نو مئی کو حد کردی گئی، اب آپ کو بنیادی حقوق یاد آگئے‘کیا آپ تسلیم کرتے ہیں کہ نو مئی کا جرم سرزد ہوا؟جسٹس مسرت ہلالی
ہم نے اپنا قانون دیکھنا ہے برطانیہ کا نہیں، یہ غیرضروری بحث ہے آپ وقت ضائع کر رہے ہیں،جسٹس امین الدین خان
اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ میں خصوصی عدالتوں میں سویلین ٹرائل کیخلاف انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت کے دوران جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نو مئی کو حد کردی گئی، اب آپ کو بنیادی حقوق یاد آگئے ہیں؟ جسٹس مسرت ہلالی نے پوچھا کہ کیا آپ تسلیم کرتے ہیں کہ نو مئی کا جرم سرزد ہوا؟ زیر سماعت اپیلوں میں کالعدم شدہ دفعات بحالی کی استدعا کی گئی ہے، قانون کی شقوں کا جائزہ لینا ہے تو عالمی قوانین کوبھی دیکھنا ہوگا،جس پر سلمان اکرم راجہ جواب گول کر گئے اور کہا کہ جی جی میں اس پر عدالت کو بتاتا ہوں۔جبکہ جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ مرکزی فیصلے میں تو آرٹیکل 175 کی شق تین کے تحت ایف بی علی کیس کو کالعدم ہی نہیں قرار دیا گیا، آج تک کسی عدالتی فیصلے میں ایف بی علی کیس کو کالعدم قرار نہیں دیا گیا۔ہم نے اپنا قانون دیکھنا ہے برطانیہ کا نہیں، یہ غیرضروری بحث ہے آپ وقت ضائع کر رہے ہیں۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ اس کی مثال دوسرے طریقے سے دیتا ہوں، 26ویں آئینی ترمیم میں کہا گیا آرٹیکل 184 کی شق تین کے تحت کیسز آئینی بنچ میں جائیں گے،
ترمیم میں یہ بھی کہا گیا آئینی و قانونی تشریح والے زیر التوا کیسز خودبخود آئینی بنچ میں چلے جائیں گے، ایک بنچ نے فیصلہ کیا کیسز خودکار طور پر نہیں جاسکتے، ہم نے کہا نہیں 26ویں ترمیم کے بعد کیسز خودکار انداز میں آئینی بنچ میں جائیں گے، جو دلیل آپ دے رہے ہیں تو آرٹیکل 175 کی شق تین کے تحت ایف بی علی کیس کو ختم کیوں نہیں کیا گیا۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ جب مرکزی کیس میں ایف بی علی فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا ہی نہیں کی گئی تو ہم اپیل میں ایسا کیسے کرسکتے ہیں،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کسی کو پکڑ کر ملٹری ٹرائل لیکر جائیں، عام ایف آئی آر میں بھی محض الزام پر ملزم کو پکڑا جاتا ہے،آفیشیل سیکرٹ ایکٹ کا پرانا قانون صرف جاسوسی کیخلاف تھا، آفیشیل سیکرٹ ایکٹ میں ترمیم سے نئے جرائم شامل کیے گئے ہیں۔جمعرات کو جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بنچ نے کیس کی سماعت کی، اس دوران ملزم ارزم جنید کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دئے۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بنچ کی جانب سے بھارت میں کورٹ مارشل کے خلاف اپیل کا حق دینے کا سوال ہوا تھا، برطانیہ میں کورٹ مارشل فوجی افسر نہیں بلکہ ہائیکورٹ طرز پر تعینات ججز کرتے ہیں، کمانڈنگ افسر صرف سنجیدہ نوعیت کا کیس ہونے پر مقدمہ آزاد فورم کو ریفر کرسکتا ہے۔
جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ ہم نے اپنا قانون دیکھنا ہے برطانیہ کا نہیں، یہ غیرضروری بحث ہے آپ وقت ضائع کر رہے ہیں۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ زیر سماعت اپیلوں میں کالعدم شدہ دفعات بحالی کی استدعا کی گئی ہے، قانون کی شقوں کا جائزہ لینا ہے توعالمی قوانین کو بھی دیکھنا ہوگا، سلمان صاحب اگر دفعات کالعدم نہ ہوتیں تب دلائل غیرمتعلقہ ہوسکتے تھے اب نہیں ہیں۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیس میں اصل سوال ہے کہ موجودہ نظام کے تحت سویلین کا کورٹ مارشل ہوسکتا ہے یا نہیں۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ سویلنز کا کورٹ مارشل کسی صورت میں بھی ممکن نہیں۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ برطانوی قانون تو وہاں کی فوج کے ڈسپلن سے متعلق ہے، موجودہ کیس میں تو جرم عام شہریوں نے کیا، وہ اس پر کیسے اپلائی ہوسکتا ہے؟ جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ برطانوی قانون کی مثال ٹرائل کے آزاد اور شفاف ہونے کے تناظر میں دی تھی،دوران سماعت جسٹس مسرت ہلالی نے پوچھا کہ کیا آپ تسلیم کرتے ہیں نو مئی کا جرم سرزد ہوا ہے؟ جس پر سلمان اکرم راجہ جواب گول کرتے ہوئے بولے کہ جی جی میں اس پر عدالت کو بتاتا ہوں۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ نو مئی کو حد کردی گئی، اب آپ کو بنیادی حقوق یاد آگئے ہیں۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آرٹیکل 184/3 کو محدود نہیں کیا جا سکتا، ملزمان کا آزاد عدالت اور فئیر ٹرائل کا حق ہے۔جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ فئیر ٹرائل کیلئے آپ کو آرٹیکل آٹھ تین سے نکلنا ہوگا۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ مجھ سے کل بھی ایک سوال پوچھا گیا تھا، میں نے گذشتہ روز کے سوال کا جواب نہیں دیا۔ آرمی سے متعلق قانون سازی 2015 اور پھر 2017 میں ہوئی تھی، اے پی ایس والے آج بھی انصاف کیلئے دربدر بھٹک رہے ہیں۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ میرا اشارہ آرمی چیف کی توسیع کے قانون کی طرف تھا۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ آرمی پبلک اسکول کے کچھ مجرمان کو پھانسی ہو گئی تھی۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ فوج میں ایک انجینئرنگ کور ہوتی ہے، فوج میں ایک میڈیکل کور بھی ہوتی ہے، دونوں کورمیں ماہرانجینئر اور ڈاکٹرز ہوتے ہیں، کیا فوج میں اب جوڈیشل کور بھی بنا دی جائے؟جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ مسلح افواج کی جیگ برانچ ہے۔جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ یہ تو قانون سازوں کا کام ہے، ایک جرم سرزد ہوا تو سزا ایک ہوگی، یہ کیسے ہوگا ایک ملٹری ٹرائل ہو دوسرا ملزم اس سے الگ کردیا جائے۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ الزام لگا کرفیئرٹرائل سے محروم کر دینا یہ بنیادی حقوق کا معاملہ ہے، مجھے ایک بہت بڑا کرمنل بنا دیا گیا ہے، مجھ پر رینجرز اہلکاروں کے قتل کی بانی پی ٹی آئی کے ساتھ سازش کا الزام ہے، اگر قانون کی شقیں بحال ہوتیں ہیں تو مجھے ایک کرنل کے سامنے پیش ہونا پڑے گا۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ کے خلاف ایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی کے سیکشن لگے ہوں گے۔
جسٹس امین الدین نے سلمان اکرم راجہ سے استفسار کیا کہ آپ کی ملٹری کسٹڈی مانگی گئی ہے؟ جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میرے کیس کو چھوڑیں، نظام یہ ہے الزام لگا کر ملٹری ٹرائل کی طرف لے جاوٴ۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ مفروضوں پر نہ جائیں۔ جسٹس محمد علی مظہر بولے کہ ایسا نہیں ہے کسی کو پکڑ کر خصوصی عدالت میں ٹرائل کریں گے، عام ایف آئی آر میں بھی محض الزام پر ملزم کو پکڑآ جاتا ہے، آفیشیل سیکرٹ ایکٹ کا پرانا قانون صرف جاسوسی کے خلاف تھا، آفیشیل سیکرٹ ایکٹ میں ترمیم سے نئے جرائم شامل کیے گئے ہیں۔بعدازاں، انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت 18 فروری تک ملتوی کردی گئی، سلمان اکرم راجہ منگل کو بھی دلائل جاری رکھیں گے۔
Comments are closed.