اسلام آباد (آن لائن) پی ٹی آئی رہنماوٴں نے ایران پر اسرائیل کے حالیہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اپوزیشن رہنماوٴں نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر عرب لیگ اور او آئی سی کا ہنگامی اجلاس بلا کر جنگ بندی کے لیے مشترکہ حکمت عملی مرتب کی جائے۔پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے دیگر رہنماوں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے غیر قانونی طور پر ایران پر حملہ کیا، حالانکہ ایران کی عالمی برادری کے ساتھ پانچ میٹنگز ہوچکی تھیں۔ یہ حملہ نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ خطے کے امن کو سبوتاڑ کرنے کی کوشش بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے اور پی ٹی آئی ایران کی حمایت جاری رکھے گی۔اس موقع پر اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا کہ ایران پر حملہ دراصل ایک دہشتگردانہ حملہ ہے، جس میں ایران کی لیڈر شپ کو نشانہ بنایا گیا۔ قیادت ہی جنگ بندی میں کردار ادا کرتی ہے
، اور اسے نشانہ بنانا خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف لے جا سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس جنگ کے عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے، کیونکہ دنیا کا بڑا حصہ تیل کے لیے مشرقِ وسطیٰ پر انحصار کرتا ہے اور عالمی ذخائر صرف بارہ دن کا بوجھ برداشت کر سکتے ہیں۔ علامہ راجہ ناصر عباس نے اسرائیل کو امریکی سرپرستی میں ملوث قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اکیلا یہ حملہ نہیں کر سکتا، اسے امریکا کی طرف سے اشارہ ملا ہے۔ ایران ایٹم بم نہیں بنا رہا بلکہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے، اور یہی بات دشمن قوتوں کو برداشت نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی عوام ہمیشہ مظلوموں کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔ اور ہمیں یہ بھی علم ہے کہ ایران کے بعد اگلا ہدف پاکستان ہو سکتا ہے ۔ اپوزیشن رہنماوٴں نے عالمی برادری خصوصاً چین، روس، او آئی سی اور عرب ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کریں تاکہ جنگ کے پھیلاوٴ کو روکا جا سکے اور خطے میں پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔
Comments are closed.