4 شہریوں کی میتیں ملنے پر اسرائیل نے 456 فلسطینی قیدی رہا کردیے

تل ابیب (آن لائن)اسرائیل اور حماس میں قیدیوں کے تبادلے پر ایک ہفتے سے جاری ڈیڈ لاک ختم ہوگیا۔قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق حماس کی جانب سے 4 اسرائیلی قیدیوں کی میتیں اسرائیل کے حوالے کردی گئیں، اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے اسرائیلی قیدیوں کی چاروں لاشوں کی شناخت کی تصدیق کی گئی ہے۔بدلے میں اسرائیل کی جیلوں میں قید 456 فلسطینیوں کو رہا کر دیا گیا جو غزہ کے یورپی ہسپتال پہنچ گئے ہیں، 97 فلسطینی قیدیوں کو مصر جلا وطن کیا گیا ہے، اسرائیل نے مجموعی طور پر 642 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنا تھا۔اسرائیل نے 24 بچوں اور 2 بالغوں کی رہائی موخر کر دی۔مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی قید سے رہائی پانے والے فلسطینی شہریوں کے پہنچنے پر جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے

، رہا ہونے والے درجنوں فلسطینی قیدی عمر قید اور طویل سزائیں کاٹ رہے تھے، جو اپنے اہل خانہ سے دوبارہ مل رہے ہیں۔ اسرائیل نے 97 فلسطینیوں کو مصر جلاوطن کر دیا۔اس سے قبل حماس نے ریڈ کراس کے ذریعے 4 قیدیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کی تھیں، اسرائیل نے ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں شناخت کرنے کے بعد فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا ہے۔غزہ کی وزارت صحت نے 7 اکتوبر 2023 سے اسرائیل کی بمباری میں اب تک 48 ہزار 300 سے زائد فلسطینیوں کی شہادت کی تصدیق کی ہے، جبکہ ایک لاکھ 11 ہزار 761 فلسطینی زخمی قرار دیے ہیں، تاہم سرکاری میڈیا آفس نے شہادتوں کی تعداد کم از کم 61 ہزار 709 بتائی ہے اور کہا ہے کہ ملبے تلے دبے ہزاروں فلسطینیوں کو مردہ تصور کیا جا رہا ہے۔7 اکتوبر 2023 کو حماس کی زیر قیادت حملوں کے دوران اسرائیل میں کم از کم ایک ہزار 139 اسرائیلی شہری ہلاک ہوئے تھے اور 200 سے زائد کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔فلسطینی قیدیوں کے میڈیا آفس (اے ایس آر اے) نے خان یونس کے یورپی ہسپتال کے نرسنگ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ صالح الحمس کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے کہ رہا ہونے والے 456 قیدی یورپی ہسپتال پہنچے ہیں، ہسپتال کا عملہ 24 بچوں اور 2 بالغ قیدیوں کی آمد کی توقع کر رہا تھا لیکن اسرائیلی حکام نے ان کی رہائی میں تاخیر کی ہے۔رہا کیے جانے والے قیدی انتہائی اذیت ناک حالت میں ہیں، ان میں سے کچھ مار پیٹ اور تشدد کی شدت کی وجہ سے چل بھی نہیں سکتے

، زیادہ تر قیدی جلد کی بیماریوں میں مبتلا ہیں اور ایک کو پھیپھڑوں کے فائبروسِس میں مبتلا ہونے کی وجہ سے رات بھر نگہداشت میں رکھا گیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ رہائی پانے والے تمام قیدیوں کو خارش کی دوا دی گئی، قیدیوں کو سینے کے حصے پر شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس کی وجہ سے پسلیاں ٹوٹی ہوئی ہیں۔ایک سابق قیدی ذیابیطس کی وجہ سے کٹے ہوئے ہاتھ کے ساتھ اور دوسرا کٹے ہوئے پاں کے ساتھ ہسپتال آیا تھا۔اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے اسرائیلی قیدیوں کی چاروں لاشوں کی شناخت کی تصدیق کی گئی ہے۔شلومو منصور، اتزک ایلگارات اور احد یہلومی کی شناخت کی تصدیق ہو چکی تھی، اسرائیل نے اب ساچی عدن کی باقیات کی شناخت کی ہے۔اسرائیلی صدر نے کہا کہ قید سے ہمارے بھائیوں کی لاشوں کی واپسی اس ذمہ داری پر زور دیتی ہے کہ ہم غزہ میں قید سے اغوا ہونے والے تمام افراد کو فوری طور پر واپس لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔

Comments are closed.