اسلام آباد(آن لائن)وزیرِ اعظم شہبازشریف نے محصولات کے حوالے سے کیسز کا فرانزک آڈٹ کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمزور یا غلط بنیادوں پر کیسز بنانے میں ملوث پائے گئے افسران کو قرار واقعی سزا دی جائے گی‘دیانتداری اور محنت سے میرٹ پر کیسز بنائے انکو خصوصی انعام سے نوازا جائے۔وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر کے محصولات کے حوالے سے زیر التوا کیسز پر جائزہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔وزیراعظم نے کہا کہ محصولات سے متعلق تمام کیسز کو جلد سے جلد نمٹانے کیلئے اقدامات کئے جائیں‘ٹیکس محصولات سے متعلق کیسز میں ایف بی آر کی جانب سے اچھی شہرت کے حامل وکلاء کی خدمات لی جائیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ایف بی آر کے نظام میں تیزی سے اصلاحات نافذ کر رہے ہیں۔
الحمد للہ ایف بی آر میں اصلاحات کے مثبت نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے۔وزیرِ اعظم نے محصولات کے حوالے سے کیسز کا فرانزک آڈٹ کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے افسران جو کمزور یا غلط بنیادوں پر کیسز بنانے میں ملوث پائے گئے انکو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ایسے افسران جنہوں نے دیانتداری اور محنت سے میرٹ پر کیسز بنائے انکو خصوصی انعام سے نوازا جائے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم کی ہدایت کے بعد اچھی شہرت کے وکلاء کو پینل پر لانے سے جولاءء تا دسمبر 2024 ہائی کورٹ میں 586 کیسز جبکہ سپریم کورٹ میں 637 زیر التواء کیسز نمٹائے گئے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک کی مختلف عدالتوں و ٹریبیونلز میں 4.7 ٹریلین روپے کے 33522 کیسز اس وقت التواء کا شکار ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم کی ہدایات کے مطابق اعلی عدالتوں کے حوالے سے ایف بی آر میں لٹیگیشن مینجمنٹ ڈیش بورڈ تیار ہوچکا جبکہ وزارت قانون و انصاف میں ٹیکس ٹریبیونلز مینجمنٹ سسٹم کی تیاری بھی حتمی مراحل میں ہے جس کا اجراء جلد کر دیا جائے گا۔وزیرِ اعظم نے زیر التواء کیسز کو جلد نمٹائے جانے کیلئے اقدامات کو تیز کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں وفاقی وزیرِ برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ، اٹارنی جنرل منصول اعوان، چیئرمین ایف بی آر اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔
Comments are closed.