ایک ایسے جج کو لاکر سزا سنوائی جاتی ہے جو سپریم کورٹ نے ان فٹ قرار دیا تھا، شیخ وقاص اکرم

القادر کیس بانی پی ٹی آئی کی ذات کو تکلیف دینے کے لئے سزا دی گئی،شیخ وقاص اکرم
بانی پی ٹی آئی نے کوئی جرم کیا نا ہی کرپشن، شیخ وقاص اکرم
بشری بی بی کو تحویل میں لینے کا مقصد بانی پی ٹی آئی کو تکلیف دینا تھی
پشاور(آن لائن)بانی پی ٹی آئی نہیں جھکے گاالقادر کیس بانی پی ٹی آئی کی ذات کو تکلیف دینے کے لئے سزا دی گئیایک ایسے جج کو لاکر سزا سنوائی جاتی ہے جو سپریم کورٹ نے ان فٹ قرار دیا تھابشری بی بی کو تحویل میں لینے کا مقصد بانی پی ٹی آئی کو تکلیف دینا تھیکرپشن کرکے بڑے محل بنانا قبول لیکن فلاحی ادارے کے تحت یونیورسٹی بنانا قبول نہیں ان خیالات کا اظہار مرکزی سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی شیخ وقاص اکرم نے پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ آج کا دن ملکی عدالتی تاریخ کا سیاہ دن ہے،جس طریقے سے یہ سزا سنائی گئی یہ عدالتی نظام کی عکاسی کرتی ہے،اس کیس کا فیصلے کا بار بار موخر ہوا،۔فیصلوں کا موخر ہونا سمجھ سے بالاتر ہے،القادر ٹرسٹ کیس بھی بے بنیاد کیس ہے،یہ کیس بھی ایسا سیاسی انتقام اور انصاف کا قتل ہے،اس سزا کو مسترد کرتے ہیں،یہ بری ہونے کا کیس تھااس کیس کو انصاف کے اصولوں پر سنا جاتا تو سزا نہیں دی جاسکتی تھی بشری بی بی صرف ایک ٹرسٹی تھی،۔بانی پی ٹی آئی کی ذات کو تکلیف دینے کے لئے سزا دی گئی،اس سے قبل بھی بشری بی بی عدالت وقت پر پہنچ گئی تھی بشری بی بی پوری تیاری کے ساتھ گئی تھی۔بشری بی بی کو تحویل میں لینے کا مقصد بانی پی ٹی آئی کو تکلیف دینا تھی،بانی پی ٹی آئی نے کوئی جرم کیا نا ہی کرپشنکی۔اس کیس میں کیا کرپشن ہے؟ ایک ٹرسٹ کے تحت یونیورسٹی بنائی گئی، ۔ملک میں فلاحی ادارے قائم کرنے والے خاندانوں کو سزا دی جاتی ہے، بانی پی ٹی آئی کے خاندان کو ملک میں فلاحی کام کرنے کی سزا دی گئی،آج ہمارا سر شرم سے جھک گیا کہ سب سے بڑے قائد کو فلاحی کام پر سزا سنادی گئی،بانی پی ٹی آئی نہیں جھکے گا، کیس کے آغاز سے اب تک انصاف کے تمام اصولوں کو فراموش کیا گیا،۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف تمام کیسز جھوٹے اور کمزور ہیں،190 ملین پاؤنڈز کا کیس بے بنیاد اور شرم ناک ہے،۔190 ملین پاونڈز کیس میں سزا کو اعلیٰ عدلیہ میں چیلنج کریں گے،

یہ ہائیکورٹ میں پہلی پیشی میں ختم ہونے والا کیس ہے، ۔اس فیصلے کو کرنے والوں کو بھی کوئی نہیں بھولے گا، قومیں فیصلے اور فیصلہ لکھنے والوں کو نہیں بھولتیں،آپ بند لفافے کا ذکر کرتے ہیں،اب تو آپ کی حکومت ہے، آپ کھول دیں نا بند لفافہ۔انہوں نے کہا کہ یہ کیس جب اعلی عدلیہ میں جائے گا تو چیزیں سامنے آئیں گی، ۔فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کے حوالے سے 2004 میں سپریم کورٹ نے کچھ لکھا تھا،۔لکھا تھا کہ جوڈیشل سروس کے لئے یہ جج فٹ نہیں ہے، ۔سپریم کورٹ نے ڈیکلئیر کیا تھا کہ یہ جج جوڈیشل سروس کے لئے فٹ نہیں،یہ فیصلہ اس وقت کے چیف جسٹس کا تھا، ایک ایسے جج کو لاکر سزا سنوائی جاتی ہے جو سپریم کورٹ نے ان فٹ قرار دیا تھا، جنہوں نے ایون فیلڈ بنایا انہیں حکومت کی کرسیوں پر بٹھایا گیا۔کرپشن کرکے بڑے محل بنانا قبول لیکن فلاحی ادارے کے تحت یونیورسٹی بنانا قبول نہیں۔یہ اپنی کرپشن کو دبانا چاہتے ہیں،۔انہوں نے کہا کہ قوم یہ چیزیں تسلیم نہیں کریں گی۔اس سزا کو سیاہ سمجھتے ہیں۔اس طرح ناحق سزا جنہوں نے بانی کو دلوائی، اس کی شکل بھی نہیں دیکھانا چاہتا۔بانی پی ٹی آئی نے کہا تھا کہ کیس کا فیصلہ مذاکرات کو متاثر کریگا لیکن پھر بھی مذاکرات کو جاری رکھا جائے گا، ۔مخالف سیاسی رہنماوں کو ناحق سزا دی جاتی تو اس کی بھی مذمت کرتا، ۔یہ کرپٹ تھے، ان کے ساتھ جو ہو رہا تھا ٹھیک ہورہا تھا۔بانی پی ٹی آئی سے جان چھڑانا ممکن نہیں۔پی ٹی آئی نے کبھی مذہب کارڈ استعمال کرنے کی کوشش نہیں کی

Comments are closed.