اسلام آباد(آن لائن)ایوان بالا کو وفاقی وزیر قانون و پارلیمانی امور سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے بتایا ہے کہ خفیہ معلومات کو افشاء کرنے کے حوالے سے قانون موجود ہے اور جو بھی اس میں ملوث پایا جاتا ہے اس کو قانون کے مطابق سزا دی جاتی ہے۔جمعہ کو ایوان بالا میں وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر قرات العین مری نے ضمنی سوال کرتے ہوئے کہاکہ حساس معلومات افشاکرنے کے حوالے سے سزا کا کوئی قانون موجود ہے وفاقی وزیر قانون و پارلیمانی امور سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ حساس معلومات کا افشاء نہیں ہوسکتا ہے اور جو بھی سرکاری ملازم اپنے فرائض سے روگردانی کرتا ہے اس کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی ہوتی ہے انہوں نے کہاکہ نادرا ،نیشنل پولیس بیورو کو حساس معلومات تک رسائی ہوتی ہے تاہم اس معلومات تک عام شخص کی رسائی نہیں ہوتی ہے انہوں نے کہاکہ اس وقت صرف ایک ملک برطانیہ کے ساتھ معاہدہ ہے اور مستقبل میں دیگر ممالک کے ساتھ بھی معاہدے ہونگے سینیٹر قرت العین مری نے کہاکہ پولیس کو حساس معلومات پر کیوں رسائی دی گئی ہے اور جو لوگ جنسی جرائم میں ملوث ہوتے ہیں اس حوالے سے کیا اقدامات اٹھائے جاتے ہیں جس پر وفاقی وزیر نے کہاکہ ابھی تک یہ صرف مغربی ممالک میں کیا جاتا ہے تاہم اب یہاں پر بھی اس کو دیکھا جاتا ہے انہوں نے کہاکہ ہر شخص کی پرائیویسی ان کا قانونی حق ہے تاہم اگر کوئی جرم کرتا ہے تو اس کے بعد نوعیت بدل جاتی ہے جو بھی بار بار جرائم کرتا ہے اس کی نگرانی کی جاتی ہے اور ایسے افراد کو بھی پابند بنایا جاتا ہے انہوں نے کہاکہ جنسی جرائم میں ملوث افراد کی سختی سے نگرانی کی جاتی ہے
Comments are closed.