اسلام آباد(آن لائن) قومی اسمبلی کی نجکاری کمیٹی نے پی آئی اے کی نجکاری پر ہونے والے اخراجات کی تفصیلات طلب کر لی ہیں ،کمیٹی نے ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن کی نجکاری شفاف طریقے سے کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔جمعرات کو کمیٹی کا اجلاس چیرمین ڈاکٹر فاروق ستار کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا اجلاس میں کمیٹی اراکین کے علاوہ سیکرٹری نجکاری سمیت دیگر حکام نے شرکت کی اجلاس میں نجکاری کمیشن ترمیمی بل 2024 پر بحث کی گئی اس موقع پر سیکرٹری نجکاری نے کہاکہ کمیٹی نے ہمیں چار ہدایات دیں تھیں جن پر عملدرآمد کیا گیا انہوں نے کہاکہ کمیٹی نے روزویلٹ ہوٹل کی نجکاری شفاف انداز میں کرنے کی ہدایت کی تھی اور روز ویلٹ جب بھی نجکاری کی جائے گی تو شفاف ہوگی انہوں نے بتایا کہ ہاوس بلڈنگ فنانس کارپوریشن کی نجکاری ایڈوانس مرحلے میں ہے اور جلد ہی پراسس مکمل کر لیا جائے گاانہوں نے کہاکہ ایچ بی ایف سی کے حتمی معاہدہ پر اتفاق رائے ہو گیا ہے ایچ بی ایف سی کی نجکاری کی نجکاری بورڈ اور کابینہ کمیٹی سے منظوری لی جائے گی انہوں نے کہاکہ ایچ بی ایف سی کی خریداری میں دلچسپی رکھنے والی پارٹی نے اہم شرائط پر اتفاق کر لیا ہے اور نجکاری کی منظوری کے بعد خریدار کو قیمت کے تعین کا کہا جائے گا
انہوں نے کہاکہ شرح سود میں کمی کے باعث گھروں کیلئے فنانسنگ سہولت میں اضافہ ہوگا کی حتمی ٹرم اینڈ کنڈیشنز کو کمیٹی کے ساتھ بھی شیئر کیا جائے، چیئرمین کمیٹی کمیٹی اراکین کو کابینہ کمیٹی کے چیئرمین سے ملاقات کروائی جا سکتی ہے رکن کمیٹی خواجہ شیراز نے استسفار کیا کہ نجکاری میں صرف ایک ہی بولی دہندہ کیوں رہ جاتا ہے کیا حکومت نجکاری میں سنجیدہ ہے یا صرف سب نمائشی ہو رہا ہے انہوں نے کہاکہ پی آئی اے میں جگ ہنسائی کے بعد اب ایچ بی ایف سی کیلئے بھی ایک بڈر ہے جس پر سیکرٹری نجکاری کمیشن نے بتایا کہ ایچ بی ایف سی کی نجکاری میں شرکت کیلئے شرائط سخت تھیں اور آخر تک صرف دو بڈر رہ گئے تھے ان میں سے ایک اسٹیٹ بینک کی شرائط پورا نہ کر سکا تھا جس کی وجہ سے ایک بہی بڈر رہ گیا ہے اس موقع پر رکن کمیٹی سحر کامران نے استفسار کیا کہ کیا پی آئی اے کی پروازوں کیلئے کے یورپی روٹ کھل گئے ہیں اب تو پی آئی اے کی نجکاری میں بہت اچھی قیمت مل سکتی ہے انہوں نے کہاکہ پی آئی اے کی نجکاری پر کتنے اخراجات آئے اس کا ذمہ دار کون ہے رکن کمیٹی خواجہ شیراز نے کہاکہ نجکاری کے طریقہ کار میں کوئی خامی ہے اس لیے نجکاری نہیں ہو پا رہی ہے جس پر چیرمین کمیٹی نے کہاکہ ہمیں یوسف بننے میں وقت لگے گا تب ہی مول لگے گا انہوں نے کہاکہ پی آئی اے کے مالیاتی مشیر کی کارکردگی کیسی رہی یہ دیکھنا بھی ضروری ہے انہوں نے حکام نے استسفار کیا کہ کمیٹی کو اگاہ کیا جائے کہ پی آئی اے کی نجکاری میں کتنا خرچہ ہو اتھا جس پر سیکرٹری نجکاری نے کہاکہ اس سلسلے میں تمام معلومات فراہم کر دیں گے جس پر کمیٹی نے پی آئی اے کی نجکاری پر خرچ ہونے والے اخراجات کی تفصیلات اگلے اجلاس میں فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
Comments are closed.