قربا نیاں دیں ، مہنگائی کا طوفان برداشت کیا ، کاروباری حضرات پا لیسی ریٹ بائیس فیصد دیکھ کر خوفزدہ ہو گئے تھے تاہم سب برداشت کیا ۔ انہوں نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخا ئر بے پناہ محدود تھے مجبورا آئی ایم ایف پروگرام لینا پڑا ۔ اس پروگرا م کے لئے وفاق اور صوبوں نے ایک دوسرے سے تعاون کیا ۔ انشااللہ یہ آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ہو گا ۔ انہوں نے کہا پاکستان بے پناہ وسائل سے مالا مال ملک ہے یہاں کروڑوں لوگ ہیں جو ذئین، باصلاحیت اور محنت کرنے والے ہیں، قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہونے کے باوجود سوچنے کی بات ہے کہ ہمیں آئی ایم ایف کا پروگرام کیوں لینا پڑ تا ہے ۔
انہوں نے کہا ستتر سالوں میں کھربوں خسارے ہوے اہیں ۔ گذشتہ دس سال میں بھی ملک نے نے بڑے پیمانے پر خسارے برداشت کئے ۔ ماضی کی حکومت نے بجلی کے شعبے میں دو کھرب روپے کا خسارہ کیا ۔ اگر بجلی چار کھرب کی بنا کر دو کھر ب میں بیچیں گے تو خسارہ کس کے کھاتے میں جائے گا ۔ ملک کو بد ترین کرپشن کا بھی سامنا رہا ۔ ایسے میں ہمیں ہمیشہ قرضوں کا سہارا لینا پڑا انہوں نے کہا کہ ہم اقوام عالم میں فخر سے سر اٹھا کر چلنا چاہتے ہیں تو قرضوں کے بوجھ سے ملک کو نکالنا پڑیگا ہمیں اپنی قرضوں کی ادائیگیوں کے لئے بھی قرض لینا پڑتا ہے ۔ قرضوں کے بوجھ سے نکلنے کے لئے ہمیں اپنے وسائل پر انحصار کرنا ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان دنیا کی ترقی کا پہیہ گھمانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ اگر ہم بھی نوجوانوں کو بہترین تعلیم و تربیت دیتے تو ترقی کر رہے ہوتے ، تاہم اب روونے دھونے سے کچھ نہیں ہو گا ہمیں ماضی کی غلطیوں سے سیکھنا ہو گا اور آگے برھنا ہو گا ، پوری قوم کو یکجان ہو کر آگے بڑھنے کا عزم کرنا ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان اقوام عالم میں اپنا کھو یا مقام حاصل کر لے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومت نے دوست ممالک سے بھی تعلقات خراب کئے اور ملک کو سفارتی تنہائی کی طرف بھی د ھکیلا ۔ ایک دوست ملک کی جانب سے مجھے بتایا گیا کہ ایک ارب ڈالر قرضہ مانگا گیا تاہم وہ آدھا ارب دینے پر راضی ہوا تاہم سخت لہجے کے ساتھ جو رقم مل رہی تھی وہ بھی ٹھکرائی گئی ۔
ایک طرف ہم مانگ رہے ہیں دوسری طرف اکڑ دکھا رہے ہیں کتنی عجیب بات ہے انہوں نے کہا کہ منوہن سنگھ نے نواز شریف کے معاشی اصلاحاتی ایجنڈے کو فالو کر کے اپنے ملک کو معاشی ترقی دی تاہم بدقسمتی سے نواز شریف کی حکومت کو گرا کر ہم نے اپنی معیشت کو ڈبویا ۔ نواز شریف کے دور میں ملک نے قابل تقلید ترقی کی ۔ انہوں نے کہا کہ اب ایک بار پھر ملکی معیشت بہتری کی جا نب گامزن ہے ۔ مہنگائی پانچ فیصد سے کم ہوگئی ، زر مبادلہ اور ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے ۔ آئی ٹی برآمدات میں چونتیس فیصداضافہ ہوا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکومتیں اور ادارے مل کر کام کر رہے ہیں ایسی شراکت داری ملکی تاریخ میں کبھی نہیں دیکھی ۔ آرمی چیف کی طرف سے ترقی کے اس سفر میں بیمثال تعاون اور معاونت ہے ، جو قابل ستائش ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ابھی پیداوار کو مستحکم کرنے کئے لمبا سفر طے کرنا ہو گا مہنگی بجلی سے پائیدار ترقی کا ہدف ممکن نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی کی ایکسپورٹ میں 34 فیصد اضافہ ہوا ہے، یہ حکومت اور ایس آئی ایف سی کی محنت کا نتیجہ ہے، حکومت اور ادارے مل کر کام کر رہے ہیں، ماضی میں اس طرح کی پارٹنرشپ اداروں میں نہیں دیکھی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے بڑے وسو سے ہیں لیکن دعا کرتا ہوں آئندہ بھی یہ پارٹنرشپ قیامت تک جاری رہے، قومیں اتحاد اور اتفاق سے بنتی ہیں، برآمدی معیشت کے قیام کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی ضروری ہے، اْڑان پاکستان کا محور ملکی برآمدات کا فروغ ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ نوجوان ہمارا اثاثہ ہیں، نوجوانوں کو ہرممکن سہولیات فراہم کریں گے، آج ڈیجیٹل اکانومی کا زمانہ ہے، آئی ٹی شعبے کے فروغ کے لیے تمام وسائل فراہم کریں گے، اگر پاکستان کو آگے لے کر جانا ہے تو ٹیکسز کو کم کرنا ہوگا، میرا بس چلے تو ٹیکس کم کر دوں، ٹیکس کم کرنے کا وقت آئے گا۔
Comments are closed.