مظفرآباد (آن لائن)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی جنگ کسی بھی لمحے انتہائی خطرناک رخ اختیار کرسکتی تھی، جس کے نتائج بہت بھیانک ہوسکتے تھے، ان چار دنوں میں بھارت کو جو سبق سکھایا گیا میری نظر میں 1971 کی شکست کا بدلہ لے لیا گیا ہے۔مظفر آباد میں بھارتی جارحیت میں شہید پاکستانی شہریوں کے لواحقین میں چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے پہلگام واقعے کی تحقیقات کی پیش کش کی ، بھارت پیشکش کو نظر انداز کر کے پاکستان پر حملہ آور ہو گیا ، سپہ سالار کی مدبرانہ قیادت میں پاک فوج نے بھارتی جارحیت کو منہ تو ڑ جواب دیکر تاریخی شکست دی میری نظر میں ہم نے انیس سو اکہترکی شکست کا بدلہ لے لیا ، معرکہ حق میں پوری قوم سیسہ پلائی دیوار بن کر پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی رہی ، مودی سرکار اب پاکستان پر حملے سے قبل سو بار سوچے گی ، کشمیریوں کو حق کود اردیت دلانے تک پاکستان انکے ساتھ کھڑا رہے گا ۔ وزیر اعظم نے آزادکشمیر کے شہدا کے لواحقین کے لئے ایک کروڑ روپے اور زخمیوں کو بیس لا کھ فی کس دینے کا بھی اعلان کیا ۔ بھارتی جار حیت میں آزادکشمیر کے شہید ہونے والے شہریوں کے ورثا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ابھی چند دن پہلے پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک ایسی جنگ چھڑی جو کہ کسی بھی لمحے انتہائی خطرناک صورتحال اختیا کر سکتی تھی اور جس کے نتائج بھیانک ہو سکتے تھے ۔ انہوں نے کہا پہلگام کا افسوسناک واقعہ ہوا اس و اقعے پر بھارت نے نے پاکستان پر بے بنیاد الزامات کی بوچھا ڑ کر دی ۔ ہم نے پوری دنیا کو باور کرا یا کہ بھارت جھوٹا ہے وہ خطے کے امن و امان کو تباہ و برباد کرنے پر تلا ہوا ہے ۔ ہم نے اس واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا تاہم ہندوستان سے ہماری پیشکش ہضم نہیں ہوئی ۔ اور ہم پر حملہ کر دیا ۔ حملے میں تئیس افراد شہید اور پچیس زخمی ہوے ۔ بھارت نے ہمارے نہتے لوگوں پرحملہ کیا تاہم پاکستان نے بھارت کے نہتے شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ انکی دفاعی تنصیبات پر حملے کئے ۔ بھارت کے چھ جہاز مارگرائے اور اسکا گھمنڈ خاک میں ملا دیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے فتح میزائلوں نے بھارت کو چھٹی کا دودھ یا د دلایا انہوں نے کہا ہندوستان باز نہ آیا تواتر سے الزامات لگاتا رہا اور حملے بھی جاری رکھے ۔ نو مئی کی رات طے ہوا کہ ہم نے دس مئی کی شب بھار ت کے خلاف اپنا دفاعی حق استعمال کرنا ہے ۔
ہم نے دنیا کے ممالک کو باور کرایا کہ بھارت کے الزامات جھوٹ پر مبنی ہیں ۔ اور پاکستان بھارت کے خلاف اپنے دفاع کا ھق رکھتا ہے ۔ اس سے پاکستان کی سچائی دنیا پر واضح ہو گئی ۔ بھارت گھمنڈ میں تھا کہ عالمی طاقتیں اس کا ساتھ دیں گی لیکن پاکستان کے میوچل دوستوں نے ہمارا بھرپور ساتھ دیا ۔ وزیراعظم نے کہا کہ نو مئی کی رات کو ہم نے بھارت پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا، سپہ سالار نے فون پر مجھ سے کہا کہ دشمن کو ایسا زوردار تھپڑ لگایا جائے کہ وہ قیامت تک یاد رکھے آرمی چیف کی آواز میں بلا کا جوش ، جذبہ اور ولولہ تھا ، اس کے نتیجے میں پھر آپ نے دیکھا کہ پٹھان کوٹ سے لے کر بھارت کا کوئی بھی ایئرپورٹ ہمارے شاہینوں اور الفتح میزائلوں کی رینج سے باہر نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ پھر صبح 9 بجے مجھے سپہ سالار کا فون آیا کہ بھارت جنگ بندی یعنی گھٹنے ٹیکنے کے لیے تیار ہے، یہ ہے وہ تاریخ جو پاکستان کی افواج نے اپنے خون سے رقم کی ہے، اب مودی سرکار پاکستان پر حملہ آور ہونے سے پہلے سو مرتبہ سوچے گی، کیونکہ اسے پتا چل گیا ہے کہ ہماری افواج پوری طرح تیار ہیں، ان چار دنوں میں بھارت کو جو سبق سکھایا گیا میری نظر میں 1971 کی شکست کا بدلہ لے لیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس جنگ نے یہ ابہام غلط ثابت کردیا کہ پاکستان روایتی جنگ میں بھارت سے پیچھے رہ گیا ہے، ہمیں اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ میں فتح کی صورت میں اللہ نے ہمیں عزت دی مگر یہ عزت ان شہدا ان غازیوں کی مرہون منت ہے جنہوں نے پاکستان اور بھارت کے حملے سے نہ صرف بچایا بلکہ دشمن کو ایک ایسا سبق سکھایا جو وہ کبھی بھلا نہیں پائے گا۔انہوں نے کہا کہ پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح متحد تھی، یہ اتحاد وہ دولت ہے جو کسی بھی قوم کو نصیب ہوجائے تو بڑی سے بڑی مشکل آسان ہوجاتی ہے، ہم نے اسی اتحاد اور اتفاق کی طاقت سے معاشی ترقی میں آگے بڑھنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر آج قوم نے چیف آف آرمی اسٹاف کو فیلڈ مارشل کا خطاب دیا ہے تو یہ قوم کی بہت بڑی عزت ہے کہ ایسا دلیر سپاہی ہے جس نے فرنٹ سے لیڈ کیا۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کا وفد پاکستان کی تعریف کررہا ہے کہ آپ نے بڑی محنت سے معیشت کو دوبارہ مستحکم کیا ہے، مگر اصل تعریف اس وقت ہوگی جب یہ قوم قرضوں سے چھٹکارا حاصل کرے گی اور ایک فولادی قوم بنے گی، اور دن رات محنت کے ذریعے یہ ہدف حاصل کیا جاسکتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا شہدا کے ورثا کو ایک کروڑ روپے اور زخمیوں کو دس لاکھ سے بیس لاکھ روپے کے چیک دیے گئے ہیں، اور بہت جلد باقی تمام کو بھی دے دیے جائیں گے، افواج پاکستان کے شہدا کو رینک کے حساب سے ایک کروڑ سے لے کر ایک کروڑ 80 لاکھ روپے ادا کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان کے شہدا کے ورثا کو گھر کی سہولت کے لیے عہدے کے لحاظ سے ایک کروڑ 90 روپے سے لے کر چار کروڑ 20 لاکھ روپے دیے جائیں گے، شہدا کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ تک ان کی تنخواہ مع الاوٴنسز جاری رہے گی، شہدا کے بچوں کو گریجویشن تک مفت تعلیم مہیا کی جائے گی، شہدا کی بیٹیوں کی شادی کے لیے دس لاکھ روپے کی میرج گرانٹ دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان کے زخمیوں کو بیس لاکھ روپے سے لے کر پچاس لاکھ روپے تک ادا کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ہر حکومت نے کشمیریوں کی آزادی کے لئے آواز اٹھائی اور سفارتی سطح پر ہر طرح ساتھ دیا، چوبیس کروڑ عوام کی دعائیں کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ ہیں جو دہائیوں سے بے پناہ ظلم برداشت کررہے ہیں۔انہوں کہا کہ جب تک کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا حق خود ارادیت نہیں مل جاتا پاکستان ان کا ساتھ دیتا رہے گا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوے انجنئیر امیر مقام نے کہا آزاد کشمیر کے لوگ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ آزادکشمیر میں بھارتی جارحیت سے لوگوں کے گھروں کو نقصان پہنچا جس کا ہم ازالہ کریں گے ۔ پوری قوم نے متحد ہو کر مکار دشمن کا مقابلہ کیا ۔ انہوں نے کہا پاک فضائی نے بھارتی طیارے مار گعرا کر دشمن کا غرور خا ک میں ملا دیا ۔
بھارتی جارحیت کے خلاف عوام کا جذبہ بے مثال تھا ۔ ہم شہدا کے لواحقین کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ اس موقع پر وزیر اعظم آزاد کشمیر انوارالحق کاکڑ نے کہا پوری قوم کی دعاوں سے معرکہ حق میں کامیابی ملی ۔ بھارت مکار دشمن ہے تاہم اب وہ جارحیت کی دوبارہ جرات نہیں کر ے گا ۔ انہوں نے کہا پہلگام فالس فلیگ کے بعد بھارت نے کشمیریوں کے خلاف مظالم بڑھا دئیے ہیں ۔ آپریشن فالس میں تین ہزار سے زائد کشمیریوں کو لاپتہ کر دیا گیا ہے ۔ کشمیریوں کے گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے ۔ وادی میں حقو ق انسانی کی بد ترین خلاف ورزیاں جاری ہیں ۔ انہوں نے کہا شہدا کے لئے ایک کروڑ اور زخمیوں کے لئے بیس لاکھ دینے پر وزیر اعظم پاکستان کا مشکور ہوں ۔ آ زادکشمیر حکومت کی تو اتنی استعداد نہیں تھی کہ شہدا کے لئے اس لیول پر جا کر کچھ کر سکتے ۔ انہوں نے کہا ابھی چیلنجز کی ابتدا ہے ۔ پراکسیز سے بھارت پاکستان اور کشمیر میں خون بہانے سے باز نہیں آئے گا ۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کی جنگ کسی بھی لمحے انتہائی خطرناک رخ اختیار کرسکتی تھی، جس کے نتائج بہت بھیانک ہوسکتے تھے۔انہوں نے کہا کہ پہلگام کا واقعہ افسوسناک تھا، بھارت نے اس کی آڑ میں پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات کی بوچھاڑ کردی، ہم نے اس کے خلاف پوری دنیا کو باور کروایا کہ یہ جھوٹا اور بے بنیاد الزام ہے، اور یہ سازش کا حصہ ہے جو خطے کے امن کو تباہ و برباد کرسکتا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے کہا کہ پاکستان اس واقعے کی عالمی تحقیقات کے لیے تیار ہیں، مگر بھارت نے اس پر راضی ہونے کے بجائے پاکستان پر حملہ کردیا، بھارت نے نہتے پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنایا مگر ہم نے جوابی کارروائی میں بھارت کے شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا، اور ان کے 6 جہاز گرائے اور الفتح میزائلوں سے چھٹی کا دودھ یاد دلادیا مگر ہندوستان باز نہیں آیا اور اس نے حملے جاری رکھے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے بیشتر ممالک اس بات پر متفق تھے کہ پاکستان حق پر ہے، بھارت اس غرور میں تھا کہ کہ دنیا کی طاقتیں اس کے ساتھ کھڑی ہوجائیں گی مگر بھارت کے دوست غیرجانبدار ہوگئے اور جو پہلے ہی غیرجانبدار تھے وہ پاکستان کے ساتھ ہوگئے۔
وزیراعظم نے کہا کہ 9 مئی کی رات کو ہم نے بھارت پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا، سپہ سالار نے فون پر مجھ سے کہا کہ دشمن کو ایسا زوردار تھپڑ لگایا جائے کہ وہ قیامت تک یاد رکھے، اس کے نتیجے میں پھر آپ نے دیکھا کہ پٹھان کوٹ سے لے کر بھارت کا کوئی بھی ایئرپورٹ ہمارے شاہینوں اور الفتح میزائلوں کی رینج سے باہر نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ پھر صبح 9 بجے مجھے سپہ سالار کا فون آیا کہ بھارت جنگ بندی یعنی گھٹنے ٹیکنے کے لیے تیار ہے، یہ ہے وہ تاریخ جو پاکستان کی افواج نے اپنے خون سے رقم کی ہے، اب مودی سرکار پاکستان پر حملہ آور ہونے سے پہلے سو مرتبہ سوچے گی، کیونکہ اسے پتا چل گیا ہے کہ ہماری افواج پوری طرح تیار ہیں، ان چار دنوں میں بھارت کو جو سبق سکھایا گیا میری نظر میں 1971 کی شکست کا بدلہ لے لیا گیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ اس جنگ نے یہ ابہام غلط ثابت کردیا کہ پاکستان روایتی جنگ میں بھارت سے پیچھے رہ گیا ہے، ہمیں اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی ضرورت پیش نہیں آئی۔انہوں نے مزید کہا کہ جنگ میں فتح کی صورت میں اللہ نے ہمیں عزت دی مگر یہ عزت ان شہدا ، ان غازیوں کی مرہون منت ہے جنہوں نے پاکستان اور بھارت کے حملے سے نہ صرف بچایا بلکہ دشمن کو ایک ایسا سبق سکھایا جو وہ کبھی بھلا نہیں پائے گا۔انہوں نے کہا کہ پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح متحد تھی، یہ اتحاد وہ دولت ہے جو کسی بھی قوم کو نصیب ہوجائے تو بڑی سے بڑی مشکل آسان ہوجاتی ہے،
ہم نے اسی اتحاد اور اتفاق کی طاقت سے معاشی ترقی میں آگے بڑھنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر آج قوم نے چیف آف آرمی اسٹاف کو فیلڈ مارشل کا خطاب دیا ہے تو یہ قوم کی بہت بڑی عزت ہے کہ ایسا دلیر سپاہی ہے جس نے فرنٹ سے لیڈ کیا۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کا وفد پاکستان کی تعریف کررہا ہے کہ آپ نے بڑی محنت سے معیشت کو دوبارہ مستحکم کیا ہے، مگر اصل تعریف اس وقت ہوگی جب یہ قوم قرضوں سے چھٹکارا حاصل کرے گی اور ایک فولادی قوم بنے گی، اور دن رات محنت کے ذریعے یہ ہدف حاصل کیا جاسکتا ہے۔وزیراعظم نے شہدا کے ورثا کو ایک کروڑ روپے اور زخمیوں کو دس لاکھ سے بیس لاکھ روپے کے چیک دیے گئے ہیں، اور بہت جلد باقی تمام کو بھی دے دیے جائیں گے، افواج پاکستان کے شہدا کو رینک کے حساب سے ایک کروڑ سے لے کر ایک کروڑ 80 لاکھ روپے ادا کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان کے شہدا کے ورثا کو گھر کی سہولت کے لیے عہدے کے لحاظ سے ایک کروڑ 90 روپے سے لے کر چار کروڑ 20 لاکھ روپے دیے جائیں گے، شہدا کی یٹائرمنٹ کی تاریخ تک ان کی تنخواہ مع الانسز جاری رہے گی، شہدا کے بچوں کو گریجویشن تک مفت تعلیم مہیا کی جائے گی، شہدا کی بیٹیوں کی شادی کے لیے دس لاکھ روپے کی میرج گرانٹ دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان کے زخمیوں کو بیس لاکھ روپے سے لے کر پچاس لاکھ روپے تک ادا کیے جائیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی ہر حکومت نے کشمیریوں کی آزادی کے لییآواز اٹھائی اور سفارتی سطح پر ہر طرح ساتھ دیا، چوبیس کروڑ عوام کی دعائیں کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ ہیں جو دہائیوں سے بے پناہ ظلم برداشت کررہے ہیں۔انہوں کہا کہ جب تک کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا حق خود ارادیت نہیں مل جاتا پاکستان ان کا ساتھ دیتا رہے گا۔
Comments are closed.