سینٹ،تحریک انصاف سمیت سیاسی جماعتوں کو ملک میں پرامن جلسوں کی اجازت دینے کی قرارداد کثرت رائے سے منظور

اسلام آباد(آن لائن) ایوان بالا میں پاکستان تحریک انصاف سمیت سیاسی جماعتوں کو ملک میں پرامن جلسوں کی اجازت دینے کی قرارداد کثرت رائے سے منظور کر لی،قرارداد اپوزیشن لیڈر سینیٹر شبلی فراز نے پیش کی،وفاقی وزیر قانون نے قرارداد سے پارٹی کا نام نکالنے کی درخواست کی۔جمعہ کو سینیٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن لیڈر سینیٹر شبلی فراز کی جانب سے اے این پی کو لیاقت باغ میں جلسے کی اجازت نہ ملنے کے معاملے پر قرارداد پیش کرنے پر وفاقی وزیر قانون و پارلیمانی امور سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ ایک جنرل پالیسی ہے کہ سیکورٹی اور آمن و آمان کے مسائل کی وجہ سے انتظامیہ نے لیاقت باغ کی بجائے روات میں جلسے کی اجازت دی ہے انہوں نے کہاکہ یہ صوبائی معاملہ ہے اگر ہم اس طرح کی قرارداد منظور کریں گے تو یہ درست نہیں ہوگا

انہوں نے کہاکہ ہم نے ماضی میں ہولناک حادثات دیکھے ہیں ہمیں حالات کا ادراک کرنا چاہیے اس موقع پر اپوزیشن لیڈر سینیٹر شبلی فراز نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہاکہ تمام سیاسی جماعتوں بشمول پی ٹی آئی کا سیاسی حق ہے کہ پاکستان کے کسی بھی حصے میں پرآمن جلسے کرسکتے ہیں تاہم اس سیاسی حق کو صوبوں کی جانب سے نہیں دیا جارہا ہے سمیت یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو پاکستان کے ہر حصے میں پرامن سیاسی جلسے کرنے کی اجازت ہونی چاہیے جس پر وفاقی وزیر قانون و پارلیمانی امور نے کہاکہ قرارداد کسی پارٹی سے منسلک ہونے کی بجائے جنرل ہونی چاہیے یہ ایوان صوبائی حکومتوں کو ڈکٹیٹ نہیں کرسکتا ہے اپوزیشن لیڈر نے کہاکہ ہم کوئی غیر جمہوری اور غیر قانونی کام نہیں کر رہے ہیں

اس پر ایوان سے رائے لی جائے جس پر پریذائیڈنگ آفیسر سینیٹر شیری رحمن نے کہاکہ جو بھی قرارداد اس ایوان میں آتا ہے اس پر اگر پہلے سے مشاورت ہوجائے تو بہت بہتر ہوگا اس موقع پر وفاقی وزیر قانون سینیٹربیرسٹر علی ظفر نے کہاکہ اس وقت پی ٹی آئی کو پورے ملک میں جلسے کرنے کی اجازت نہیں ہے اس موقع پر اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر حاجی ہدایت اللہ نے کہاکہ ہمارا جلسہ احتجاجی نہیں تھا بلکہ یہ اس مملکت کی آزادی کیلئے قربانیاں دینے والے ہمارے سیاسی اکابرین کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے تھا انہوں نے کہاکہ ہم عدم تشد د کے حامی ہیں انہوں نے کہاکہ ان دو عظیم ہستیوں کی برسی کے حوالے سے یہ اجتماع ہورہا تھا انہوں نے کہاکہ بتایا جائے کہ پنجاب پاکستان کے اندر نہیں ہے تو ہم نہیں آئیں گے اس موقع پر پریذائیڈنگ آفیسر نے قرارداد کو کثرت رائے کی بنیاد پر منظور کر لیا۔۔۔۔اعجاز خان

Comments are closed.