اسلام آباد( آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان سے ملاقاتوں کے کیسز یکجا کرکے لارجر بینچ بنانے کی ہدایت کردی۔پیرکوسپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کے کیسز یکجا کرنے کی درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے ساتھ سماعت قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کی، جس میں عدالت نے کیسز یکجا کرکے لارجر بینچ بنانے کی ہدایت کردی۔عدالت میں سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عبد الغفور انجم کی طرف سے نوید ملک ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور موٴقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کے ایس او پیز انٹرا کورٹ اپیل میں طے ہو چکے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کی درخواستیں مختلف بینچز میں سماعت کے لیے مقرر ہیں۔وکیل نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کی درخواستیں یکجا کر کے لارجر بینچ تشکیل دیا جائے۔ اڈیالہ جیل کے ہزاروں قیدیوں کے معاملات سپرنٹنڈنٹ نے دیکھنے ہوتے ہیں۔ ہفتے میں 5 دن ان کو اسلام آباد ہائیکورٹ پیش ہونا پڑتا ہے۔ ایک ہی بینچ میں کیسز مقرر ہونے سے ایک ہی دفعہ وہ پیش ہو جایا کریں گے۔عدالت نے ان کی استدعامنظورکرلی۔واضح رہے کہ اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے سابق وزیر اعظم عمران خان کو فراہم کی جانے والی سہولتوں اور جیل میں ان کے حقوق سے متعلق تمام درخواستوں کو یکجا کرنے کے لیے درخواست دائر کی تھی ۔جس میں عمران خان کی جانب سے دائر 20 سے زائد درخواستوں کی تفصیلی فہرست بھی شامل تھی
، جن میں سے کئی کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے مختلف بینچ پہلے ہی کر چکے ہیں۔ استدعا کی گئی تھی کہ اس سلسلے میں فیصلہ شدہ مقدمات کے خلاف تمام زیر التوا مقدمات اور اپیلوں کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کا سنگل یا لارجر بینچ کرے۔پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان کو فراہم کی جانے والی جیل کی سہولتوں کے حوالے سے متعدد درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔ان میں سے زیادہ تر معاملوں میں اہل خانہ اور پارٹی رہنماوٴں کو عمران خان سے ملنے کی اجازت مانگی گئی ہے، جب کہ کچھ درخواستوں میں جیل حکام کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں کو چیلنج کیا گیا ہے۔پارٹی نے دعویٰ کیا کہ ان کے رہنما کو ملاقات کی اجازت نہیں، قیدی کی حیثیت سے انہیں ان کے حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ایس ایس پی نے دلیل دی کہ چونکہ مختلف بینچز کے ذریعے مقدمات کی سماعت کی جارہی ہے، لہٰذا ان کی سمجھ کے مطابق معاملات پر متضاد فیصلے ہوئے ہیں، درخواست میں متعدد مقدمات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جہاں مختلف ججز نے عمران خان کے حقوق کے بارے میں مختلف احکام جاری کیے ہیں، جس کی وجہ سے ’الجھن‘ پیدا ہوئی ہے۔ایس ایس پی عبدالغفور انجم نے موقف اختیار کرتیہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے مختلف بینچز کی جانب سے جاری کردہ فیصلوں نے جیل انتظامیہ کے لیے مشکلات اور غیر یقینی صورتحال پیدا کردی ہے، مقدمات کے انضمام سے عدالتی ہدایات پر موٴثر عمل درآمد کو یقینی بنایا جاسکے گا۔درخواست میں کہا گیا تھا کہ جیل حکام کی جانب سے عمران خان اور دیگر قیدیوں کو جگہ دینے کی کوششوں کے باوجود ان کے خلاف درخواستیں دائر کی گئیں۔درخواست میں ایس ایس پی عبدالغفور انجم نے عدالت کو بتایا کہ اس وقت جیل میں 8 ہزار سے زائد قیدی ہیں
جو اس کی گنجائش سے کہیں زیادہ ہیں، ان چیلنجز کے باوجود جیل حکام نے اس بات کو یقینی بنایا کہ عمران خان کو پاکستان جیل قوانین 1978 کے تحت تمام مراعات حاصل ہوں، جن میں ان کے اہل خانہ، وکلا اور پارٹی رہنماوٴں سے باقاعدگی سے ملاقاتیں کرنے کے ساتھ ساتھ پڑھنے کے مواد اور اخبارات تک رسائی بھی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ تاہم عمران خان کے جیل حقوق سے متعلق متعدد مقدمات نے جیل انتظامیہ پر اضافی دباوٴ ڈالا ہے، جس پر پہلے ہی قیدیوں کی ایک بڑی تعداد کا بوجھ ہے۔درخواست گزار نے موٴقف اختیار کیا کہ جیل قوانین کے تحت جیل سپرنٹنڈنٹ کو قیدیوں کے ساتھ ملاقاتوں کو ریگولیٹ کرنے اور ضرورت پڑنے پر منع کرنے کا اختیار حاصل ہے، اس میں دلیل دی گئی ہے کہ بہت سارے معاملے اس اختیار کو کمزور کر رہے ہیں اور جیل انتظامیہ کے لیے ’غیر ضروری قانونی رکاوٹیں‘ پیدا کر رہے ہیں۔مرکزی درخواست کے علاوہ جیل سپرنٹنڈنٹ نے عبوری ریلیف کی درخواست بھی دائر کی ہے، جس میں استدعا کی گئی ہے کہ عمران خان سے متعلق تمام مقدمات کی کارروائی کو مرکزی درخواست کو حتمی طور پر نمٹانے تک روکا جائے۔درخواست گزار نے موٴقف اختیار کیا کہ اگر ریلیف نہ دیا گیا تو اس سے جیل انتظامیہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا اور جیل کے معاملات کے موٴثر انتظام پر سمجھوتہ ہوگا۔
Comments are closed.