یک طرفہ پالیسیاں وفاق پر شدید دباوٴ کا باعث بن رہی ہیں، آصف علی زرداری
تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کرے تاکہ وفاق کی اکائیوں کے درمیان متفقہ اتفاق رائے کی بنیاد پر قابل عمل، پائیدار حل نکالا جا سکے،صدر مملکت
آئیے ہم ایک ایسا پاکستان بنانے کی کوشش کریں جو منصفانہ، خوشحال اور ہمہ گیر ہو، آئیے اس پارلیمانی سال کا بہترین استعمال کریں،مشترکہ اجلاس سے خطاب
اسلام آباد(آن لائن ) صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ملک کو اندرونی اور بیرونی خطرات کا سامنا ہے،محب وطن پاکستانی کی حیثیت سے میری ذاتی ذمہ داری ہے کہ میں ایوان اور حکومت کو خبردار کروں کہ آپ کی کچھ یک طرفہ پالیسیاں وفاق پر شدید دباوٴ کا باعث بن رہی ہیں، خاص طور پر، وفاقی اکائیوں کی شدید مخالفت کے باوجود حکومت کا دریائے سندھ کے نظام سے مزید نہریں نکالنے کا یکطرفہ فیصلہ، میں اس تجویز کی بطور صدر حمایت نہیں کر سکتا، میں اس حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس موجودہ تجویز کو ترک کرے، تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کرے تاکہ وفاق کی اکائیوں کے درمیان متفقہ اتفاق رائے کی بنیاد پر قابل عمل، پائیدار حل نکالا جا سکے۔آئیے ہم ایک ایسا پاکستان بنانے کی کوشش کریں جو منصفانہ، خوشحال اور ہمہ گیر ہو، آئیے اس پارلیمانی سال کا بہترین استعمال کریں۔ پیر کے روز پارلیمانی سال کے آغاز پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہاکہ پارلیمانی سال کے آغاز پر اس ایوان سے بطور سویلین صدر 8ویں بار خطاب کرنا میرا واحد اعزاز ہے صدر مملکت نے کہاکہ یہ لمحہ ہمارے جمہوری سفر کے تسلسل کا عکاس ہے ، صدر مملکت نے کہاکہ نیا پارلیمانی سال اپنی پیشرفت کا جائزہ لینے اور پاکستان کے بہتر مستقبل کی تعمیر کے عزم کا اعادہ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، صدر مملکت نے کہاکہ یہ ایوان بہتر طرز حکمرانی، سیاسی اور اقتصادی استحکام کے فروغ پر توجہ مرکوز کرے صدر مملکت نے کہاکہ ہماری عوام نے اپنی امیدیں پارلیمنٹ سے وابستہ کر رکھی ہیں ہمیں عوام کی توقعات پر پورا اترنا چاہیے
صدر مملکت نے کہاکہ جمہوری نظام مضبوط کرنے، قانون کی حکمرانی پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کیلئے محنت کی ضرورت ہے صدر مملکت نے کہاکہ پاکستان کو خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے مزید محنت کرنا ہوگی صدر مملکت نے کہاکہ ملک کو معاشی ترقی کے مثبت راستے پر ڈالنے کے لیے حکومت کی کوششوں کو سراہتا ہوں صدر مملکت نے کہاکہ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے اوراسٹاک مارکیٹ بھی تاریخی بلند سطح پر پہنچ گئی ہے صدر مملکت نے کہاکہ یہ امر خوش آئند ہے کہ حکومت نے پالیسی ریٹ کو 22% سے کم کر کے 12% کر دیا ہے اوردیگر معاشی اشاریوں میں بھی بہتری آئی ، صدر مملکت نے کہاکہ ہمارے ملک کی آبادی کا ڈھانچہ بدل چکا ہے ہماری انتظامی مشینری میں تذوایراتی سوچ کی کمی اور آبادی میں اضافے نے حکمرانی کے مسائل کو کئی گنا بڑھا دیا ہے اس ایوان کو اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے، صدر مملکت نے کہاکہ ایوان بہتر طرز حکمرانی ، خدمات کی فراہمی کے نتائج کو ازسرِ نو ترتیب دینے میں اپنا کردار ادا کرے اسی طرح وزارتوں کو بھی اپنے وڑن اور مقاصد کو ازسرنو متعین کرنے کی ضرورت ہے اوروزارتیں ادراک کریں کہ عوام کو درپیش اہم مسائل کو ایک مقررہ مدت میں حل کرنا ہوگا، صدر مملکت نے کہاکہ جمہوری اداروں پر عوامی اعتماد بحال کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات پہنچانے کی ضرورت ہے جمہوریت میں کچھ دینے اور لینے کی ضرورت ہوتی ہے اجتماعی اہداف پر کام کرنے کے لیے اس پارلیمنٹ سے بہتر اور کیا جگہ ہو سکتی ہے
صدر مملکت نے کہاکہ منتخب نمائندوں کے طور پر آپ قوم کے لیے رول ماڈل کے طور پر کام کرتے ہیں اراکین پارلیمنٹ اتحاد اور اتفاق کا سوچیں جس کی ہمارے ملک کو اشد ضرورت ہے صدر مملکت نے کہاکہ آپ سب سے گزارش ہے کہ اپنے لوگوں کو بااختیار بنائیں اوراتفاق رائے سے قومی اہمیت کے فیصلے کریں صدر مملکت نے کہاکہ معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کریں، صدر مملکت نے کہاکہ سماجی اور اقتصادی انصاف کو فروغ دیں اور نظام میں انصاف اور شفافیت کو یقینی بنائیں، صدر مملکت نے کہاکہ کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے اسے مساوی طور پر ترقی دینا چاہیے اور ملک کے پسماندہ علاقوں کو زیادہ ترجیح دینی چاہیے صدر مملکت نے کہاکہ یہ صدی بہت سے نئے عالمی چیلنجز کی صدی ہوگی ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ ہماری تمام عوام ، اپنے مختلف خطوں اور وسائل کے ساتھ، قومی ترقی میں شامل ہوں، صدر مملکت نے کہاکہ مجھے پختہ یقین ہے کہ ایک مضبوط پاکستان وہ ہے جہاں ترقی کے ثمرات تمام صوبوں اور شہریوں کو برابری کی سطح پر پہنچیں، صدر مملکت نے کہاکہ ہمیں ہمہ گیر اور یکساں ترقی کو فروغ دینے کے لیے فعال طور پر کام کرنا چاہیے اوریہ یقینی بنانا ہوگا کہ کوئی صوبہ، کوئی ضلع اور کوئی گاں پیچھے نہ رہے، صدر مملکت نے کہاکہ یہ ایوان یقینی بنائے کہ ترقی صرف چند منتخب علاقوں تک محدود نہ ہو بلکہ ملک کے ہر کونے تک پہنچے
، صدر مملکت نے کہاکہ نظر انداز اور پسماندہ علاقوں کو وفاقی حکومت کی فوری توجہ کی ضرورت ہے ان علاقوں کا احساس محرومی دور کرنے کے لیے انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت اور معاشی مواقع میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے صدر مملکت نے کہاکہ پارلیمنٹ ایک ایسا فورم ہے جہاں کسی بھی احساس محرومی کو تعمیری انداز میں دور کیا جا سکتا ہے صدر مملکت نے کہاکہ ایگزیکٹو برانچ سیاسی ہمدردی کے ساتھ احساس محرومی کا ازالہ بھی کر سکتی ہے، صدر مملکت نے کہاکہ ایک ملک کے طور پر آگے بڑھنے کے لیے ٹیکس نظام کو بہتر بنانا ناگزیر ہے ہمیں اپنے ٹیکس نیٹ میں اصلاحات اور توسیع کرنی چاہیے اور پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والوں پر زیادہ بوجھ ڈالنے کی بجائے یہ امر یقینی بنائیں کہ ہر اہل ٹیکس دہندہ قوم کی تعمیر میں حصہ لے صدر مملکت نے کہاکہ پاکستان کو اپنی برآمدات میں تنوع لانا چاہیے اورقابل قدر اشیا اور خدمات پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے، صدر مملکت نے کہاکہ ہمیں اپنی آئی ٹی انڈسٹری کو معاشی ترقی کا کلیدی محرک بنانا ہوگاہمیں ڈیجیٹل اور انفارمیشن ہائی ویز کی تعمیر، آئی ٹی پارکس میں سرمایہ کاری، انٹرنیٹ تک رسائی اور رفتار بڑھانے اور ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کی ترقی پر توجہ دینی چاہیے صدر مملکت نے کہاکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے پائیدار تعاؤن کی ضرورت ہے صدر مملکت نے کہاکہ ہمیں قرضوں تک رسائی، طریقہ کار اور بیوروکریٹک رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا اورایسی پالیسیاں بنانا ہوگی جو نوجوانوں کے شروع کردہ کاروبار کو فروغ دیں صدر مملکت نے کہاکہ ہمارے نوجوانوں کو ایس ایم ای پر مرکوز پروگراموں، ہنر مندی کے منصوبوں اور آسان قرضہ اسکیموں کے ذریعے کاروباری دنیا میں داخل ہونے کی ترغیب دینی چاہیے اوراس ایوان پر زور دیتا ہوں کہ وہ کاروبار کرنے میں آسانی بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرے صدر مملکت نے کہاکہ سرمایہ کاروں، چھوٹے کاروباروں اور بین الاقوامی کمپنیوں کیلئے پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش مقام بنانا چاہیے
صدر مملکت نے کہاکہ آج عام آدمی، مزدور اور تنخواہ دار طبقے کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے ہمارے شہری مہنگائی، اشیائے ضروریہ کی بلند قیمتوں اور توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں میں اس پارلیمنٹ اور حکومت پر زور دیتا ہوں کہ وہ آگلے بجٹ میں عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کریں اور حکومت کو آئندہ بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن میں اضافے، تنخواہ دار طبقے پر انکم ٹیکس کم کرنے اور توانائی کی لاگت کم کرنے کے اقدامات کرنے چاہئیں، صدر مملکت نے کہاکہ ہمیں ملازمتوں میں کمی سے بچنا چاہیے ہماری توجہ نوکریاں پیدا کرنے اور تربیت یافتہ افرادی قوت کے نتیجہ استعمال پر مرکوز ہونی چاہیے، صدر مملکت نے کہاکہ خواتین کی زندگی کے ہر شعبے میں نمائندگی کم ہے مختلف شعبوں میں خواتین کی نمائندگی کو بڑھا کر انہیں بااختیار بنانا ضروری ہے صدر مملکت نے کہاکہ حکومت اور پارلیمنٹ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے وڑن کے مطابق کمزور طبقے کی خواتین کو مالی طور پر خود مختار بنائے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام لاکھوں خاندانوں کے لیے ایک اہم لائف لائن ہے، صدر مملکت نے کہاکہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رسائی اور رقم کو مزید بڑھانا چاہیے صدر مملکت نے کہاکہ نوجوان ہماری موجودہ آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ ہیں نوجوانوں کو امید اور حوصلہ دینے کی ضرورت ہے اور یہ یقینی بنانا ہوگا کہ بچے پاکستان میں اسکولوں سے باہر نہ ہوں صدر مملکت نے کہاکہ علم پر مبنی معیشت کی تعمیر کے لیے اعلی تعلیم کا فروغ، جامعات میں تحقیق بڑھانا ہماری بنیادی ترجیح ہونی چاہیے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیتا ہوں کہ آئندہ بجٹ میں تعلیمی شعبے کے لیے میکرو لیول پر مختص رقم میں اضافہ کریں اوراسکالرشپ اور مالی امداد کے پروگراموں کے ذریعے نوجوانوں کو مزید مواقع فراہم کریں، صدر مملکت نے کہاکہ اپنے تمام شہریوں کے لیے معیاری صحت کی دیکھ بھال تک رسائی بڑھانے اور غورکرنا ہوگا، صدر مملکت بچوں میں غذائیت کی کمی اور پولیو کے تشویشناک واقعات کو کم کرنا ہوگا اور بنیادی صحت کی سہولیات پر توجہ دی جانی چاہئے
، صدر مملکت نے کہاکہ ملکی اور علاقائی روابط خوشحال پاکستان کے لیے بنیادی حیثیت کے حامل ہیں ہمیں ایک مضبوط اور موثر ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر، روڈ نیٹ ورکس اور جدید ریلوے کی ضرورت ہے، صدر مملکت نے کہاکہ گلگت بلتستان اور بلوچستان روابط اور ترقی کے حوالے سے خصوصی توجہ کے متقاضی ہیں، صدر مملکت نے کہاکہ بلوچستان اور گلگت بلتستان پاکستان کی سٹریٹجک سرحدیں ہیں اور ہماری قومی معیشت کے لیے ناگزیر ہیں ان علاقوں پر توجہ سے غربت میں کمی آئے گی اور نئی ملازمتوں، مہارتوں منڈیوں کی تلاش سے معیشت کو فروغ حاصل ہوگا صدر مملکت نے کہاکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری اور گوادر پورٹ ہمارے روابط اور مواصلات کے ویڑن میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں ان منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جانا چاہیے تاکہ پاکستان بین الاقوامی تجارت کے لیے ایک گیٹ وے کے طور پر کام کر سکے، صدر مملکت نے کہاکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیتا ہوں کہ زراعت کے شعبے کو مستحکم بنائیں اور ملک میں پانی کے پائیدار انتظام، موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے ہنگامی کام کے لیے ہم آہنگی اور تحریک کی ضرورت ہے، صدر مملکت نے کہاکہ زراعت ہماری معیشت کا ایک اہم ستون ہے ہمیں زرعی شعبے میں جدید طریقے، بہتر بیج کی تیاری کی ضرورت ہے ، صدر مملکت نیکہاکہ زرعی تحقیق اور ترقی میں سرمایہ کاری اور زمین کو زیادہ پیداواری بنا کر روزگار کے مواقع پیدا کریں، صدر مملکت نے کہاکہ کھیتی کی پیداوار کو بہتر بنانے، مویشیوں کی پیداوار بڑھانے اور خوراک کی برآمدات کو بڑھانے کے لیے ہمارے کسانوں کو جدید آلات سے لیس ہونا چاہیے، صدر مملکت نے کہاکہ خوراک کی پیداوار میں استحکام اور خود کفالت ہمارا نصب العین ہونا چاہیے، صدر مملکت نے کہاکہ ہمیں پانی کی زیادہ دستیابی اور اس کے موثر استعمال پر توجہ دینے کی ضرورت ہے پانی کی دستیابی کیلئے تاجکستان سے بلوچستان تک پانی لانے جیسے نئے حل پر کام کرنا چاہیے صدر مملکت نے آبپاشی کے نظام کو اپ گریڈ کرنے، پانی کے تحفظ اور تقسیم کے لیے نئی ٹیکنالوجیز کے استعمال پر زور دیتے ہوئے کہاکہ ہمارے ماہی گیری اور لائیو سٹاک کے شعبوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے پاکستان کے دریاں، جھیلوں اور ساحلی علاقوں میں ماہی گیری کے غیر استعمال شدہ مواقع موجود ہیں، صدر مملکت نے کہاکہ کمرشل سطح مویشی پالنے سے روزگار اور برآمدات کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں، صدر مملکت نے کہاکہ حکومت پر زور دیتا ہوں کہ وہ نوجوانوں کو مراعات، تربیت اور مدد فراہم کرے اور حکومت کو ماہی گیری اور مویشی بانی کی صنعتوں کو ہمارے معاشی مستقبل کا ایک اہم حصہ بنانا چاہیے
صدر مملکت نے کہاکہ حکومت پر زور دیتا ہوں کہ ماہی گیری اور مویشی بانی میں چین کے ساتھ زیادہ سے زیادہ تعاون کی کوشش کرے، صدر مملکت نے کہاکہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں سے ایک ہے ہمیں حیاتیاتی تنوع کی بحالی، تحفظ خوراک اور پانی کی حکمت عملی، اور ماحولیاتی نظام کے تحفظ پر توجہ دینی چاہیے، صدر مملکت نے کہاکہ قابل تجدید توانائی اور برقی گاڑیوں کے فروغ میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے صدر مملکت نے کہاکہ سندھ کے مینگرووز ایک روشن مثال ہیں کہ تحفظ کی کوششوں سے کیا کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے اور مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ سندھ میں ہم نے 2 ارب مینگرووز لگائے ہیں مینگروز سے سندھ حکومت کو کاربن کریڈٹ کے ذریعے خاطر خواہ مالی فوائد بھی حاصل ہوئے، صدر مملکت نے کہاکہ ہمیں سندھ کے مینگروز ماڈل کو فعال طور پر نقل کرنا چاہیے اور بین الاقوامی کاربن کریڈٹ مارکیٹ سے فائدہ اٹھانا چاہیے، صدر مملکت نے کہاکہ موجودہ اندرونی اور بیرونی سیکیورٹی چیلنجز کے پیش نظر سیکیورٹی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے، دہشتگردی سے موثر انداز میں نمٹنے کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھانے کی ضرورت ہے، صدر مملکت نے کہاکہ پارلیمنٹ کو انتہا پسندانہ نظریات، تشدد کی حمایت کرنے والی عسکریت پسندی سے نمٹنے کے لیے اتفاق رائے قائم کرنے میں کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے، صدر مملکت نے کہاکہ آج دہشت گردوں کو جو بیرونی سپورٹ اور فنڈنگ مل رہی ہے اس سے ہم سب واقف ہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری سیکیورٹی فورسز نے اپنی جانیں قربان کی ہیں ہم دوبارہ دہشتگردی کو سر اٹھانے کی اجازت نہیں دے سکتے، صدر مملکت نے کہاکہ ہم اپنی قوم اور بہادر مسلح افواج کے تعاون سے دہشتگردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں، صدر مملکت نے کہاکہ انٹیلی جنس پر مبنی کامیاب کارروائیوں کے نتیجے میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کیا گیا ہے پوری قوم کو اپنی سیکورٹی فورسز پر فخر ہے اور قوم سیکیورٹی فورسز کی بہادری، لگن اور ملک کیلئے بے شمار قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے، صدر مملکت نے کہاکہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ عسکریت پسندی کی جڑیں محرومی اور عدم مساوات میں پائی جاتی ہیں دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے خطوں کی ترقی پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے وہاں پر روزگار پیدا کرنا چاہیے، صدر مملکت نے کہاکہ دنیا تبدیلی کے مختلف مراحل سے گزر رہی ہے پاکستان علاقائی امن، استحکام اور اقتصادی انضمام کے لیے پرعزم ہے، صدر مملکت نے کہاکہ ہماری خارجہ پالیسی ہمیشہ قومی مفادات، بین الاقوامی تعاون، خودمختاری اور باہمی احترام کے اصولوں پر مبنی رہے گی ہمیں دوست علاقائی ممالک کے ساتھ تجارت، معیشت، ماحول اور ثقافت کے تبادلے کے شعبوں میں تعاون بڑھانا چاہیے صدر مملکت نے کہاکہ ہم ایک ذمہ دار اور امن پسند قوم کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے صدر مملکت نے کہاکہ چین کے ساتھ ہمارے تعلقات ہماری سفارت کاری کا سنگ بنیاد ہیں ہم بیجنگ کے ساتھ اقتصادی اور تزویراتی تعلقات کو مزید مستحکم کرتے رہیں گے، صدر مملکت نیکہاکہ ہم چین کے ساتھ اپنی آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کو مزید مضبوط کریں گے اور ون چائنا پالیسی کی حمایت جاری رکھیں گے، صدر مملکت نے کہاکہ اپنے حالیہ دورہ چین کے دوران، میں نے چینی قیادت کے ساتھ نتیجہ خیز بات چیت کی تھی اور چینی قیادت کو علاقائی اور اقتصادی انضمام کو بہتر بنانے کے لیے سی پیک میں مزید سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دی صدر مملکت نے کہاکہ سی پیک کے ثمرات مختلف منصوبوں کے ذریعے پاکستان کے کونے کونے تک پہنچیں گے
صدر مملکت نے کہاکہ ہم اپنے قابل اعتماد دوستوں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی اور دیگر کے تعاون کو دل کی گہرائیوں سے سراہتے ہیں، صدر مملکت نے کہاکہ دوست ممالک اقتصادی چیلنجوں کے وقت ہمارے ساتھ کھڑے رہے، صدر مملکت ہم خلیج اور وسطی ایشیا کے دوست ممالک کے ساتھ ساتھ یورپی یونین، برطانیہ اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ اپنے دیرینہ تاریخی، ثقافتی اور اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں، صدر مملکت نے کہاکہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان حالیہ کامیاب انسداد دہشت گردی تعاون حوصلہ افزا ہے دونوں ممالک کو مشترکہ مقاصد کے لیے تعاون کی تجدید اور اضافہ کے لیے ان کامیابیوں پر تعلقات کو قائم کرنا چاہیے، صدر مملکت نے کہاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہمارے بھائیوں اور بہنوں کی حالت زار پوری قوم کے لیے تشویشناک ہے کشمیری عوام کئی دہائیوں سے متواتر بھارتی حکومتوں کے ناجائز قبضے، جبر اور انسانی حقوق کی وحشیانہ خلاف ورزیوں کا شکار ہیں، صدر مملکت نے کہاکہ پاکستان کشمیری عوام کی حق خودارادیت کی جدوجہد میں ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑا رہے گا اور ہم کشمیری عوام کے لیے اپنی غیر متزلزل اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت کا اعادہ کرتے ہیں، صدر مملکت نے کہاکہ عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھارتی قابض افواج کے مظالم کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے، صدر مملکت نے کہاکہ مظلوموں کی آواز کو خاموش نہیں کیا جا سکتا اور پاکستان اس مسئلے کو ہر عالمی فورم پر اٹھاتا رہے گا، صدر مملکت نے کہاکہ فلسطین میں سلسلہ وار تباہی دنیا کی فوری توجہ کی متقاضی ہے فلسطینی عوام مسلسل تشدد، نقل مکانی، نسلی تطہیر اور جبر کو برداشت کر رہے ہیں، صدر مملکت نے کہاکہ پاکستان فلسطینی کاز کے لیے پرعزم ہے، بین الاقوامی قانون اور فلسطینی عوام کی امنگوں پر مبنی منصفانہ اور دیرپا حل کے مطالبے پر قائم ہے ہمارا موقف واضح اور غیر متزلزل ہے اور ایک آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، خطے میں دیرپا امن کے لیے ضروری ہے، صدر مملکت نے کہاکہ ایوان کی توجہ اس فیڈریشن کے لیے ایک تشویشناک معاملے کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں پاکستان کے صدر کی حیثیت سے، مجھے چاروں صوبائی اسمبلیوں، قومی اسمبلی اور سینیٹ آف پاکستان نے منتخب کیا ہے اورآئینی فریم ورک میں فیڈریشن کی نمائندگی میرا فرض ہے، صدر مملکت مشکل ترین حالات میں جب میری اہلیہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو قتل کیا گیا تو میں نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا کیونکہ میرے لیے پاکستان ہمیشہ پہلے آتا ہے اور آپ کے صدر کی حیثیت سے میرا آئینی فرض ہے، محب وطن پاکستانی کی حیثیت سے میری ذاتی ذمہ داری ہے کہ میں ایوان اور حکومت کو خبردار کروں کہ آپ کی کچھ یکطرفہ پالیسیاں وفاق پر شدید دبا کا باعث بن رہی ہیں، خاص طور پر، وفاقی اکائیوں کی شدید مخالفت کے باوجود حکومت کا دریائے سندھ کے نظام سے مزید نہریں نکالنے کا یکطرفہ فیصلہ اور اس تجویز کی بطور صدر میں حمایت نہیں کر سکتا ہوں میں اس حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس موجودہ تجویز کو ترک کرے، تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کرے تاکہ وفاق کی اکائیوں کے درمیان متفقہ اتفاق رائے کی بنیاد پر قابل عمل، پائیدار حل نکالا جا سکے، صدر مملکت نے کہاکہ ایوانِ پارلیمنٹ کو سونپی گئی ذمہ داری کو پورا کرے، قوم کی تعمیر، اداروں کو مضبوط کرنے اور گورننس کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرے صدر مملکت نے کہاکہ آئیے قومی مفاد کو مقدم رکھیں اور ذاتی اور سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھیں، صدر مملکت نے کہاکہ آئیے ہم اپنی معیشت کو بحال کرنے، اپنی جمہوریت کو مضبوط کرنے اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے کے لیے مل کر کام کریں، صدر مملکت نے کہاکہ آئیے ہم ایک ایسا پاکستان بنانے کی کوشش کریں جو منصفانہ، خوشحال اور ہمہ گیر ہو، صدر مملکت نے کہاکہ آئیے اس پارلیمانی سال کا بہترین استعمال کریں۔۔۔۔۔۔۔اعجاز خان
Comments are closed.