پی اے سی ،بیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں میں2ارب35 کروڑ سے زائد مالی بے قاعدگیوں اور بے ضابطگیوں کا انکشاف

اسلام آباد(آن لائن)وزارت خارجہ اور بیرون ملک پاکستانی سفارت خانوں میں 2ارب35 کروڑ 77لاکھ کی مالی بے قاعدگیوں اور بے ضابطگیوں انکشاف ہوا ہے ،جس پر پارلیمانی پبلک کمیٹی نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزارت خارجہ کو اپنا مالیاتی نظام بہتر بنانے کے احکامات جاری کئے ہیں، کمیٹی میں انکشاف کیا گیا کہ وزارت خارجہ کے بعض افسران دوہری تنخواہیں بھی حاصل کررہے ہیں جس پر پی اے سی نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ایک ماہ میں ان کو دی گئی دوہری تنخواہیں واپس لینے کے احکامات جاری کئے ،لندن اور پیرس میں بغیر اجازت کے 49ملین کی تنخواہوں کی ادائیگی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا جبکہ کمیٹی نے وزارت اقتصادی امور کے غیر ملکی قرضوں کے حوالے سے معاملات میں عدم شفافیت پر اظہار برہمی کیا اور آئندہ اجلاس میں سیکرٹری خزانہ اور سیکرٹری منصوبہ بندی کو طلب کرلیا۔چیئرمین جنید اکبر کی زیر صدارت پی اے سی اجلاس ہوا جس میں اکنامک افیئرز ڈویڑن اور وزارت خارجہ کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیااس کے علاوہ وزارت اقتصادی امور کے حسابات اور گرانٹس کا بھی جائزہ لیا گیا،اراکین نے بروقت کمیٹی اجلاس کے منٹس نہ ملنے پر شکوہ کیا ،پی اے سی چیئرمین نے سیکرٹری خزانہ کی عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کیا ،سیکرٹری پی اے سی نے بتایا کہ سیکرٹری خزانہ کو خط بھی لکھا گیا ہے لیکن اس کا جواب نہیں آیا،سیکرٹری خزانہ کو آئی ایم ایف وفد سے مذاکرات کے بعد آئندہ اجلاس میں شرکت کی ہدایت کی گئی ہے۔

وزارت خزانہ کے سینیئر افسران نے آئی ایم ایف ٹیم کی وجہ سے سیکرٹری کی غیر حاضری قرار دی جس پر چیئرمین کمیٹی جنید اکبر نے کہا کہ ہمیں یہ وضاحت قبول نہیں، آج یا کل اجلاس میں سیکرٹری کو پیش ہونا ہوگا۔ممبر کمیٹی عمر ایوب نے کہا کہ وزارت اکنامک افیئرز دنیا کے ساتھ معاشی تعلقات کا چہرہ ہے، جو بجٹ اکنامک افیئرز ڈویڑن بتا رہا ہے، اس طرح معاملات نہیں چلائے جاتے۔پبلک اکاوٴنٹس کمیٹی نے مارچ 18 کو وزارت خزانہ کے ساتھ آڈٹ پیراز پر ان معالات کو دیکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔کمیٹی نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے سوال کیا کہ اداروں میں بجٹ اندازے کیوں غلط ہوتے ہیں؟ آڈیٹر جنرل پاکستان نے کہا کہ ایک بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اداروں میں بجٹ کی تیاری بہتر انداز میں نہیں کی جاتی۔عمر ایوب کا کہنا تھا کہ قرضوں کے اعدادوشمار بارے بھی تفصیلی ں ریفنگ دی جائے،ڈالر کے اتار چڑھاوٴ بارے بھی وزارت اقتصادی امور کی پیش گوئیاں درست نہیں ہیں،58 ارب کا قرضہ ری شیڈول ہوا ہے اسے واپس کرنا ہی ہے،جس پر جنید اکبر نے کہا کہ یہ معاملہ سنجیدہ نوعیت کا ہے وزارت خزانہ کے ساتھ منصوبہ بندی و ترقیات کو بھی بلائیں گے،پی اے سی اراکین نے غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی حصول سود کی ادائیگی کے نظام پر اظہار عدم اطمینان کیا ،کمیٹی نے غیر ملکی قرضوں سے متعلق پی اے سی کا خصوصی اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے،پی اے سی نے وزارت اقتصادی امور کے افسران کو 52 ملین کا اعزازیہ دینے کا معاملہ نمٹا دیا،وزارت خارجہ کے آڈٹ اعتراضات بارے محکمانہ اکاوٴنٹس کمیٹی کے اجلاس منعقد نہ کرنے پر کمیٹی نے اظہار برہمی کیا ،کمیٹی اراکین کا وزارت خارجہ کے بجٹ اور گرانٹس کی بروقت واپسی نہ ہونے پر عدم اطمینان کیا،سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ نے بتایا کہ وزارت خارجہ کے ریٹائرڈ افسران کو ادائیگی پاکستانی روپے میں ہوتی ہے،کمیٹی نے 991 ملین روپے کے واجبات سے متعلق عدم شفافیت پر بھی سوالات اٹھا دیئے ،آڈٹ حکام نے بتایا کہ یہ رقم نادرا سے پاکستان کمیونٹی ویلفیر اینڈ ایجوکیشن فنڈ سے لی گئی تھی،اس رقم کی جانچ پڑتال نہیں کروائی گئی،پی اے سی نے اس معاملے پر محکمانہ اکاوٴنٹس کمیٹی کا اجلاس منعقد کرنے کی ہدایت کی ،نوید قمر نے کہا کہ یہ معاملہ دفتر خارجہ اور نادرہ کا معاملہ ہے اس حوالے سے پی اے سی کیا کرسکتی ہے،حنا ربانی کھر نے کہا کہ یہ معاملہ یہاں آ گیا ہے تو اسے بہتر طریقے سے حل کیا جانا چاہیے،ریاض فتیانہ کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں آئی ٹی ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں،

جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اگلے اجلاس میں چیئرمین نادرہ اس حوالے سے بریفنگ دیں،نادرہ اور وزارت داخلہ معاملہ کا ایک ماہ میں حل نکالیں۔اجلاس میں مالی سال 2023.24 میں وزارت خارجہ میں 2 ارب 35 کروڑ سے زائد کی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے،آڈیٹر جنرل کی جانب سے وزارت خارجہ سے متعلق 11 آڈٹ اعتراضات اٹھائے گئے ہیں،کمیٹی نے وزارت خارجہ سے متعلق آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا،آڈٹ حکام کا کہنا تھا کہ کٹھمنڈو میں بلڈنگ نہ بنانے کی وجہ سے کرائے کی مد میں ایک سو اکیاسی ملین کا نقصان ہوا،دو ہزار آٹھ میں بلڈنگ بنانے کی منظوری دی گئی،کٹھمنڈو میں ہمارے پاس پلاٹس ہیں لیکن فنڈنگ نہ ہونے کی وجہ بلڈنگ نہ بنا سکے،پیسے ریلیز نہ ہوئے تو اعتراض نہیں بنتا ،حنا ربانی کھر نے آڈٹ پیرا بنانے پر اعتراض اٹھایا ،جس پر آڈٹ حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت مشن کے پاس چودہ لاکھ ڈالر موجود تھے،اس بلڈنگ کیلئے پلاٹ پہلے سے خریدا جاچکا ہے ،ہمارے لیے ضروری ہے کہ پارلیمنٹ کو آگاہ کریں ،ثناء اللہ مستی خیل نے کہا کہ ایک پراجیکٹ کو درمیان میں کیوں چھوڑا ،حنا ربانی کھر نے کہا کہ حکومت بہت سارے ممالک میں کرایے کی مد میں پیسے ضائع کر رہی ہے ،اگر مورگیج کی طرف جاتے تو بہت ساری بلڈنگ ہماری ملکیت میں ہوتے

،پی اے سی نے معاملہ ذیلی کمیٹی کے سپرد کردیا،کمیٹی اجلاس میں برلن میں پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے ستانوے ملین کی رسیدیں سرکاری خزانے میں جمع نہ کرانے کا معاملہ بھی زیر غور آیا ،آڈٹ حکام نے کہا کہ مرکزی اکاوٴنٹ کی ساتھ ایک اور اکاوٴنٹ کھولا ،دفتر خارجہ کے حکام نے غلطی کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی غلطی دوبارہ نہیں کریں گے ،نوید قمر نے کہا کہ دفتر خارجہ نے کوئی اقدامات کیے ہیں ،جس پر دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ جوہر سلیم اس وقت برلن میں سفیر تھے ،اس وقت جوہر سلیم ریٹائرڈ ہوچکے ہیں،چیئرمین پی اے سی نے رقم کی تصدیق کرنے کی ہدایت کر دی ہے ،اجلاس میں لندن اور پیرس میں بغیر اجازت کے انچاس ملین کی تنخواہیں ادا کرنے کا معاملہ زیر غور آیا،وزارت خزانہ کے حکام نے بتایا کہ جب کیس ہمارے پاس آئے گا تو جائزہ لیں گے ،نوید قمر نے وزارت خزانہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کیا کہ کیا چار سال تک آپ تک کیس نہیں پہنچا ،چیئرمین کمیٹی نے پندرہ دنوں میں معاملہ حل کرنے کی ہدایت کر دی ،وزارت خارجہ کے افسران کو دوہری ادائیگیوں کا معاملہ پر بحث ہوئی ،آٹ حکام نے کہا کہ ڈبل ادائیگیوں کی وجہ سے افسران کو پانچ ملین سے زائد کی ادائیگی کی گئی،اراکین کمیٹی نے سخت برہمی کا اظہارکیا ہے،دفتر خارجہ حکام نے کہا کہ ان افسران کو پتہ نہیں تھا کہ ڈبل تنخواہ آرہی ہے ،کمیٹی رکن افنان اللہ نے کہا کہ یہ تو کمیٹی کو بے وقوف بنانے والی بات ہے،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آپ نے اس وقت تنخواہیں واپس کیوں نہیں کی،چیئرمین پی اے سی نے ایک مہینے میں کارروائی کرنے کی ہدایت کر دی ۔

Comments are closed.