کرنسی میں استحکام اور زرمبادلہ ذخائر میں بہتری آئی ہے، محمد اورنگزیب

اسلام آباد (آن لائن) وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ کرنسی میں استحکام اور زرمبادلہ ذخائر میں بہتری آئی ہے، زراعت کا ملکی معیشت میں کردار اہم ہے ۔ تین صوبوں میں زرعی انکم ٹیکس کا نفاذ ہو چکا اب بلوچستان میں بھی اس ٹیکس کے نافذ کرنے پر غور کیا جا رہا ہے ۔ آئندہ بجٹ کے لئے مشاورت سے آگے بڑھیں گے ۔ اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے انہوں نے کہا کرنسی میں استحکام اور زرمبادلہ ذخائر میں بہتری آئی ہے۔ بڑے گروپوں نے بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ یہ سرمایہ کاری بزنس ٹو بزنس ہورہی ہے۔ مہنگائی میں کمی کو خوش آئند قرار دیتے ہوے انہوں نے کہا ملک میں مہنگائی 2.41 فیصد پر آگئی ہے۔ جبکہ مہنگائی میں مزید کمی کیلئے اقدامات جاری ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی میں اشیاء ضروریہ کی قیمتوں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ پورے ملک میں اگر مہنگائی کم ہورہی ہے تو خود ساختہ مہنگائی کرنے والوں سے بھی نمٹیں گے۔ انہوں نے کہا پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ میں لانے کا فیصلہ سٹیٹ بینک نے کرنا ہے۔ آئندہ آنے والے مہینوں میں پالیسی ریٹ میں مزید کمی آئے گی۔ اس وقت کائبور 11 فیصد پر جس سے کاروبار میں بہتری آرہی ہے ۔

انہوں نے کہابراہ راست لینڈنگ میں مراعات غلط طریقے سے ہوتی ہے۔ سبسڈائزڈ فنانسنگ کا ذمہ وزرات خزانہ نے اٹھایا ہے۔ ایس ایم ایز کو ٹارگٹڈ سبسڈی دینے کے حوالے سے جائزہ لیں گے۔ انہوں نے چیمبر اراکین کو مکاطب کرتے ہوے کہا کہ آج ہم آپ کے پاس آئے ہیں اس کا ایک مقصد ہے۔ اپریل مئی میں بزنس کمیونٹی اپنی بجٹ تجاویز لے کر آتے ہیں۔ حکومت بجٹ پیش کرتی ہے اور اس کے بعد اپیلوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ اس عمل میں چار ماہ کا وقت ضائع ہوتا ہے۔ میں نے اپنی ٹیم سے مشاورت کے بعد بجٹ سازی کا عمل جنوری میں ہی شروع کر دیا ہے ۔ بزنس کمیونٹی کی تجاویز کو جنوری سے سنا جارہا ہے۔ مجھے کچھ تجاویز ملی ہیں اور اس پر بجٹ پیش ہونے سے پہلے بات چیت ہونی چاہیے۔ انہو ں نے کہا کہ ہم دربار لگا کر نہیں بیٹھنا چاہتے ہیں ہمیں بزنس کمیونٹی کے پاس جانا ہے۔

ہم نے معیشت کا ڈی این اے تبدیل کرنا ہے۔ برآمدات سے معاشی نمو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا چیف جسٹس آف پاکستان سے ملاقات کے دوران ٹیکس معاملات پر بات ہوئی ہے، ان پر واضح کیا ہے کہ ٹیکس کیسوں کے فیصلے جلد آنے چاہیے تاکہ مسائل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ہر سائیڈ پر ریونیو صلاحیت بڑھانا ہو گی ۔ پنجاب اور کے پی کے کے بعد سندھ اسمبلی نے بھی زرعی انکم ٹیکس کی منظو ری دے دی ہے ۔ بلوچستان میں بھی زرعی انکم ٹیکس پر غور کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا زرعی شعبے کا ملکی معیشت میں کردار بہت اہم ہے۔ بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات جاری ہے ۔

Comments are closed.