اسپین؛ تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے 40 پاکستانی سمیت 50 افراد ہلاک

میڈرڈ‘اسلام آباد(آن لائن)درجنوں تارکین وطن کشتی کے ذریعے اسپین جانے کی کوشش میں گہرے سمندر میں حادثے کا شکار ہوگئے جن میں 40پاکستانیوں سمیت 50افراد ہلاک ہوگئے۔ صدرآصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کا مغربی افریقہ سے اسپین کی جانب جانے والی کشتی کے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہارکرتے ہوئے جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں کی بلندی ء درجات کی دعاء اوران افراد کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا ہے ۔ وزیراعظم نے وزیراعظم نے متعلقہ حکام سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ جیسے مکروہ عمل میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی ہو گی۔ وزیراعظم نے کہاکہ اس حوالے سے کسی بھی قسم کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی‘انسانی اسمگلنگ کے خلاف بھرپور اقدامات اٹھا رہے ہیں۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے اسپین جانے والی کشتی کے حادثے میں 40 سے زائد پاکستانیوں کی ہلاکت پر اظہار افسوس اورحادثے میں قیمتی جانی نقصان پر گہرے رنج اور افسوس کا اظہار اور لواحقین کے ساتھ اظہار تعزیت کرتے ہوئے اِنسانی اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے موثر اور دور رس اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔صدر مملکت نے جان بحق افراد کے سوگواران کے ساتھ اظہار ہمدردی اور جاں بحق افراد کیلئے دعائے مغفرت، اہل خانہ کیلئے صبر جمیل کی دعا کی۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق تارکین وطن کے حقوق کے گروپ واکنگ بارڈرز نے بتایا کہ یہ کشتی مغربی افریقا سے اسپین کے لیے روانہ ہوئی تھی۔2 جنوری کو موریطانہ سے روانہ ہونے والی اس کشتی میں 86 افراد سوار تھے جن میں سے 66 پاکستانی تھے۔ صرف 36 تارکین وطن کو بچایا جا سکا۔الارم فون نامی تنظیم نے بتایا کہ 6 روز قبل لاپتا ہونے والی اس کشتی کے بارے میں تمام فریق ممالک کے حکام کو آگاہ کر دیا تھا۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ 12 جنوری کو اسپین کی میری ٹائم ریسکیو سروس کو الرٹ کر دیا تھا تاہم انھوں نے بتایا تھا کہ اسے کشتی کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔واکنگ بارڈرز کی سی ای او ہیلینا مالینو نے ایکس پر کہا کہ ڈوبنے والوں میں سے 44 کا تعلق پاکستان سے تھا جنھوں نے کراسنگ پر 13 دن تک اذیت میں گزارے لیکن کوئی انہیں بچانے کے لیے نہیں آیا۔واکنگ بارڈرز کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس 2024 میں اسپین پہنچنے کی کوشش میں 10 ہزار 457 تارکین وطن مارے گئے جوکہ ایک ریکارڈ ہے۔

Comments are closed.