پارلیمنٹیریز کا استحقاق آئین کے مطابق ،تبدیلی صرف چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کر سکتے ہیں، اعظم نذیر تارڑ
اسلام آباد(آن لائن) ایوان بالا کو وفاقی وزیر قانون و پارلیمانی امور سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے بتایا ہے کہ پارلیمنیٹریز کا استحقاق آئین کے مطابق طے شدہ ہے اس میں تبدیلی چیرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی ہی کرسکتے ہیں۔منگل کو سینیٹ اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر انوشہ رحمن نے کہاکہ پارلیمنٹیرینز کے استحقاق کیا کیا ہیں اس حوالے سے کچھ واضح نہیں ہے انہوں نے کہاکہ 1963کے بعدسے اب تک اس پر کوئی بحث نہیں ہوئی ہے انہوں نے کہاکہ پارلیمینٹرینز اس وقت 16نمبر پر کیوں ہیں اور اس کے مطابق اٹارنی جنرل ،ڈپٹی چیرمین منصوبہ بندی کمیشن ،گورنر اسٹیٹ بنک،سفارتکار،ہائی کمشنرز،چیرمین ایف پی ایس سی ،چیف الیکشن کمشنر ،وفاقی محتسب،ججز سپریم کورٹ اور چیف جسٹس ہائی کورٹ ،چیرمین اسلامی نظریاتی کونسل ،آئی جی پی بھی پارلیمنٹرینز سے اوپر رینک کے افسران ہیں
انہوں نے کہاکہ اس مسئلے کو پورے ایوان کی کمیٹی میں بحث کی جائے یا پھر اس کو کبینٹ کمیٹی کے سپرد کیا جائے تاکہ پارلیمان کو سب سے اوپر کی رینکنگ پر لے جایا جاسکے اس موقع پر اپوزیشن لیڈر سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ یہ بہت اہم سوال ہے لیکن یہ عزت صرف اس لسٹ کی وجہ سے نہیں ہوتی ہے کیا اس ایوان کو آج عزت دی جارہی ہے انہوں نے کہاکہ کیا اس ایوان میں آئینی ترامیم پر کوئی بحث ہوئی ہے ہمیں تو پڑھنے بھی نہیں دیا گیا اس موقع پر وفاقی وزیر پارلیمانی امور سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ میرے لئے اس ایوان کا رکن ہونا کسی اعزاز سے کم نہیں ہے ہم یہاں پر پاکستان کے عوام کی نمائندگی کرتے ہیں اس ایوان کی عزت و تکریم آئین پاکستان میں درج ہے انہوں نے کہاکہ ملک کے سب سے پہلے نمبر پر جو صدر مملکت آتا ہے وہ آپ کے ووٹوں سے آتے ہیں اسی طرح وزیر اعظم بھی اپ کے ووٹوں سے آتے ہیں انہوں نے کہاکہ تمام پارلیمنٹیرینز کو ایک ہی سیٹ پر نہیں بٹھایا جاسکتا ہے تاہم یہ ایوان تمام عہدوں پر تعیناتی کرتی ہے انہوں نے کہاکہ اس پر 2021میں بحث ہوئی ہے اور اس کو برقرار رکھا گیا ہے انہوں نے کہاکہ میرے لئے مقام اور تکریم خود ہی فیصلہ نہیں کرنا ہے اس مسئلے پر سیاست نہ کی جائے تاہم میری تجویز ہے کہ چیرمین سینیٹ اور سپیکر قوی اسمبلی اس حوالے سے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے سات مل کر فیصلہ کریں اس موقع پر سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ اس حوالے سے ایک کمیٹی بنائی جائے۔۔۔۔۔اعجاز خان
Comments are closed.