جو بنچ 26ویں آئینی ترمیم کی پیداوار ہے تو وہ کیس کیسے سن سکتا ہے،مصطفی نواز کھوکھر

اسلام آباد ( آن لائن) مصطفی نواز کھوکھر کی سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہاہے کہ چھبیسویں ائینی ترمیم کے خلاف میں نے بھی درخواست دائر کی ہے ۔ہمارا مطالبہ ہے کہ کیا یہ بینچ اس کیس کو سن بھی سکتا ہے یا نہیں ،مسئلہ یہ ہے کہ دو سپریم کورٹس ہمارے سامنے ہیں۔انھوں نے مزیدکہاکہ دو سپریم کورٹس کی وجہ سے انصاف کا عمل متاثر ہوا ہے ،کیا وہ بینچ جو خود 26 ویں آئینی ترمیم کی پیداوار ہے تو کیا وہ اسے سن سکتا ہے۔اگر یہ پارلیمان نمائندہ پارلیمنٹ ہوتی تو اس کے فیصلے سر انکھوں پر ہوتے۔

جب یہ پارلیمان ہی فارم 47 کی پیداوار ہے تو کیسے فیصلے مانیں بلاول بھٹو کی بات ہم بھی مانتے اگر یہ منتخب حکومت ہوتی۔2018 کے الیکشن بھی فئیر نہیں تھے لیکن یہ الیکشن بدترین ہیں۔اج بلوچستان اور کے پی میں حالات ٹھیک نہیں ہیں باقی جگہوں پر سیاسی معاملات خراب ہیں۔بند کمروں میں بیٹھ کر فیصلے کرنا بند کریں۔مجھے جھگڑے برھتے ہوئے ا رہے ہیں ختم نہیں ہو رہے۔کیا اپ کے سامنے ایک تقسیم شدہ سپریم کورٹ نہیں ہے؟ سپریم کورٹ کے اندر جھگڑے ختم کرنے کا واحد حل فل کورٹ بنایا جائے۔فل کورٹ کا فیصلہ بے شک ہنارے خلاف ائے ہمیں منظور ہو گا۔ہو سکتا ہے یہاں فل کورٹ بھی بن جائے پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہاں بھی بارہ جج بھرتی کر لیں۔ اگر نئے بھرتی کیے گئے جج فل کورٹ کا حصہ ہوں تو یہ ہمیں قابل قبول نہیں ہو گا۔

Comments are closed.