مقتدر حلقوں نے ملکی آئین اور قانون کو موم کی ناک بنا دیا ہے،مولانا فضل الرحمن

صدر زرداری دباؤ کا شکار ہوگئے، پیکا ایکٹ کیخلاف صحافیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، سربراہ جے یو آئی (ف)
ملک کے بزرگ سیاستدان منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں مگر اس کا نزلہ دینی مدارس پر گرایا جاتا ہے،پارلیمانی رپورٹر ایسوسی ایشن کے ممبران سے ملاقات میں گفتگو

اسلام آباد(آن لائن) جے یوآئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہاہے کہ پیکا ایکٹ کے حوالے سے صدر زردار ی بھی دباء کا شکار ہوگئے ہیں انہوں نے کہاکہ اس کالے قانون کے خلاف صحافیوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے انہوں نے کہاکہ مقتدر حلقوں نے ملکی آئین اور قانون کو موم کی ناک بنا دیا ہے اور اپنی مرضی سے موڑتے رہتے ہیں پڑوسی ملک افغانستان کے ساتھ حالات جان بوجھ کر خراب کئے جاریہے ہیں جو کسی صورت بھی ملکی مفاد میں نہیں ہے انہوں نے کہاکہ ملک کے بررگ سیاستدان منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں مگر اس کا نزلہ دینی مدارس پر گرایا جاتا ہے۔سوموار کو پارلیمنٹ ہا?س میں پارلیمانی رپورٹر ایسوسی ایشن کے ممبران سے ملاقات کے دوران مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ سیاست اور صحافت ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ ہیں انہوں نے کہاکہ قوانین معروضی حالات کو سامنے رکھ کر بنائے جاتے ہیں اورحالات کے بدلنے سے قوانین بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں انہوں نے کہاکہ مقتدر قوتوں کے لئے آئین اور قانون موم کی ناک ہے کہ وہ جس طرف چاہیں موڑ دیں اور لگتا ایسے ہے جیسے آئین ملک کو چلانے کے لیے نہیں بنا بلکہ وہ آئین کو چلانے کے لیے بنے ہیں مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ پیکا کے حوالے قانون یک طرفہ بنا ہے بہتر ہوتا کہ اس حوالے سے صحافی برادری سے مشاورت کی جاتی انہوں نے کہاکہ صدر مملکت کو کہا تھا کہ پیکا ایکٹ کے حوالے سے صحافیوں کی تجاویز لی جائیں صدر مملکت نے یقین دلایا تھا کہ محسن نقوی سے مشاورت کریں گے مگر لگتا ہے ایسا دباوٴ آیا ہے کہ صدر نے جلد ہی دستخط کردئے انہوں نے کہاکہ 26ویں آئینی ترمیم کا مسودہ ہمارے دباوٴ پر تبدیل کیا گیا تھا ہم اگر چھبیس ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے حکومتی مسودہ تسلیم کرتے تو ملک میں مارشل کی کیفیت ہوتی انہوں نے کہاکہ میں اطمینان سے کہہ سکتا ہوں کہ 26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے ایک ماہ مذاکرات کرکے خالصتا آئین اور جمہوریت بنیاد پر بات کی مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ اس وقت کے پی اور بلوچستان میں کچھ علاقوں میں حکومت کی کوئی رٹ نہیں ہے اور مقتدر حلقے امن و امان قائم کرانے میں مکمل ناکام نظر آرہے ہیں انہوں نے کہاکہ جب ہم سنتے ہیں کہ ہمارے جوان شہید ہورہے تو ہمیں افسوس ہوتا ہے انہوں نے کہاکہ ہمارے اندر اعتماد تھا کہ ملک کی سرحدیں محفوظ ہیں مگر ہمارا اعتماد ریزہ ریزہ ہو گیا ہے انہوں نے کہاکہ خدا نہ کرے اگر میرے اوپر حملہ ہوتا ہے تو مجھے دی گئی سکیورٹی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی

انہوں نے کہاکہ آج اگر بلوچستان کا علاقہ علیحدگی کا اعلان کردے تو لوگ اس کی حمایت کریں گے اورکشمیر کو تو ہم نے اونے پونے دے دیا ہے اور اب 5 فروری کو یوم یکجہتی بھی منائیں گے انہوں نے کہاکہ ہم کشمیر کے لیے آج تک کچھ نہیں کیا ہم نے بین الاقوامی سطح کے دباوٴ میں آکر کشمیر میں موقف تبدیل کیا مگر کشمیری قوم کی ہمت کو سلام ہے کہ انہوں نے مودی کے خوابوں کو بکھیر دیا ہے انہوں نیکہاکہ اب ہم افغانستان کے ساتھ معاملات خراب کرنے چلے ہیں میڈیا پر یہ خبر چلتی ہے افغانستان سے دخل اندازی ہورہی ہے اب ہم افغانستان کے ساتھ معاملات خراب کرنے جارہے ہیں اوراس بات کو اجاگر کیا جارہا ہے کہ افغانستان سے افغانی آتی ہیں اور کارروائی کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ جو ہم نے جنرل ضیاء کے زمانے سے بیج بوئے ہیں کیا وہاں کلاشنکوف اور ہیروئن کلچر متعارف نہیں ہوا تھا کیا ہمارے جنرلز ہمارے ہی نوجوانوں کی جہاد میں شامل ہونے کی ترغیب نہیں دے رہے تھے کیا جنرل مشرف کے دور میں ہوائی اڈے نہیں دیئے گئے؟ کیا افغانستان پر فضائی حملے نہیں ہوئے کیا کسی نے وہاں سے کہا کہ پاکستان سے حملے کیوں ہورہے ہیں انہوں نے کہاکہ اکیا افغانستان کے ساتھ معاملات خراب کرنا پراکسی مفادات کا تحفظ کرنا ہے یہ حقائق تلخ ہیں لیکن ملک کے حالات کو ٹھیک کرنا ہے انہوں نے کہاکہ امارات اسلامی کے سر پر آپ حاصل کیا کرنا چاہتے ہیں؟ کیا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں کب تک اور کیوں یہ کھیلنا چاہتے ہیں کیا امارات اسلامیہ نے کبھی مطالبہ کیا ہے کہ ہمارا نوجوان پکڑا ہے اور کیوں مارا ہے؟ پھر حالات ایسے بنائے جارہے ہیں جو پاکستان کے حق میں تھے انہیں مخالف کیا جارہا ہے

انہوں نے کہاکہ میں نے دورہ افغانستان میں جو کام کیا اس پر ریاستی اداروں نے تعریف کی پھر بات آگے نہیں بڑھی ہمیں ذمہ دار ریاست ہونے کا ثبوت دینا ہوگا ہم نے پراکسی وار لڑتے کڑتے خود کھوکھلا کرلیا ہے انہوں نے کہاکہ آج سارا دباو پاکستان میں دینی مدارس پر آرہا ہے ایف اے ٹی ایف کا بڑا اہداف یہ ہی ہے کہ منی لانڈرنگ نہ ہو کیا ہمارے ہمارے ملک کے بڑے اور بزرگ سیاستدان منی لانڈرنگ میں ملوث نہیں ہیں الزامات منی لانڈرنگ کے سیاستدانوں پر اور نشانہ مدارس ہیں انہوں نیکہاکہ وردیوں میں مدارس پر جاکر پیش ہوتے ہیں اور سوال فیڈ کرکے جواب ہائی لائٹ کروائے جاتے ہیں انہوں نے کہاکہ وفاق میں دینی مدارس کی رجسٹریشن کا قانون پاس ہوچکا ہے کیا اب تک یہاں سے کسی صوبے کو کہا گیا ہے کہ قانون سازی کرنی ہے انہوں نے کہاکہ اس حوالے سے قانون سازی اس لئے نہیں کی جارہی کہ دنیا کو بھی خوش رکھنا ہے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ 43 ہزار اس سال حافظ کرام وفاق المدارس سے فارغ التحصیل ہو رہے ہیں حکومت نے 18 ہزار مدارس کی رجسٹریشن کا ڈھونگ رچایا گیا ہے مگر دینی مدارس نے ثابت کیا ہے کہ وہ آئین، ملک اور پارلیمان کے ساتھ کھڑے ہیں اس سے قبل پی آر اے پہنچنے پر صدر پی آر اے پاکستان عثمان خان اور سیکرٹری نوید اکبر سمیت باڈی کے ممبران نے مولانا فضل الرحمن کا استقبال کیا اس موقع پر صدر پی آر اے عثمان خان اور سیکرٹری نوید اکبر نے مولانا کو پیکا ترمیمی بل سے متعلق بریف کیا ، جس پر سربراہ جے یوآئی مولانا فضل الرحمان کی پارلیمانی رپورٹرز سے پیکا بل پر اپنا ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرتے ہوئے کہاکہ پیکا قانون پر اپنے موقف کو دہراوٴں گا۔۔۔۔۔اعجاز خان

Comments are closed.