33دہشتگردوں کو منطقی انجام تک پہنچایا دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 80ہزار جانوں کا نذرانہ پیش کیا، شہباز شریف
دہشتگردی سے معیشت کو 30ارب ڈالر کا نقصان پہنچا یہ وقت سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا نہیں بلکہ قومی یکجہتی اور اتحاد قائم کرنے کا ہے
دہشتگردی کو ختم کرنے کیلئے یک جان ہو نا ہوگا سکیورٹی فورسز کو تمام وسائل ہیا کئے جائیں گے ،کوئٹہ میں اجلاس سے خطاب
کوئٹہ(آن لائن)وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ سانحہ جعفر ایکسپریس پر پوری قوم اشکبار ہے 400سے زائد نہتے لوگوں یرغمال بنایا گیا واقع سے نمٹنے کیلئے سکیورٹی فورسز نے کامیاب حکمت علی اپناتے ہوئے ضرار کمپنی نے مشکل صورتحال میں اچھی کارکردگی دکھاتے ہوئے 339جانوں کو با حفاظت بچایا 33دہشتگردوں کو منطقی انجام تک پہنچایا دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 80ہزار جانوں کا نذرانہ پیش کیا دہشتگردی سے معیشت کو 30ارب ڈالر کا نقصان پہنچا یہ وقت سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا نہیں بلکہ قومی یکجہتی اور اتحاد قائم کرنے کا ہے تاکہ ان مسائل سے نبرد آزما ہوکر امن کی بحالی کو یقینی بنا سکتے ہیں دہشتگردی کو ختم کرنے کیلئے یک جان ہو نا ہوگا سکیورٹی فورسز کو تمام وسائل ہیا کئے جائیں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے دورہ کوئٹہ کے دوران منعقدہ اجلاس اور صوبائی وزرا اراکین صوبائی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی وفاقی وزرا صوبائی وزرا اراکین اسمبلی اور دیگر سرکاری حکام بھی موجود تھے وزیراعظم نے دہشتگردوں کے خلاف کامیاب آپریشن کرنے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جوانوں کا بلند حوصلہ اور عزم لائق تحسین ہے پاکستان ایسے حادثات کا متحمل نہیں ہوسکتا،امن کیلئے تمام اکائیوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگابلوچستان کی ترقی کے بغیر ملکی ترقی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا،دہشت گردی کے خاتمے تک امن کا حصول ناممکن ہے،
انہوں نے کہا کہ 2018میں دہشت گردی کامکمل خاتمہ ہوگیا تھا،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار جانوں کا نذرانہ پیش کیاہے ،دہشت گردی سے معیشت کو 30 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا ہے انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان کی لازوال قربانیوں کی وجہ سے امن قائم ہواہے سوال ہے کہ دہشت گردی کے ناسور نے دوبارہ سر کیوں اٹھایا؟طالبان کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے والوں کے باعث ہم آج یہ دن دیکھ رہے ہیں، انہوں نے جیلوں میں قید ہزاروں طالبان کو آزاد کیا، افواج پاکستان کے جوان دہشتگردی کے خلاف لازوال قربانیاں دے رہے ہیں، بدقسمتی سے اس واقعہ میں جس طرح کی گفتگو کی گئی وہ زبان پر نہیں لائی جاسکتی کیونکہ ہمارا مشرقی دشمن زہر اگل رہا ہے، اسے جس طرح میڈیا پر پیش کیاگیا وہ ناقابل بیان ہے اپنی ہی فوج کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے تو اندازہ کریں ملک کا کیا حال ہوگا؟ملک کی خاطر جانیں دینے والوں کے خلاف باتیں برداشت نہیں کرسکتے، ملک کو ایک سال میں معاشی میدان میں بہتری کی طرف لے کر آئے ہیں ڈیفالٹ کی باتیں کرنے والے ہماری معاشی کامیابیوں پر حیران ہیں، قوم کو دوست نما دشمنوں کو پہچاننا ہو گا،حالات جیسے بھی ہوں ہم نے مل کر کام کرنا ہے،این ایف سی ایوارڈکا سہراصدر آصف علی زرداری ، میاں محمد نواز شریف سمیت تمام قیادت کو جاتا ہے
دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے خیبرپختونخوا کو 600 ارب روپے دیئے گئے،ہمیں دیکھنا ہوگا کہ یہ خطیر رقم کہاں خرچ ہوئی ؟خیبر پختونخوا میں انسداد دہشت گردی کیلئے ایک بھی محکمہ قائم نہیں کیا گیا،دہشت گردی کو ختم نہ کیاگیا تو ترقی کا عمل رک جائیگا، ملکی ترقی کے لیے امن و امان کا قیام ناگزیر ہے، امن کے لیے سکیورٹی فورسز کو تمام وسائل مہیا کریں گے،یہ وقت سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا نہیں قومی یکجہتی و اتحاد کا ہے،ملک کو خوارج اور دہشت گردی سے بچانے کیلئے یک جان ہونا ہو گاانہوں نے کہا کہ 300بچوں کو زرعی شعبے میں ٹریننگ کیلئے چین بھیج رہے ہیں،بلوچستان کے طلبہ کے لیے جلد لیپ ٹاپ سکیم لا رہے ہیں،بلوچستان کے طلبہ کے لیے 10فیصد اضافی کوٹہ رکھا گیا ہے۔
Comments are closed.