پوری امت مسلمہ پر جہاد فرض ہوچکا ہے ، مولانا فضل الرحمان

اب پاکستان سمیت مسلمان حکمرانوں پر فرض ہے کہ ہر لحاظ سے فلسطینی بھائیوں کی مدد کرے
اتوار کو کراچی میں ملین مارچ سمیت آج جمعہ کو ملک بھر میں اسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاجی جلسے ہونگے، سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف)
اسرائیل ایک ریاستی دہشت گرد ہے یہ یہود انبیاء کے قاتل ہیں ان کی تاریخ قتل و غارت گری ہے اور انہوں نے ہمیشہ جنگ کی سازشیں کی ہیں،جے یوآئی کے زیر اہتمام فلسطین کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد (آن لائن) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہاہے کہ پوری امت مسلمہ پر جہاد فرض ہوچکا ہے، اب پاکستان سمیت مسلمان حکمرانوں پر فرض ہے کہ ہر لحاظ سے فلسطینی بھائیوں کی مدد کرے انہوں نے کہاکہ اتوار کو کراچی میں ملین مارچ سمیت آج جمعہ کو ملک بھر میں اسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاجی جلسے ہونگے۔جمعرات کو جے یوآئی کے زیر اہتمام فلسطین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ فلسطین اور غزہ کی موجودہ صورتحال کا تقاضہ تھا کہ فوری طور پر اکھٹے ہوکر اہل فلسطین کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کریں اور دنیا کو یہ پیغام دیں کہ پاکستان سمیت عالم اسلام کا کوئی بھی فرد آج اپنے فلسطینی بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں انہوں نے کہاکہ یہ اجتماع روایتی نہیں بلکہ نہایت اہمیت کا حامل ہے اور اب امت پر فرض ہوچکا ہے کہ فلسطینیوں کے ساتھ شانہ بشانہ جہاد میں حصہ لے انہوں نے کہاکہ اسرائیل ایک ریاستی دہشت گرد ہے یہ یہود انبیاء کے قاتل ہیں ان کی تاریخ قتل و غارت گری ہے اور انہوں نے ہمیشہ جنگ کی سازشیں کی ہیں انہوں نے کہاکہ 1917میں اسرائیلی ریاست کی قرارداد پیش کی گئی تو اس وقت صرف 2فیصد علاقے پر یہودی آباد تھے

انہوں نے کہاکہ ہم پاکستان کے اسرائیل کے حوالے سے موقف کو بھی جانتے ہیں کہ فلسطین کی سرزمین پر یہودی بستیوں کا قیام ناجائز قبضہ ہے اور بانی پاکستان نے کہا تھا کہ ہم فلسطینیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اس کو برطانیہ کا ناجائز بچہ کہا گیا تھاانہوں نے کہاکہ آج پاکستان کو جس طرف سے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس میں یہودی سازش کارفرما ہوتی ہے انہوں نے کہاپاکستان میں بعض لوگ یہودیوں کے زریعے پاکستان کی معیشت چلانے کی باتیں کر رہے ہیں انہوں نے کہاکہ ہمارے ملک کی حکومت پھٹی ہوئی قمیض ہے اس وقت پی ڈی ایم حکومت کر رہی ہے جبکہ اس کے صدر اپوزیشن میں ہے اور وہ اپنے صدر کی ماننے کی بجائے پتہ نہیں کس کی مان رہے ہیں انہوں نے کہاکہ مسلم امہ کے نام پر وجود میں آنے والی ریاست پوری دنیا کے مسلمانوں کی جنگ لڑنے کی ذمہ دار ہے انہوں نے کہاکہ اس معیشت پر لعنت بھیجتا ہوں کو جو یہودیوں کے رحم و کرم پر ہوانہوں نے کہاکہ 77سالوں سے ہم نے اپنے وسائل کو استعمال نہیں کیا ہے اور ساری زندگی بھیک مانگ کر گزاری ہے تمھارے دل کل بھی غلام تھے اور آج بھی تم غلامی کر رہے ہوانہوں نے کہاکہ جنرل مشرف کے ساتھ میٹنگ میں کہتا ہے کہ تم امریکہ کے خلاف مظاہرے کرتے ہو میں نے کہاکہ ہم امریکہ کے غلام نہیں ہیں جس پراس وقت کے آرمی چیف نے کہا کہ مان لو کہ ہم غلام ہیں میں نے کہاکہ ایک طبقہ وہ ہے جو غلامی تسلیم کرتا ہے جبکہ ایک طبقہ وہ ہے جو غلامی کو قبول نہیں کرتا ہے

انہوں نے کہاکہ مجھے اپنے اباؤاجداد کی تاریخ پر فخر ہے انہوں نے کہاکہ ان سارے حالات میں ہمیں اپنے فرائض کو سمجھنا ہوگا انہوں نے کہاکہ امت مسلمہ آج ایک صف ہے اور ان کے جذبات ایک ہیں اور اگر کوئی رکاؤٹ ہے تو وہ حکمران ہیں انہوں نے کہاکہ ہمارے پاکستان کے حکمرانوں نے سارے ویڑن اسرائیل کے ساتھ وابستہ کئے ہیں ان کا خواب ہمیشہ خواب پریشان ہی رہے گا جس کی تعبیر نہیں ہوسکے گی انہوں نے کہاکہ پاکستان سمیت امت مسلمہ کے بڑے ممالک اگر فیصلہ کریں تو تمام ممالک ان کی تقلید کریں گے انہوں نے کہاکہ ہم کسی پر لعن طعن نہیں کر رہے ہیں بلکہ امت کے اندر بیداری پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں انہوں نے کہاکہ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے حکمرانوں کو یہ احساس دلائیں کہ امت مسلمہ آپ سے کیا چاہتی ہے اور اس طرح پھر ہم بھی آپ کو آرام سے سونے نہیں دیں گے انہوں نے کہاکہ دین بیزار لوگ آللہ کی خدائی کی بجائے امریکہ کی غلامی پر یقین رکھتے ہیں انہوں نے کہاکہ اتوار 13اپریل کو کراچی میں اسرائیل مردہ باد مارچ کے عنوان سے ملین مارچ ہوگا اور آج جمعہ کو پورے ملک میں فلسطینی بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے احتجاجی مظاہرے ہونگے۔

Comments are closed.