سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، دہشت گردوں کے جعفر ایکسپریس پر حملے کے 80یرغمالیوں کو رہا کروالیا

رہا ہونے والوں میں 43 مرد، 26 عورتیں اور 11 بچے شامل ، کوئٹہ اور دیگر ہسپتالوں میں منتقل کرلیاگیا
جعفر ایکسپریس پر بزدلانہ حملے کے دہشت گرد، افغانستان میں اپنے ماسٹر مائنڈ سے رابطے میں ہیں
باقی مسافروں کی باحفاظت رہائی کیلئے سیکیورٹی فورسز کوشاں، دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کردیاگیا، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا ، سیکیورٹی ذرائع

راولپنڈی ( آن لائن )بلوچستان میں کالعدم تنظیم کی جانب سے کئے گئے جعفر ایکسپریس پر حملے کے نتیجے میں یرغمال بنائے گئے مسافروں میں سے 80 مسافروں کو سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں سے رہا کروا لیا، رہا ہونے والوں میں 43 مرد، 26 عورتیں اور 11 بچے شامل ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے کامیاب آپریشن کے بعد 80مسافروں کو رہا کروالیاہے باقی مسافروں کی باحفاظت رہائی کیلئے سیکیورٹی فورسز کوشاں ہیں ۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھاکہ دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کردیاگیاہے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا ۔ دوسری جانب ریلوے حکام کاکہنا تھا کہ رہا کروائے گئے مسافروں کو کوئٹہ اور دیگر ہسپتالوں میں منتقل کردیاگیا ہے ٹرین میں750 مسافروں کی بکنگ تھی۔کالعدم تنظیم کے حملے میں متاثرہ ٹرین کے مسافروں کی مدد اور زخمیوں کی منتقلی کے لئے محکمہ ریلوے کی جانب سے ریلیف ٹرین سبی سے روانہ کر دی گئی۔ ریلیف ٹرین میں طبی عملے کے ساتھ ادویات و خوراک بھی روانہ کی گئی ہے،تاہم ریلیف ٹرین کا جائے حادثہ تک پہنچنا سیکیورٹی کلئیرنس سے مشروط ہے۔سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کلئیرنس آپریشن تاحال جاری ہے. دہشت گردوں کے حملے کے نتیجے متعدد ہلاکتوں اور زخمیوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ڈویڑنل ہیڈ کوارٹر ہسپتال سبی میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے تمام عملے کو طلب کر لیا گیا ہے۔

کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تمام متعلہ اداروں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔واضح رہے کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر کالعدم بی ایل اے کے دہشت گردوں نے حملہ کرکے ڈرائیور سمیت متعدد مسافروں کو قتل اور کئی کو زخمی کردیا تھا دہشت گردوں نے مچھ کی پہاڑیوں میں ٹرین روک کر اسے یرغمال بنالیا، ٹرین میں 500 مسافر سوار ہیں، سیکیورٹی فورسز کا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری ہے۔منگل کی صبح ساڑھے نو بجے ٹرین کوئٹہ سے روانہ ہوئی، جب ٹرین گڈالار اور پیرو کنری کے علاقے سے گزری تو وہاں نامعلوم مسلح افراد نے ٹرین پر فائرنگ کردی، نتیجے میں ڈرائیور شدید زخمی ہوگیا جو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا، ساتھ ہی متعدد مسافر بھی جاں بحق ہوچکے ہیں۔عینی شاہدین اور لیویز ذرائع کے مطابق مچھ کی پہاڑیوں کے درمیان یہ واقعہ پیش آیا ہے، جہاں جعفر ایکسپریس کو روک دیا گیا بعدازاں فائرنگ کی آوازیں کافی دیر تک آتی رہیں۔ ریلوے پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریل وہیں روک دی گئی ہے، ٹرین میں کم از کم 500 مسافر سوار ہیں، کئی مسافروں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں تاہم تصدیق کا عمل جاری ہے۔۔سیکیورٹی فورسز کے ذرائع کے مطابق یہ مچھ کی پہاڑیوں کا درمیانی علاقہ ہے جس کا سیکیورٹی فورسز نے محاصرہ کرلیا ہے، مزید کانوائے روانہ کردیے گئے ہیں۔ملزمان کے فرار ہونے کی فی الحال کوئی اطلاعات نہیں ہیں بلکہ اطلاعات یہ آرہی ہیں کہ ملزمان نے مسافروں کو یرغمال بنالیا ہے اور قابض ہوکر بیٹھ گئے ہیں اور علاقے میں وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ذرائع کے مطابق ریلوے لائن کو پہلے دھماکا خیز مواد سے تباہ کرکے ٹرین کو روکا گیا پھر فائرنگ کی گئی جس میں ڈرائیور سمیت کئی مسافر جاں بحق ہوئے۔ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ ٹرین جہاں پر موجود ہے وہاں موبائل نیٹ ورک کام نہیں کرتا اس لیے رابطے میں مشکلات کا سامنا ہے، جعفر ایکسپریس 9 بوگیوں پر مشتمل ہے جس میں 500 کے قریب مسافر سوار تھے ۔دوسری جانب سیکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ بولان پاس، ڈھاڈر کے مقام پر کالعدم بی ایل اے کے دہشت گردوں نے جعفر ایکسپریس پر حملہ کر کے معصوم شہریوں کو ٹارگٹ کیا،

جس میں متعدد ہلاکتیں ہوئیں، دہشت گردوں نے جعفر ایکسپریس کو ٹنل میں روک کر مسافروں کو یرغمال بنایا ہوا ہے، انتہائی دشوار گزار اور سڑک سے دور ہونے کے باوجود، سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس آپریشن شروع کیا۔جعفر ایکسپریس پر بزدلانہ حملے کے دہشت گرد، افغانستان میں اپنے ماسٹر مائنڈ سے رابطے میں ہیں، ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے عورتوں اور بچوں کو ڈھال بنایا ہوا ہے، سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا گھیرا وٴکر لیا ہے اور فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔ذرائع کے مطابق عورتوں اور بچوں کو ڈھال بنائے جانے، مشکل علاقہ ہونے کی وجہ سے پیچیدہ آپریشن انتہائی اختیاط سے کیا جا رہا ہے، سیکیورٹی فورسز آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رکھیں گی۔ذرائع کے مطابق جعفر ایکسپریس پر دہشت گردوں کے بزدلانہ حملہ پر انڈین اور ملک دشمن سوشل میڈیا غیر معمولی طور پر متحرک ہے بزدلانہ حملہ ہونے کے وقت سے لے کر ہندوستانی میڈیا، ہندوستانی سوشل میڈیا اور ملک دشمن سوشل میڈیا اکانٹس ملکر مسلسل گمراہ کن، جھوٹا اور فیک پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہیں، پروپیگنڈا اور فیک نیوز پھیلانے میں پرانی ویڈیوز، اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز، پرانی تصاویر، فیک وٹس ایپ پیغامات اور پوسٹرز کے ذریعے ہیجان پیدا کرنے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق مذموم سوشل میڈیا مہم کے ذریعے لوگوں میں ہیجان پیدا کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے، دہشت گردوں سے جڑے سوشل میڈیا اکاوٴنٹس بھی پاکستان مخالف زہر اگلنے میں ہندوستانی میڈیا کا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں، ہندوستانی میڈیا پاکستان سے باہر بیٹھے خود ساختہ بھگوڑے بلوچ رہنماوٴں کے تجزیے دکھا کر لوگوں کو گمراہ کرنے میں مصروف ہے۔ذرائع کے مطابق عوام سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے گمراہ کن اور من گھڑت پروپیگنڈا کی بجائے مستند ذرائع سے دی جانے والی معلومات پر اکتفا کریں۔

Comments are closed.