اسلام آباد(آن لائن) قومی اسمبلی کا اجلاس میں ایک بار پھر کورم کی نذر ہو گیا چیئرمین پی ٹی آئی و رکن اسمبلی بیرسٹر گوہر نے بات کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن ارکان نے کورم کورم کی آوازیں لگانا شروع کر دیں اپوزیشن رکن شاہد خٹک نے کورم کی نشاندہی کردی۔ پی ٹی آئی ارکان ایوان سے باہر چلے گئے گنتی کرانے پر کورم پورا نہ نکلا اور قومی اسمبلی کا اجلاس پیر تک ملتوی کردیا گیا اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران رکن اسمبلی سحر کامران نے کہا کہ کیمبرج تعلیمی نظام کتنے تعلیمی اداروں میں متعارف ہوا ہے جس پر پارلیمانی سیکرٹری فرح ناز اکبر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ پائلٹ پراجیکٹ ہے اسے اپریل میں شروع کیا جائے گا اس پراجیکٹ میں کیمبرج کی نسبت پچاس فیصد فیس دی جائے گی رکن اسمبلی نفیسہ شاہ نے کیمبرج پائلٹ پراجیکٹ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایلیٹ اور غریبوں کیلئے نظام رائج نہیں کرنا چاہیے بتایا جائے
اس نظام کی ضرورت کیا ہے مہرین رزاق بھٹو نے کہا کہ ایف بی آر ٹیکس ٹارگٹ کلیکشن کیسے وقت پر پورا کرے گاتین سو چھیاسی ارب ٹیکس کلیکشن کی شارٹ فال ہے جس پر پارلیمانی سیکرٹری سعد وسیم نے کہا کہ ہمیں شارٹ فال کا سامنا ہے یہ حقیقت ہے حکومت کا مزید ٹییکسز لاگو کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہیسحر کامران نے تجارتی خسارے سے متعلق سوال کیا توپارلیمانی سیکرٹری ذوالفقار بھٹی نے جواب دیا کہ دو ہزار تیس تک ایکسپورٹ ساٹ بلین تک ہو جائے گی اگلے بجٹ میں سیلز ٹیکس ہٹا کر لوکل انڈسٹری کو فائدہ دیا جائے گا رکن اسمبلی سید نوید قمر نے کہا کہ حکومت پارلیمنٹ سنجیدہ نہیں لے رہی کسی بھی سوال کا جواب نہیں آرہا وزراء نہیں آنا چاہتے وزیر تجارت کے آنے تک سوال موخر کردیا گیا.
رکن اسمبلی سحر کامران نے کہا کہ ایگریکلچر سینس صحیح نہیں ہوا تو حکومت منصوبہ بندی کیسے کرے گی پارلیمانی سیکرٹری وجیہہ قمر نے کہا کہ پندرہ سال بعد یہ سینس ہورہا ہے اس دفعہ سینس کو قابل اعتبار بنانے کیلئے جامع کام کیا جارہا ہے زراعت سمیت لائیو سٹاک کا ڈیٹا بھی اکٹھا کیا جارہا ہے اجلاس میں بیرسٹر گوہر نے بات کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن ارکان کی جانب سے کورم کورم کی آوازیں لگانا شروع کر دیں اپوزیشن رکن شاہد خٹک نے کورم کی نشاندہی کردی پی ٹی آئی ارکان ایوان سے باہر چلے گئے گنتی کرانے پر کورم پورا نہ نکلا اور قومی اسمبلی کا اجلاس پیر تک ملتوی کردیا گیا
Comments are closed.