اس وقت بہت سے چیلنجزہیں،آگے بڑھنے کیلئے درگزرکرنے کی ضرورت ہے ، سب کو اپنی جماعت اور ذات سے بالاتر ہو کر سوچنا چاہیے ،رہنما پی ٹی آئی
ماضی میں سب سے غلطیاں ہوئیں لیکن ہم اس سے باہر کب نکلیں گے ،عمران خان کو صحیح مشورہ دوں گا چاہے وہ پسند کرے یا نہ کرے،اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو
راولپنڈی (آن لائن)تحریک انصاف کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اس وقت بہت سے چیلنجزہیں،آگے بڑھنے کیلئے درگزرکرنے کی ضرورت ہے ، سب کو اپنی جماعت اور ذات سے بالاتر ہو کر سوچنا چاہیے ،ماضی میں سب سے غلطیاں ہوئیں لیکن ہم اس سے باہر کب نکلیں گے ،عمران خان کے خط میں نیت کو دیکھا جانا چاہیے اگر نیت معاملات کو سلجھانے کی ہے تو اس کو مثبت لیا جانا چاہیے ،عمران خان کو صحیح مشورہ دوں گا چاہے وہ پسند کرے یا نہ کرے ۔اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ملک میں اصلاحات کے لیے قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے کوئی انفرادی شخص چیلنجز سے نمٹنے کے صلاحیت نہیں رکھتا ،موجودہ قیادت ٹھنڈے دل اور دماغ سے ملک کا سوچے نفرت مٹانے اور خلیج کم کرنے کی ضرورت ہے ،درگزر کرنے کی ضرورت ہے ہمیں آگے بڑھنا ہو گا ،پہلے لوگوں نے اس ملک کو ٹوٹتے دیکھا اب ملک ڈوب رہا ہے ،اس وقت قومی ایجنڈے کی ضرورت ہے ایک بڑا قومی معاہدہ ہونا چاہیے ،جس کے زریعے تمام جماعتیں ایک آزادانہ اور خود مختار الیکشن کمیشن پر اتفاق کریں ، وہ الیکشن کمیشن جس میں ازادانہ اور خود مختار الیکشن کروانے کی صلاحیت بھی ہو ،آزاد اور خود مختار الیکشن کمیشن سے کسی کو نقصان نہیں ہو سکتا اج اگر کوئی الیکشن ہارتا ہے تو ائندہ وہ جیت بھی سکتا ہے ،خود مختار عدلیہ اور خود مختار میڈیا سے کسی کو کوئی نقصان نہیں ہوگا ،اس وقت کیڑے تو ہزاروں نکالے جا سکتے ہیں
مگر یہ وقت ہے کہ ہمیں مثبت چیزوں کی جانب دیکھنا ہوگا ،انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو 73 کا ائین بنانے پر یاد رکھا جاتا ہے تو اسی طرح اصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کو ائین کا حلیہ بگاڑنے کے طور پر یاد رکھا جائے گا ،نون لیگ اور پیپلز پارٹی نے مل کر جتنا جمہوریت کو نقصان پہنچایا سویلین دور میں اتنا نقصان کبھی کسی نے نہیں پہنچایا ،ان کو سمجھ نہیں آرہی کہ ان کے اقدامات سے کیسے جمہوریت کا نقصان ہو رہا ہے ،انھوں نے پیکا ترمیم کرکے ملک میں آزادی اظہار رائے کا گلا گھونٹ دیا ، پاکستان مشکل وقت سے گزر رہا ہے سب کو اپنی جماعت اور ذات سے بالاتر ہو کر سوچنا چاہیے ،شاہ محمود قریشی نے کہا کہ لوگوں کو بلا وجہ ڈرمپ سے توقعات نہیں باندھنی چاہیے ،ہمیں رہائی اپنے موقف اور مقدمات کی پیروی سے مل سکتی ہے ،ان کا کہنا تھا کہ اپنی قبر کی گواہی دے کر کہتا ہوں کہ میں نو مئی کے مقدمے میں بے قصور ہوں ،میں موقع پر موجود نہیں تھا نہ ایف ائی ار میں تھا ایف ائی ار میں ایک سال کے بعد مجھے ڈالا گیا ،مجھ پر سازش اور منصوبہ بندی کا الزام ہے قران پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہوں کہ میں نے سازش نہیں کی ،عمران خان حلفا ً کہہ دیں کہ میرا نو مئی پر ان سے کوئی تبادلہ خیال ہوا ہو تو میں سزا کے لیے تیار ہوں ،میں نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ باہر نکلیں اور اظہار یکجہتی کریں مگر قانون کو ہاتھ میں مت لیں ،میں نے دو سال سے بے گناہ قید کاٹی ہے ،عمران خان سے کہا ہے کہ بنی گالہ کی انر کور میں میرے علاوہ کون تمہارے ساتھ کھڑا ہوا ہے
،عمران خان میری یہ بات سن کر خاموش رہے ،یوسف رضا گیلانی ایک قد کاٹھ والا سیاست دان ہے مگر وہ تیمور ملک سے الیکشن ہارا ہے ،یوسف گیلانی جب جیل میں تھے تو ان کے پاس موبائل ہوتا تھا میں کہہ دے تنہائی کاٹ رہا ہوں ،اعجاز چوہدری کے پروڈکشن ارڈر جاری کرنے پر یوسف رضا گیلانی کا شکر گزار ہوں ،ماضی میں سب سے غلطیاں ہوئیں لیکن ہم اس سے باہر کب نکلیں گے ،لوگوں کی بے چینی اور تشویش حال اور مستقبل کی ہے ،فلسطین کے دو ریاستی حل پر سب جماعتوں کا اتفاق ہے ،فلسطین اور کشمیر پر جو موقف ہے اس پر قائم رہنا چاہیے ،فلسطین میں جو ہو رہا ہے وہ دیکھا نہیں جاتا ،مسلمان کی بجائے انسان بن کر بھی دیکھیں تو یہ قابل برداشت نہیں ،ایک سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عمران خان کے ارمی چیف کو لکھے گئے خط کے بارے میں سنا ہے یہ خط دیکھا نہیں ،خط میں نیت کو دیکھا جانا چاہیے اگر نیت معاملات کو سلجھانے کی ہے تو اس کو مثبت لیا جانا چاہیے ،عمران خان چاہتے ہیں کہ معاملات سلجھیں ،سوچنا ہوگا کہ ہم اس دلدل سے کیسے نکلیں ہم دلدل میں دھنستے چلے جا رہے ہیں ،اس وقت اگر کوئی معقول بات کرتا ہے تو اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے ،عمران خان نے خط میں وجوہات اور تجاویز بیان کی ہیں اس کو مثبت انداز میں دیکھا جائے،عمران خان کا خط پاکستان کے مسائل کے حوالے سے ہے ،تہیہ کیا ہے کہ عمران خان کو صحیح مشورہ دوں گا چاہے وہ پسند کرے یا نہ کرے ،ہمیں ایمانداری سے راستہ نکالنا ہوگا گھر ہمارا جل رہا ہے درد بھی ہمیں ہونا چاہیے ،عمران خان نے مذاکراتی کمیٹی بنا کر سیاسی جماعتوں سے بات چیت کرنے کی لچک دکھائی مگر نتیجہ کیا نکلا مذاکراتی کمیٹی کی ملاقات ہی نہیں کروائی گئی۔
Comments are closed.