ٹرمپ کا نیا معاشی دھماکہ، ٹیکس میں تاریخی کمی، اخراجات میں زبردست کٹوتی اور سرحدی سیکیورٹی کا بڑا منصوبہ قانون بن گیا
واشنگٹن(آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 4 جولائی کو یومِ آزادی کے موقع پر وہ قانون منظور کر دیا جسے وہ اپنی صدارت کے دوسرے دور کا تاریخی سنگِ میل قرار دے رہے ہیں۔ یہ جامع بل ٹیکس میں بڑی کٹوتی، وفاقی اخراجات میں واضح کمی اور سرحدی سیکیورٹی کے لیے ریکارڈ فنڈنگ پر مشتمل ہے۔ وائٹ ہاوٴس میں ہونے والی خصوصی تقریب میں انہوں نے اس قانون پر دستخط کیے، جسے امریکا کی تاریخ کا سب سے بڑا مالیاتی و حفاظتی پیکج کہا جا رہا ہے۔ تقریب میں خفیہ بمبار طیاروں اور جدید لڑاکا جیٹوں کی فلائی پاسٹ بھی شامل تھی، جنہیں حالیہ ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں میں استعمال کیا گیا تھا۔ اس موقع پر سینکڑوں ٹرمپ حامی، کانگریس اراکین، فوجی اہلخانہ اور حکومتی افسران موجود تھے۔ 2017 میں کیے گئے ٹیکس میں عارضی ریلیف کو مستقل حیثیت دے دی گئی
، جس سے بالخصوص کارپوریشنز اور اعلیٰ آمدن والے افراد کو بڑا فائدہ پہنچے گا۔ سوشل سیکورٹی، میڈی کیئر اور میڈی کیڈ جیسے بنیادی فلاحی پروگراموں کے بجٹ میں نمایاں کٹوتی کی گئی ہے۔ میکسیکو سرحد پر دیوار کی توسیع، جدید پیٹرولنگ سسٹم اور اضافی فورسز کی تعیناتی کے لیے اربوں ڈالر کی منظوری دی گئی ہے۔ایوانِ نمائندگان میں بل صرف 4 ووٹوں کے فرق سے، 214 کے مقابلے میں 218 ووٹوں سے منظور ہوا۔ تمام ڈیموکریٹس نے بل کی مخالفت کی،
جبکہ صرف دو ریپبلکن ارکان نے اختلاف کیا۔ ڈیموکریٹ لیڈر حکیم جیفریز نے ایوان میں 8 گھنٹے 46 منٹ طویل خطاب میں اس قانون کو امیر طبقے کے لیے تحفہ اور عام امریکیوں پر ظلم قرار دیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ امریکا کی تاریخ کا سب سے بڑا ٹیکس کٹ، سب سے بڑی اخراجاتی کمی، اور سب سے بڑی سرحدی سیکیورٹی سرمایہ کاری ہے۔ میں نے کبھی امریکی عوام کو اتنا خوش نہیں دیکھا،۔ انہوں نے ہاوٴس اسپیکر مائیک جانسن اور سینیٹ لیڈر جان تھون کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے بل کی منظوری کو یقینی بنایا۔
Comments are closed.