آئین پر یقین رکھنے والوں سے درخواست کرتے ہیں کہ اس ملک کے بارے میں کچھ سوچا جائے‘محمود خان اچکزئی

اسلام آباد(آن لائن) تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے‘ ہم آئین اور جمہوریت پر یقین رکھنے والے ہیں اور ملک میں جمہوریت کی بحالی کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔جمعرات کو اسلام آباد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہاکہ ہم نے کوشش کی کہ محرم الحرام کے دنوں میں سیاست بازی سے گریز کریں کیونکہ ہم نے بار بار کہا تھا کہ پاکستان کی حالت ٹھیک نہیں ہے اور اس حالت میں ہم ملک کو امتحان میں نہیں ڈال سکتے ہیں انہوں نے کہاکہ جس انداز میں بانی پی ٹی آئی کی سیٹیں چھین کر بندر بانٹ کی طرح دیگر جماعتوں کو دے رہے ہیں یہ کسی طور بھی آئینی اقدام نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے پاکستان کی قربانی دے دی اور بڑی مشکل سے 1973 کا آئین بنا۔ انہوں نے کہاکہ بھٹو کے سیاسی رویے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر ایک بات کے معترف ہیں کہ انہوں نے آئین دیا ہے

انہوں نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی سے اختلاف ہوگا مگر اس کی پارٹی نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی باوجود اس کہ اس پارٹی سے نشان چھین لیے گئے اورجو ڈرامہ ہوا سب کے سامنے ہے انہوں نے کہاکہ شہباز شریف کہتا ہے کہ میں دہشت گردی کا مخالف ہوں حالانکہ یہ حکومت دہشتگردی کی بنیاد پر بنی ہے اور کروڑوں لوگوں کے حق کو مار کر یہ حکومت قائم ہوئی ہے انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ کے اندر سے منتخب نمائندوں کو گرفتار کیا گیا ہے جو اس وقت ملک میں ہو رہا ہے اس پر ہم چپ نہیں بیٹھ سکتے ہیں اس ملک میں آئین کی پامالی ہو رہی ہے، ووٹ کا احترام نہیں کیا جا رہا، کرپشن عام ہے نیچے سے اوپر تک تمام کرپشن کررہے ہیں انہوں نے کہاکہ کچھ ممالک میں کرپشن کی سزا موت ہے، ہم موت کی سزا نہیں چاہتے مگر کچھ نا کچھ سزا تو ہونی چاہیے ہم آئین پر یقین رکھنے والوں سے درخواست کرتے ہیں کہ اس ملک کے بارے میں کچھ سوچا جائے۔ انہوں نے کہاکہ یہودیوں کو جنہوں نے مارا تھا ان کو آج بھی یہودی ڈھونڈ ڈھونڈ کر سزا دے رہے ہیں انہوں نے کہاکہ فلسطینیوں کے قتل عام کے بدلے میں نینتن یاہو کو عالمی دہشت گرد قرار دینا چاہیے تھا انہوں نے کہاکہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری تھے اس دوران ہی اس پر حملہ کردیا گیا

ایران میں درجن بھر لوگوں کو مار دیا گیا جب ایران نے جوابی کارروائی کی تو امریکہ بیچ میں کود پڑاانہوں نے کہاکہ یہ ایک دوسرے کو گالیاں دینے کا نہیں ہے، اس وقت متحد ہونے کی ضرورت ہے انہوں نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کو کسی سے ملنے نہیں دیا جاتا ہے فیملی کے ممبران اور ایم این ایز اڈیالہ کے باہر انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں انہوں نے کہاکہ تحریکِ تحفظ آئین پاکستان پورے پاکستان سے درخواست کرتی ہے کہ پاکستان میں ایک تحریک کا آغاز کیا جائے جس میں ادارے آزاد ہوں انہوں نے کہاکہ قومی حکومت بنانے کیلئے میں شہباز شریف سے مذاکرات کے لیے تیار ہوں اس کے علاہ اس حکومت سے مذاکرات نہیں ہوسکتے ہیں انہوں نے کہاکہ چار ہزار لوگ اس وقت قیدی ہیں، وہ اپنے حقوق کے لیے باہر آئے تھے مگران کے خلاف بغاوت کے مقدمات درج کئے گئے انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ نے فیصلہ کیا اور اب سیٹیں بانٹ رہے ہیں سب نے سیٹوں کے لیے جھولی پھیلائی ہوئی ہے انہوں نے کہاکہ افغانستان سے مذاکرات کے وقت اگر افغانستان کہے کہ وہ باز نہ آئے تو اس کے ہاتھ باندھ دو اگر افغانستان کہتا ہے کہ مجھے بھی جینے دو خود بھی جیو تو پھر امن کی بات کریں پاکستان کو اپنے ہمسایوں کے ساتھ پر امن ہوکر رہنا چاہیے انہوں نے کہا کہ کہا جاتا ہے پاکستان اسلام قلعہ ہے، میں یہ کہوں گا کہ پاکستان کے اس قلعے میں اسلام قید ہے دنیا کی رپورٹ ہے کہ پاکستان میں47 فیصد لوگ غربت کی لکیر تک پہنچے ہوئے ہیں

انہوں نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کا جیل میں رہنا غلط ہے دنیا میں قاتل سمیت سب مجرموں کو اپنے بچوں سے ملنے کی اجازت ہوتی ہے مگر بانی پی ٹی آئی کو کسی سے بھی نہیں ملنے دیا جاتا ہے انہوں نے کہاکہ اگر آپ بلوچوں کو کہیں کہ اس جگہ پر پیدا ہونے والے بچے کا ان وسائل پر پہلا حق ہے تب ادھر کے حالات دیکھیں کیسے ٹھیک ہوتے ہیں انہوں نے کہاکہ اگر وزیرستان، سوات کے لوگوں کو حق دیا جائے گا تو حالات اچھے ہونگے دوسروں کے لیے اپنی عوام کو مروانا اور ان کے ساتھ لڑنا غلط ہے۔اس موقع پر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ نیتن یاہو نے پہلے شام پر حملہ کیا اب ایران پر حملہ کررہا ہے پاکستان ایران کا ہمسایہ ملک ہے اس کا اثر اس پر بھی پڑے گا رول آف لا کی دھجیاں بکھیری جا رہی ہیں غلط فہمی ہے کہ امریکہ ہمارے لیے اپنی نیشنل انٹرسٹ کمپرومائز کرے گا امریکہ، یورپ اخلاقی طور پر گر چکا ہے ہم جس خطے میں رہتے ہیں ہمیں اپنے ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھنے چاہئیں فارن پالیسی کے حوالے سے پارلیمنٹ میں فیصلے ہوسکتے ہیں عوام کے منتخب نمائندے ہی فارن پالیسی پر کام کرسکتے ہیں پاکستان کی عوام کا اعتماد ختم کردیا گیا ہے،الیکشن چھین لیے جاتے ہیں جب سارے راستے بند ہو جائیں تو عوام کے پاس ایک ہی راستہ بچا ہے اٹھیں اور سسٹم کو گرا دیں پاکستان اس وقت خطرناک صورتحال کا شکار ہے ہوش کے ناخن لیے جائیں اور پاکستان کی حفاظت کی جائے۔۔۔۔۔اعجاز خان

Comments are closed.